سرجری کے بعد ’شوماکر کی حالت میں بہتری‘

Image caption کوما کی حالت میں شوماکر کے درجۂ حرارت کو کم رکھا گیا ہے اور ان کے میٹابولزم کی رفتار کو کم کیا گیا ہے

فارمولا ون کے سات بار چیمپیئن رہنے والے جرمنی کے ریسر مائیکل شوماکر کے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ان کی حالت بہتر ہو رہی ہے۔

ڈاکٹروں نے بتایا ہے کہ شوماکر کی کھوپڑی کے اندر ان کے دماغ پر دباؤ کم کرنے کے لیے آپریشن کیا گیا جس کے بعد ان کی حالت بہتر ہوئی۔

یاد رہے کہ گذشتہ شب اہل خانہ کو ہسپتال میں ان کے قریب بلا لیا گیا۔ شوماکر کی مینیجر نے کہا تھا کہ گرینوبل ہسپتال میں موٹر ریسنگ چیمپئن کی بیوی كورینا، بیٹی گينا ماریا اور فرزند مک ان کے قریب ہیں۔

44 سالہ شوماکر اتوار کے روز فرانس کے الپائن ریزارٹ میربل میں سکیئنگ کے دوران حادثے کا شکار ہو گئے تھے۔

ان کے دماغ پر دباؤ کم کرنے کے لیے انہیں ہسپتال میں بے ہوشی کی حالت میں رکھا گیا۔

ان کے مینیجر نے نامہ نگاروں سے کہا: ’یہ فطری بات ہے کہ ان کے خاندان کو شدید صدمہ پہنچا ہے۔‘

گرینوبل یونیورسٹی ہسپتال کی انتہائی نگہداشت والے شعبے آئی سی یو کے پروفیسر ژان فرینکو پایاں نے کہا تھا: ’ان کی حالت ہنوز نازک ہے۔ ہم ان پر مسلسل نظر رکھے رہے ہیں۔‘

انہوں نے کہا: ’اگر شوماکر نے ہیلمیٹ نہ پہنا ہوتا تو وہ یہاں تک نہیں پہنچ پاتے۔ ان کے دماغ میں خون کا دباؤ کم کرنے کے لیے ہمیں فوری طور پر ان کا آپریشن کرنا پڑا۔‘

نيوروسرجن سٹیفن كابارڈے نے کہا کہ آپریشن کے بعد کیے جانے والے سکین سے پتہ چلا ہے کہ ان کے دماغ کے دونوں جانب جمع خون اب صاف ہو گیا ہے۔

گرینوبل میں موجود بی بی سی کی ایموگن فالکیز کا کہنا ہے کہ ایسے حادثے کے شکار کئی لوگ زندگی کی جنگ جیتنے میں کامیاب رہے ہیں۔

ان کے مطابق مریض کی حالت کو معمول پر لانے کے لیے انھیں کئی ہفتوں تک کوما کی حالت میں رکھا جا سکتا ہے جبکہ اس کے بعد مہینوں علاج جاری رہ سکتا ہے۔

کوما کی حالت میں ان کے درجۂ حرارت کو کم رکھا گیا ہے اور ان کے میٹابولزم کی رفتار کو کم کیا گیا ہے۔

اس سے قبل گذشتہ روزگرینوبل میں ہسپتال کے ڈاکٹرز کے ایک بیان کے مطابق کو شوماکر کو جب ہسپتال لایا گیا تو وہ کومے میں تھے اور فوری طور پر نیوروسرجنز کے آپریشن کی ضرورت تھی۔ فرانس کے ایک بہترین ڈاکٹر کو ہسپتال میں بلایا گیا ہے۔

جرمنی سے تعلق رکھنے والے 44 سالہ شوماکر کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے موٹریز کے ہسپتال پہنچایا گیا اور ابتدائی طبی امداد کے بعد گرینوبل منتقل کر دیا گیا۔

شوماکر کا ہسپتال میں طبی معائنہ کیا جا رہا ہے اور وہاں ان کی اہلیہ اور تین بچے بھی موجود ہیں۔

فرانس اور جرمنی کی میڈیا کے مطابق شوماکر کا رات کو دوسری بار آپریشن کیا گیا۔

Image caption شوماکر 19 سالہ کیرئیر میں 91 کار ریس مقابلوں کے فاتح رہے

جرمنی کے جریدے بلڈ میں شائع ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شوماکر کی طبیعت زیادہ بگڑ گئی تھی جس کے باعث ڈاکٹروں نے ان کے کھوپڑی میں سوراخ کیے تاکہ دماغ پر پڑنے والے دباؤ کو کم کیا جاسکے۔

تفریحی مقام میربیل کے ڈائریکٹر کرسٹوفر جرنگنون کے مطابق حادثے میں شوماکر’ہل گئے تھے لیکن ہوش میں رہے۔‘

ریڈیو مونٹی کارلو سپورٹس سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ’ شوماکر نے ہیلمٹ پہن رکھا تھا اور ان کا سر ایک چٹان سے ٹکرایا۔‘

اتوار کو شوماکر اپنے 14 سالہ بیٹے اور دیگر افراد کے ساتھ سکیئنگ کر رہے تھے کہ حادثے کا شکار ہو گئے۔

حادثے کے بعد سکیئنگ کی نگرانی کرنے والے دو کارکنوں نے انھیں طبی امداد فراہم کی اور بعد میں انھیں قریبی ہسپتال منتقل کرنے کے لیے ہیلی کاپٹر طلب کیا۔

شوماکر کی خاتون ترجمان نے کہا ہے کہ’ آپ اس بات کو سمجھیں کہ ہم شوماکر کی صحت کے بارے میں مسلسل آگاہ نہیں کر سکتے ہیں۔‘

شوماکر سات بار فارمولا ون کار ریسنگ چیمپیئن رہ چکے ہیں اور اس کے علاوہ 19 سالہ کیرئیر میں 91 کار ریس مقابلوں کے فاتح رہے۔

مائیکل شوماکر نے فارمولا ون ریسنگ میں قدم 1991 میں کیا اور جلد ہی اپنا سکہ منوایا۔

انہوں نے اپنا سب سے پہلا ٹائٹل 1994 میں جیتا جب وہ بینیٹن کی ٹیم میں شامل تھے۔ اگلے ہی سال فراری ٹیم میں ہوتے ہوئے انہوں نے دوسرا ٹائٹل جیتا۔ اس کے ساتھ ان کا شمار ریسنگ کی دنیا کے عظیم ترین افراد میں ہونے لگا۔

سنہ 2000 سے وہ پانچ سال لگاتار مقابلوں میں فاتح ٹھہرے۔

شوماکر نے سنہ 2006 میں ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا لیکن 2010 میں وہ دوبارہ دنیا کے تیز ترین کھیل میں واپس آئے اور اس بار وہ مرسیڈیز کی ٹیم میں شامل تھے۔

لیکن جیت ان کے مقدر میں نہیں تھی اور وہ 2012 میں ایک بار پھر لیکن حتمی طور پر ریسنگ سے ریٹائر ہو گئے۔

ریسنگ ٹریک پر شوماکر کو جارحانہ ڈرائیور کے طور پر جانا جاتا ہے۔

اسی بارے میں