’جنون باقی ہے اسی لیے رنز بنارہا ہوں‘

Image caption مصباح الحق نے سنہ 2013 میں کھیلے گئے 34 ایک روزہ بین الاقوامی میچوں میں 1,373 رنز بنائے ہیں

سنہ 2013 میں ایک روزہ میچوں کے کامیاب ترین بلے باز مصباح الحق کا کہنا ہے کہ کھیل سے ان کا جنون ابھی ختم نہیں ہوا ہے اور یہی جنون انھیں بہتر سے بہتر کارکردگی دکھانے کا حوصلہ دے رہا ہے۔

مصباح الحق نے سنہ 2013 میں کھیلے گئے 34 ایک روزہ بین الاقوامی میچوں میں 1,373 رنز بنائے ہیں جو اس سال دنیا کے کسی بھی بلے باز کے ایک روزہ میچوں میں سب سے زیادہ رنز ہیں۔

مصباح الحق کے رنز میں ایک بھی سنچری شامل نہیں لیکن اس کے باوجود 15 نصف سنچریاں بنا کر انھوں نے کیلنڈر سال میں سب سے زیادہ ایک روزہ نصف سنچریوں کا نیا عالمی ریکارڈ بھی قائم کیا ہے جو اس سے پہلے سچن تندولکر اور گیری کرسٹن کی 13 نصف سنچریوں کا تھا۔

مصباح الحق نے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں مستقل مزاجی سے سکور کرنے کی عادت کے بارے میں کہا کہ جب آپ پر تنقید ہوتی ہے تو اگر کھیل سے آپ کا جنون باقی ہے اور آپ سمجھتے ہیں کہ پرفارمنس دے سکتے ہیں تو اس تنقید کو آپ چیلنج کے طور پر قبول کرتے ہیں لیکن اگر جنون اور جوش ختم ہوچکا ہو تو پھر تنقید حوصلے پست کردیتی ہے۔

مصباح الحق نے کہا کہ انھوں نے اپنے اوپر تنقید کو اسی لیے چیلنج سمجھا کیونکہ ان میں ابھی بھی کرکٹ سے جنون باقی ہے اور وہ اپنی محنت اور کارکردگی سے تنقید کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔

مصباح الحق کے مطابق اس عمر اور مرحلے پر آپ غیرمعمولی کارکردگی دکھا کر ہی ٹیم میں جگہ برقرار رکھ سکتے ہیں اوسط درجے کی کارکردگی سے بچاؤ ممکن نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ ان کی یہ کارکردگی مزید بہتر ہوسکتی تھی لیکن مشکل صورت حال میں وہ اپنی اس کارکردگی سے بھی خوش ہیں۔

اعدادوشمار کے اعتبار سے یہ بلاشبہ ان کے کیریر کی اب تک کی سب سے بہترین کارکردگی ہے۔

واضح رہے کہ مصباح الحق نے اس سال سات ٹیسٹ میچوں میں 570 رنز بنائے ہیں جبکہ سنہ 2013 کا ایک ٹیسٹ میچ ابھی باقی ہے۔

مصباح الحق نے کہا ’سنہ 2013 پاکستانی ٹیم کے لیے بہت مشکل سال ثابت ہوا۔ اس کی وجہ بلے بازوں کی کارکردگی میں مستقل مزاجی کا فقدان تھا۔ جنوبی افریقہ میں کھیلی گئی ٹیسٹ سیریز میں ٹیم بہت زیادہ دباؤ میں رہی جس کے اثرات چیمپئنز ٹرافی میں بھی دیکھنے میں آئے تاہم بعد میں ٹیم نے کلک کیا اور جنوبی افریقہ کو ابوظہبی ٹیسٹ میں شکست دی اور پھر جنوبی افریقہ میں ون ڈے سیریز بھی جیتی۔

مصباح الحق کے خیال میں کرکٹرز خاص کر بلے بازوں میں پختگی اسی وقت آئے گی جب پاکستانی ٹیم زیادہ سے زیادہ ٹیسٹ میچ کھیلے گی جو اس وقت وہ نہیں کھیل پا رہی ہے۔

پاکستانی کپتان نے آف سپنر سعید اجمل کی کارکردگی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ چند برسوں سے سعید اجمل نے پاکستانی بولنگ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ وہ ایک ورلڈ کلاس بولر ہیں جن پر ٹیم تینوں فارمیٹ میں بہت زیادہ انحصار کرتی ہے۔ وہ ایک سپیشل بولر ہیں۔

سعید اجمل نے سنہ 2013 میں کھیلے گئے ایک روزہ میچوں میں 62 وکٹیں حاصل کی ہیں جو اس سال دنیا کے کسی بھی بولر کی سب سے بہترین کارکردگی ہے ۔وہ اس سال تینوں فارمیٹ میں وکٹوں کی سنچری بھی مکمل کرچکے ہیں۔

اسی بارے میں