پاکستان ٹیسٹ سیریز جیتنے کے لیے پرامید

Image caption سری لنکا کے خلاف ون ڈے سیریز میں زبردست بیٹنگ فارم محمد حفیظ کو ٹیسٹ ٹیم میں بھی واپس لے آئی ہے

پاکستان اور سری لنکا کے درمیان تین ٹیسٹ میچوں پر مشتمل سیریز کا آغاز کل سے متحدہ عرب امارات میں ہو رہا ہے۔

دونوں ٹیموں کے درمیان پہلا ٹیسٹ میچ کل سے ابوظہبی میں کھیلا جائے گا۔

دوسرا ٹیسٹ آٹھ جنوری سے دبئی میں اور تیسرا ٹیسٹ 16 جنوری سے شارجہ میں ہوگا۔

میچ کا تفصیلی سکور کارڈ

پاکستانی کرکٹ ٹیم مصباح الحق کی قیادت میں سری لنکا کے خلاف ایک روزہ میچوں کی سیریز تین دو سے جیت چکی ہے۔

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق پاکستانی ٹیم کو متحدہ عرب امارات میں کھیلے جانے والے گذشتہ دس ٹیسٹ میچوں میں سے صرف ایک میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق کا کہنا ہے کہ سری لنکا کو ٹیسٹ سیریز میں مہیلا جے وردھنے اور لیفٹ آرم سپنر رنگانا ہیراتھ کی خدمات حاصل ہوں گی۔

رنگانا ہیراتھ اپنی والدہ کی علالت کے باعث پاکستان کے خلاف ایک روزہ میچوں پر مشتمل سیریز کھیل نہیں پائے تھے جب کہ مہیلا جے وردھنے اپنے بچے کی پیدائش کی وجہ سے رخصت پر تھے۔

مصباح الحق کے مطابق سری لنکا ٹیسٹ کرکٹ کی بہترین ٹیموں میں سے ایک ہے اور اس کے خلاف آپ کو اپنی بہترین ٹیم کے ساتھ کھیلنا پڑتا ہے۔

انھوں نے پیر کو ایک انٹرویو میں کہا: ’پاکستان کے پاس ایسے بولرز ہیں جو مخالف ٹیم کو چیلنج کر سکتے ہیں اور مجھے یقین ہے کہ ہم سری لنکا کے خلاف اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے۔‘

پاکستان کو سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں دو سپن بولروں سعید اجمل اور عبدالرحمٰن کی خدمات حاصل ہوں گی۔

ان دونوں بولروں نےگذشتہ برس انگلینڈ کو متحدہ عرب امارات میں کھیلی جانے والی سیریز میں تین صفر سے شکست دینے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم سری لنکا کو ٹیسٹ سیریز میں شکست دے کر اپنے موجودہ کوچ ڈیوڈ واٹمور کو جیت کا تحفہ دے کر رخصت کرنا چاہتی ہے۔

ڈیوڈ واٹمور کی پاکستان ٹیم کی بحیثیت کوچ یہ آخری سیریز ہے۔

واٹمور گزشتہ سال مارچ میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کوچ مقرر کیے گئے تھے لیکن بحیثیت کوچ وہ ابھی تک ٹیسٹ سیریز نہیں جیت پائے ہیں۔

Image caption عمر گل ٹیسٹ کرکٹ میں 163 اور ایک روزہ میچوں میں 168 وکٹ حاصل کر چکے ہیں

واٹمور کی کوچنگ میں پاکستانی ٹیم سری لنکا اور جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیسٹ سیریز ہار چکی ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے لیے فاسٹ بولر عمرگل کو ٹیم میں شامل کیا ہے تاہم مصباح اس بات سے پوری طرح متفق نہیں ہیں کہ عمر گل گھٹنے کے آپریشن کے بعد مکمل طور پر فٹ ہیں۔

مصباح کے مطابق ہم عمر گل کی فٹنس کا جائزہ لے رہے ہیں تاہم میں اس حوالے سے کچھ زیادہ نہیں کہہ سکتا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے فاسٹ بولر عمرگل کی گھٹنے کے آپریشن کے بعد ون ڈے سیریز میں قابل ذکر کارکردگی کو دیکھتے ہوئے انھیں ٹیسٹ ٹیم میں بھی شامل کیا تھا۔

پاکستان کرکٹ کے سابق فاسٹ بولر وقار یونس بھی عمر گل کی فٹنس کے حوالے سے مطمئن نہیں ہیں۔ وقار یونس کا کہنا ہے کہ عمر گل کو مکمل طور پر فٹ ہونے کے لیے مناسب وقت دیا جانا چاہیے تھا۔

انھوں نے کہا ’عمرگل کو ٹیسٹ کرکٹ کے لیے مکمل طور پر فِٹ ہونے کے لیے مناسب وقت دیا جانا چاہیے اور انھیں ٹیسٹ ٹیم میں واپس آنے سے پہلے ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنی چاہیے تھی۔ ‘

پاکستان کے فاسٹ بولر عمر گل ٹیسٹ کرکٹ میں 163 اور ایک روزہ میچوں میں 168 وکٹ حاصل کر چکے ہیں۔

سری لنکا کے خلاف ون ڈے سیریز میں زبردست بیٹنگ فارم محمد حفیظ کو ٹیسٹ ٹیم میں بھی واپس لے آئی ہے۔

محمد حفیظ نے سری لنکا کے خلاف ون ڈے سیریز کے چار میچز میں تین سنچریاں سکور کی ہیں۔

وہ ٹیسٹ میچوں میں مایوس کن کارکردگی کے سبب جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیسٹ سیریز سے ڈراپ کر دیے گئے تھے۔

فاسٹ بولر محمد طلحہ ڈومیسٹک کرکٹ کی عمدہ کارکردگی کی بنا پر سلیکٹرز کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

سلیکٹرز نے اظہرعلی کو ٹیم میں برقرار رکھا ہے جو اس سال ٹیسٹ میچز میں خاطرخواہ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے میں ناکام رہے ہیں اور 14 اننگز میں صرف دو نصف سنچریاں سکور کرسکے ہیں۔

وکٹ کیپنگ میں سلیکٹرز نے عدنان اکمل پر ایک بار پھر اعتماد ظاہرکیا ہے جن کی وکٹ کیپنگ میں کارکردگی عمدہ رہی ہے لیکن بیٹنگ میں وہ نچلے نمبر پر آ کر قابل ذکر کارکردگی نہیں دکھا پائے ہیں۔

اوپنرز کے طور پر خرم منظور اور شان مسعود نے اپنی جگہ برقرار رکھی ہے۔ دونوں نے جنوبی افریقہ کے خلاف ابوظہبی ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں بالترتیب 146 اور 75 رنز بنائے تھے لیکن اگلی تین اننگز میں وہ بری طرح ناکام رہے تھے۔ خرم منظور دبئی ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں صفر پر آؤٹ ہوئے تھے۔

پاکستانی ٹیم ان کھلاڑیوں پر مشتمل ہے:۔ مصباح الحق ( کپتان)، خرم منظور، شان مسعود، احمد شہزاد، محمد حفیظ، اظہرعلی، یونس خان، اسد شفیق، عدنان اکمل، سعید اجمل، عبدالرحمن، عمرگل، جنید خان، راحت علی اور محمد طلحہ۔

اسی بارے میں