ایشز ہارنے کے بعد انگلینڈ کی ٹیم میں تبدیلیاں متوقع: رمیض

Image caption ’کیون پیٹرسن بھی ناکام ہوئے اور خود کپتان الیسٹر کُک بھی سکور نہیں کر رہے‘

معروف کمینٹیٹر اور تجزیہ نگار رمیض راجہ کا کہنا ہے کہ انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم اور ٹیم مینجمینٹ میں میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں متوقع ہیں کیونکہ ایشز سیریز میں شکست کوئی معمولی بات نہیں ہوتی۔

پاکستان کے سابق کپتان رمیص راجہ نے کہا کہ انگلینڈ کی ٹیم کے کوچ اینڈی فلاور اور کپتان الیسٹر کُک کا مستقبل انہیں غیر یقینی دکھائی دیتا ہے۔

انگلینڈ کی ٹیم کہ جسے ایشز سیریز کے پہلے چاروں ٹیسٹ میچ میں شکست کے بعد پانچویں اور آخری ٹیسٹ میچ میں بھی شکست کا سامنا ہے۔

انگلش ٹیم کی اس ناقص کارکردگی کا جائزہ لیتے ہویے رمیض راجہ کا کہنا تھا کہ جب آسٹریلوی ٹیم انگلینڈ میں ایشز سیریز کھیل رہی تھی تو سب نے دیکھا کہ اگرچہ انگلینڈ نے یہ سیریز جیت لی لیکن آخری میچز میں انگلینڈ کی کارکردگی کا گراف نیچے آیا اور آسٹریلوی ٹیم نے بہتر پرفارمنس دکھانا شروع کر دی تھی۔

’فوراً بعد ہی دونوں ٹیمیں آسٹریلیا میں ایشز سیریز کھیلنے کے لیے چلی گئیں اور وہاں آسٹریلیا کو ہوم گراونڈ اور ہوم کراؤڈ کا فائدہ بھی حاصل تھا اور شروع ہی میں انگلش ٹیم پر دباؤ ڈالنے میں کامیاب ہو گئے۔‘

انہوں نے کہا کہ انگلینڈ کی وہ خامیاں جو انگلینڈ میں سیریز کے دوران اجاگر ہوئی تھیں وہ کھل کر سامنے آ گئیں۔ ’آسٹریلوی ٹیم کی یہ خصوصیت ہے کہ جب وہ کسی ٹیم پر حاوی ہوتی ہے تو پھر اسے دوبارہ اٹھنے نہیں دیتی۔‘

انہوں نے کہا کہ جوناتھن ٹروٹ کا ایشز سیریز چھوڑ کر جانا بھی انگلش ٹیم کے لیے برا ثابت ہوا اور پھر کیون پیٹرسن بھی ناکام ہوئے اور خود کپتان الیسٹر کُک بھی سکور نہیں کر رہے۔ ’جب ٹیم کا کپتان ہی سکور نہ کر سکے تو باقی ٹیم کا مورال کا بلند ہونا ممکن نہیں رہتا۔‘

رمیض راجہ نے آسٹریلوی ٹیم کی تعریف کرتے ہوئے کہا اس ٹیم میں یہ خاصیت ہے کہ اگر یہ ہار بھی رہی ہو تو کسی وقت باؤنس بیک کر سکتی ہے۔

’سب نے دیکھا کہ اس نے انگلینڈ میں اپنی کارکردگی میں بہتری کا آغاز کر دیا تھا اور پھر اس نے انگلینڈ کو مکمل طور پر اپنی گرفت میں لے لیا۔‘

رمیض راجہ کے بقول شکست ایک طرح سے ٹیموں کے لیے اچھی بھی ثابت ہوتی ہے کیونکہ اس سے ٹیموں کی کمزوریوں کا پتا چلتا ہے جنہیں دور کیا جا سکتا ہے۔

اسی بارے میں