ورلڈ کپ میں شرکت خوش بختی بھی، بدنصیبی بھی

Image caption افغانستان کے متعدد کھلاڑی ڈھاکہ پریمیئر لیگ میں کھیل چکے ہیں

ایک ایسے سال میں جب کرکٹ کے میدانوں کی شہ سرخیاں ایشز سیریز، سپاٹ فکسنگ سکینڈل، سچن تندولکر، یاک کیلس اور مائیکل کلارک نے بنائی ہوں، ایسے میں افغانستان کی کارکردگی بھلا کیسے دنیا بھر کی توجہ حاصل کرتی؟ لیکن ایسا ہرگز نہیں ہے کہ افغانستان کی کرکٹ ٹیم نے کچھ بھی نہ کیا ہو۔

افغانستان نے ورلڈ کرکٹ لیگ کے فائنل میں رنراپ رہ کر سنہ 2015 کےعالمی کپ کے لیے کوالیفائی کیا۔ یہ پہلا موقع ہے کہ افغانستان کی ٹیم عالمی مقابلے میں حصہ لے گی۔

افغانستان کے کوچ کبیر خان اس شرکت کو خوش بختی اور بدنصیبی دونوں سمجھتے ہیں۔

’ورلڈ کپ میں ہماری پہلی شرکت یقیناً خوشی کی بات ہے لیکن آپ اسے ہماری بدنصیبی اس طرح کہہ سکتے ہیں کہ یہ ورلڈ کپ آسٹریلیا میں ہو رہا ہے جہاں کی وکٹوں پر تمام ایشیائی ٹیموں کومشکلات کا سامنا رہتا ہے۔ ہمیں تو ان وکٹوں کا کوئی تجربہ نہیں ہے‘۔

کبیرخان مناسب منصوبہ بندی کے ذریعے اس مسئلے پر بڑی حد تک قابو پانے کے بارے میں سوچ رہے ہیں:

’ ہم کوشش کریں گے کہ عالمی کپ سے دو تین ماہ پہلےآسٹریلیا جا کر وہاں کی مقامی ٹیموں سے کھیل کر ان وکٹوں اور موسمی حالات سے روشناس ہو سکیں اور ان خامیوں کو دور کر کے عالمی کپ میں شرکت کریں۔ اس کے علاوہ دبئی میں آئی سی سی اکیڈمی میں بھی ہم پریکٹس کریں گے جہاں آسٹریلوی مٹی سے تیار کردہ دو پچیں موجود ہیں۔‘

عالمی کپ سے قبل افغان ٹیم کو مارچ میں آئی سی سی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں بھی حصہ لینا ہے جس کے پہلے مرحلے میں اسے بنگلہ دیش کا سامنا کرنا ہے۔ جیت کی صورت میں وہ ایونٹ کے مرکزی دھارے میں شامل ہو جائے گی۔

افغانستان کی کرکٹ ٹیم نے ایسوسی ایٹ ٹیموں کے سامنے بلند معیار ہمیشہ برقرار رکھا ہے۔ صرف آئرلینڈ وہ ٹیم ہے جس نے افغانستان کو ٹی ٹوئنٹی، ون ڈے اور پانچ روزہ کرکٹ کے کوالیفائنگ مقابلوں کے فائنلز میں شکست دی ہے۔

افغانستان کی ٹیم آئی سی سی کے دونوں عالمی مقابلوں میں فاسٹ بولر حامد حسن سے بے پناہ توقعات وابستہ کیے ہوئے ہے جو آئی سی سی کی ایسوسی ایٹ کرکٹ کے سب سے تیز رفتار بولرز ہیں۔ تاہم یہ توقعات ان کی فٹنس سے مشروط ہیں۔ ان کے علاوہ عزت اللہ دولت زئی، دولت زدران اور شاہ پور زدران بھی حامد حسن کی طرح 85 میل فی گھنٹہ کی رفتار والے بولرز ہیں۔

محمد شہزاد، محمد نبی اور نوریز منگل ون ڈے میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے بلے بازوں میں قابل ذ کر ہیں۔ 20 سالہ رحمت شاہ کا ٹیلنٹ بھی سامنے آیا ہے جنھوں نے انٹرکانٹی نینٹل کپ کے فائنل میں اپنی لیگ سپن گگلی بولنگ سے پانچ وکٹیں حاصل کرنے کے علاوہ 86 رنز کی ناٹ آؤٹ کی اہم اننگز بھی کھیلی۔

افغانستان کے متعدد کھلاڑی ڈھاکہ پریمیئر لیگ میں کھیل چکے ہیں اور افغانستان کی بھارت کے خلاف ایشین کرکٹ کونسل ایمرجنگ کپ انڈر 23 میں جیت بھی کم اہم نہیں۔ لیکن ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے والے ممالک کا افغانستان سے نہ کھیلنا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔

پاکستان اور آسٹریلیا دو ہی ایسے ممالک ہیں جنھوں نے ابھی تک افغانستان سے شارجہ میں دو ون ڈے اور ایک ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کھیلا ہے۔

افغانستان کی ٹیم جنوری میں اپنے خرچ پر زمبابوے کا دورہ کرنے والی ہے لیکن کوچ کبیر خان کے خیال میں یہ ناکافی ہے کیونکہ ان کے کھلاڑیوں کو انٹرنیشنل کرکٹ کا تجربہ اسی وقت حاصل ہوسکے گا جب بڑی ٹیمیں اپنے شیڈول میں افغانستان کو جگہ دیتے ہوئے اس کے ساتھ زیادہ سےزیادہ میچ کھیلیں گی۔

اسی بارے میں