ذکا اشرف بحال یا فعال؟

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption آئی سی سی کے ہر نئے اجلاس میں نیا چہرہ پاکستانی کرکٹ کے بارے میں کوئی اچھا پیغام نہیں دے رہا

پاکستان کرکٹ بورڈ میں جاری کئی ماہ کی بے یقینی جو عدالت کے فیصلے سے شروع ہوئی تھی عدلیہ ہی کے فیصلے سے ختم ہوئی ہے لیکن ایک ہی طرح کا سوال جو پہلے بھی ذہنوں میں موجود تھا اب بھی ہے: ’آخر کب تک؟‘

یہ سوال پہلے یہ جواب طلب تھا کہ عدالتی معاملات میں الجھے پاکستان کرکٹ بورڈ کی بے یقینی کب تک برقرار رہے گی؟ اب اسی سوال کا دوسرا جواب تلاش کیا جارہا ہے کہ ذ کا اشرف آخر کب تک پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کے عہدے پر برقرار رہ سکیں گے؟

عام حالات میں اس سوال کی زیادہ اہمیت نہ ہوتی کیونکہ ذکا اشرف کو عدالت ہی نے چیئرمین کے عہدے پر کام کرنے سے روکا تھا اور اب وہ عدالتی فیصلے ہی سے دوبارہ چیئرمین بن کر قذافی اسٹیڈیم میں لوٹے ہیں۔ لیکن پاکستان کے مخصوص سیاسی حالات میں اس سوال کی بڑی اہمیت ہے جہاں صرف برسرِ اقتدار جماعت سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص ہی پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کے عہدے پر فائز دکھائی دیتا ہے۔

ذکا اشرف بحال تو ہوگئے ہیں لیکن یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ پاکستان پیپلز پارٹی سےتعلق رکھنے کی وجہ سے ان کے لیے مسلم لیگی دورِ حکومت میں آزادی کے ساتھ کام جاری رکھنا آسان نہ ہوگا۔ گو ذ کا اشرف کے انتہائی قریبی رشتے دار مسلم لیگی ہیں، لیکن اگر یہ رشتے داری اتنی اہم ہوتی تو قذافی اسٹیڈیم کےباہر حمزہ شہباز کے حق میں نعرے بلند نہ ہوتے، جس کے فوراً بعد ہی ان کے خلاف عدالت میں پٹیشن دائر کردی گئی تھی۔

حکومتی ذرائع سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق ذکا اشرف کی بحالی کے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ ہوچکا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ اونٹ کسی کروٹ بیٹھتا دکھائی نہیں دیتا۔

گذشتہ آٹھ ماہ کے دوران جب تک یہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت رہا، پاکستان کرکٹ بورڈ کوئی بھی غیرمعمولی نوعیت کے فیصلے کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھا کیونکہ عدالت نے ذکا اشرف کی جگہ کرکٹ بورڈ کی باگ ڈور سنبھالنے والے نجم سیٹھی کو بھی نگراں چیئرمین قرار دیتے ہوئے بڑے فیصلے کرنے سے روک دیا تھا۔ یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ چیف سلیکٹر کی حیثیت سے معین خان کی تقرری کالعدم قرار دے دی گئی۔

نجم سیٹھی پاکستانی ٹیم کے نئے کوچ کی تقرری کے بارے میں بھی کوئی فیصلہ نہ کرسکے۔ اس کے علاوہ سلیکشن کمیٹی کے تین ارکان اور پاکستانی ٹیم کے بولنگ کوچ کے معاہدوں کی تجدید بھی ہر ماہ کی جاتی رہی، یہاں تک کہ انڈر 19 ورلڈ کپ کے ممکنہ کھلاڑیوں کے ناموں کا اعلان ڈیڈ لائن گزرجانے کے باوجود نہ ہو سکا۔

کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کی تبدیلی عمل میں آ چکی ہے۔ ظاہر ہے ذکا اشرف ان تمام فیصلوں کو قبول نہیں کریں گے جو نجم سیٹھی نے کیے، جس کی ایک مثال یہ ہے کہ نجم سیٹھی نے مصباح الحق کو اگلے سال ورلڈ کپ تک کپتان بنانے کا اعلان کر دیا تھا لیکن ذکا اشرف نے دوبارہ چارج سنبھالنے پر کہا ہے کہ مصباح الحق سمیت ہر کرکٹر کی ورلڈ کپ کے موقعے پر فٹنس دیکھی جائے گی۔

یہ قیاس آرائیاں بھی زوروں پر ہیں کہ ذ کا اشرف اپنے عہدے پر بحال تو ہوگئے ہیں لیکن ہوا کا رخ دیکھتے ہوئے وہ جلد استعفٰی دے کر گھر چلے جائیں گے، جس کا کوئی بھی جواز پیش کیا جا سکتا ہے۔ حالیہ دنوں میں نادرا کے چیئرمین والے واقعے کے بعد اگر پاکستان کرکٹ بورڈ سے بھی اس طرح کی کوئی خبر آتی ہے تو اس میں حیرانی کی کوئی بات نہیں ہوگی۔

پاکستان کرکٹ بورڈ میں ہونے والی ہر تبدیلی اس کا اپنا معاملہ سہی لیکن بین الاقوامی سطح پر اس کےگہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں اور آئی سی سی کے ہر نئے اجلاس میں نیا چہرہ پاکستانی کرکٹ کے بارے میں کوئی اچھا پیغام نہیں دے رہا۔