روس:اولمپکس کے لیے بڑا حفاظتی آپریشن شروع

Image caption روسی حکام نے سرمائی کھیلوں کے موقع پر دوہرا حفاظتی حصار بنانے کا فیصلہ کیا ہے

روس میں حکام نے بحیرۂ اسود کے سیاحتی مقام سوچی میں سرمائی اولمپکس کے آغاز سے ایک ماہ قبل ان کھیلوں کی تاریخ کا بڑا حفاظتی آپریشن شروع کر دیا ہے۔

اس آپریشن کے تحت 30 ہزار سے زیادہ پولیس اور وزارتِ داخلہ کی فورس کے اہل کار سوچی میں تعینات کیے جا رہے ہیں جبکہ اس علاقے تک رسائی کو بھی محدود کر دیا گیا ہے۔

ان کھیلوں کو سب سے بڑا خطرہ شمالی کوہ قاف سے تعلق رکھنے والے اسلامی شدت پسندوں سے ہے۔

روس میں سب سے مطلوب شخص اور چیچن باغی رہنما داکو عمروف نے اپنے جنگجوؤں کو سرمائی کھیلوں کو نشانہ بنانے کی ہدایت کی ہے۔

ماسکو میں بی بی سی کے نامہ نگار سٹیون روزنبرگ کا کہنا ہے کہ ولگوگراد میں حالیہ دھماکوں نے روسی حکام کی تشویش میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

روس کے ہنگامی حالات کے وزیر ولادی میر پچکوف نے کہا ہے کہ ’سات جنوری سے مہمانوں کے تحفظ کے ذمہ دار تمام ڈویژنوں کو جنگی بنیادوں پر مستعد رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔‘

Image caption سوچی میں پہلے سے ہی سکیورٹی کے سخت انتظامات ہیں

ان کے مطابق ’کھیلوں کے ہر مقام کا تحفظ کیا جائے گا اور خلا سے نگرانی کا نظام بھی متعارف کروایا جائے گا۔‘

روسی حکام نے سرمائی کھیلوں کے موقع پر دہرا حصار بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

کھیلوں کے مقامات کے گرد پہلے حصار کو ’کنٹرولڈ زون‘ کا نام دیا گیا ہے جہاں ٹکٹ اور شناختی دستاویزات رکھنے والے افراد کو محدود رسائی ہوگی جبکہ سوچی کے گرد دوسرا حصار ’ممنوعہ زون‘ کہلائے گا اور اس کے دائرے میں شہر کے مضافات بھی شامل ہوں گے۔

اولمپکس کے دوران مقامی رجسٹریشن والی گاڑیوں کے علاوہ صرف خصوصی اجازت نامہ رکھنے والی گاڑیوں کو ہی شہر میں داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ شہر میں ہتھیاروں، دھماکہ خیز مواد اور گولیوں کی فروخت پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔

Image caption روسی صدر پوتن نے سکیورٹی انتظامات مزید سخت کرنے کی ہدایت کی تھی

حکام نے شہر میں احتجاجی مظاہروں کے لیے بھی ایک خصوصی مقام مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاہم عوامی اجتماع اور مظاہروں کے لیے پہلے سے میونسپل انتظامیہ، وزارتِ داخلہ کے مقامی ڈویژن اور وفاقی سکیورٹی ایجنسی ’ایف ایس بی‘ سے لازمی طور پر اجازت حاصل کرنا ہو گی۔

سوچی اولمپکس کے موقع پر شدت پسند گروہوں کی جانب سے ممکنہ حملوں پر سب سے زیادہ تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

روس کے جنوبی شہر وولگوگراد میں 29 اور 30 دسمبر کو ہونے والے دو خودکش حملوں میں 34 افراد کی ہلاکت کے بعد سوچی میں حفاظتی انتظامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔

ان واقعات کے بعد روسی صدر پوتن نے سوچی میں کھیلوں کے علاقے کا خصوصی دورہ کیا ہے اور سکیورٹی انتظامات مزید سخت کرنے کی ہدایت کی تھی۔

اسی بارے میں