حکومتی مداخلت کا دروازہ کھلا ہے: خالد محمود

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ذکا اشرف کے معاملے میں تیکنیکی طور پر حکومتی مداخلت نظر نہیں آتی: خالد محمود

پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین خالد محمود کا کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی موجودہ صورتِ حال میں نہ حکومتی مداخلت کا دروازہ بند ہوا ہے اور نہ کام خوش اسلوبی سے چلے گا۔

خالد محمود نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی مداخلت بند کرنے کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی آئین سازی اور اس میں ترمیم و رد و بدل کا حق اس کی جنرل باڈی کو دیا جائے۔

ایس آر او کے ذریعے آئین بنانے کا عمل غلط ہے اس کے نتیجے میں ہر وقت حکومتی مداخلت ہوتی رہے گی۔

انھوں نے کہا کہ ذکا اشرف کی بحالی کے باوجود صورتِ حال غیر واضح ہے کیونکہ اگر حکومت نے ڈویژن بینچ کے فیصلے کو قبول نہیں کیا تو تصادم کی فضا پیدا ہوگی اور حکومتی عمل دخل کی ایک صورت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ حکومت اپنے آئینی اختیارات کا استعمال کرے اور اگر یہ معاملہ اپیل کی صورت میں سپریم کورٹ میں گیا تو پھر ایک طویل عدالتی کشمکش شروع ہو جائے گی جس میں نقصان پاکستانی کرکٹ کا ہی ہوگا۔

خالد محمود کا کہنا ہے کہ ذکا اشرف کے معاملے میں تیکنیکی طور پر حکومتی مداخلت نظر نہیں آتی۔

یہ بالکل ایک عدالتی معاملہ تھا جو کسی بھی ملک میں ہوسکتا ہے، تاہم اگر عدالت ذکا اشرف کے الیکشن کو کالعدم قرار دینے کے فیصلے میں یہ کہہ دیتی کہ وہی قواعد وضوابط کے مطابق دوبارہ الیکشن کرائیں تو یہ مسئلہ طول نہ پکڑتا۔

انھوں نے کہا کہ عدالت ضرورت پڑنے پر پاکستان کرکٹ بورڈ کے معاملے میں اپنا کردار ادا کر سکتی ہے لیکن ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ ادارہ ہی معطل ہوکر رہ جائے۔

عدالت آئین میں موجود سقم دور کرنے کا حکم دے سکتی تھی۔ کرکٹ بورڈ کے علاقائی الیکشن کرانے کا حکم بھی آ سکتا تھا لیکن عدالت نے ایسا نہیں کیا، بلکہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے آئین میں چیئرمین کے نہ ہونے کے بعد گورننگ بورڈ میں سے کسی رکن کو قائم مقام چیئرمین مقرر کرنے کی شق ہی کو معطل کر دیا۔

خالد محمود نے کہا کہ پاکستان سری لنکا اور بنگلہ دیش میں حکومتوں کا کردار کرکٹ بورڈ کے معاملے میں غیرمعمولی طور پر چھایا ہوا ہے کیونکہ ان کرکٹ بورڈز کو ہر قدم پر حکومتی تعاون کی ضرورت رہتی ہے۔

خالد محمود کا کہنا ہے کہ دنیا کے تمام کھیلوں کے بڑے ادارے حکومتی مداخلت کو قبول نہیں کرتے لیکن آئی سی سی اس معاملے میں پیچھے رہ گئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کی بار بار تبدیلی سے آئی سی سی اور دوسرے کرکٹ بورڈز کا پاکستان پر سے اعتبار اٹھ چکا ہے کیونکہ انھیں پتہ ہے کہ وہ جس چیئرمین سے بات کرتے ہیں وہ اگلی میٹنگ میں نہیں ہوگا۔

اسی بارے میں