کرکٹ بورڈ میں بھی جمہوریت ضروری: وقاریونس

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ضرورت اس بات کی ہے کہ کرکٹ کے معاملات کرکٹر چلائیں: وقار یونس

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور کوچ وقار یونس کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان کرکٹ بورڈ کے آئین پر عمل درآمد ہو تو عدالتوں کی نوبت نہ آئے۔

انھوں نے کہا کہ جب تک آئین کی عزت نہیں ہوگی پاکستان کرکٹ بورڈ تنازعات میں گھرا رہے گا۔

وقار یونس نے سوال کیا کہ اگر پوے ملک میں جمہوریت ہے تو پھر کرکٹ بورڈ میں جمہوریت کیوں اختیار نہیں کی جا سکتی؟

انھوں نے کہا کہ کرکٹ بورڈ میں کبھی بھی ایسا نہیں ہوا کہ آئین کے تحت چیئرمین منتخب ہو کر آیا ہو، یہ تقرری پہلے ہمیشہ صدر اور اب وزیراعظم کی طرف سے ہوتی رہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ہم اپنے اداروں میں جمہوریت نہیں لا رہے ہیں، کہیں حکومتی اثر و رسوخ ہے اور کہیں شخصی اجارہ داری ہے۔

وقار یونس نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کا عہدہ سرکاری حلقوں میں ہمیشہ غیرمعمولی اہمیت کا حامل رہا ہے لہٰذا یہ ادارہ کئی بار مختلف نوعیت کے تنازعات اور بحران سے دوچار رہا ہے، لیکن اس بار صورتِ حال پہلے سے بہت مختلف اور پیچیدہ ہے، کیونکہ پہلی بار عدالت اس معاملے میں براہ راست سامنے آئی ہے اور اسلام آباد ہائی کورٹ نے ذکا اشرف کے انتخاب کو کالعدم قرار دیا بعد میں ڈویژن بنچ نے انھیں بحال کر دیا۔

وقار یونس کہتے ہیں کہ پاکستانی کرکٹ کی اس صورتِ حال سے دنیا کو منفی پیغام ملا ہے۔ دنیا ہمیں مذاق کے طور پر دیکھ رہی ہے، اور آئی سی سی اور دوسرے کرکٹ بورڈز ہماری بات کو سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کا چیئرمین اگر اچھی بات بھی کرتا ہے تو آئی سی سی اور دیگر کرکٹ بورڈ یہی سوچتے ہیں کہ یہ چیئرمین آخر کب تک رہیں گے؟

وقار یونس کے خیال میں پاکستان کرکٹ بورڈ میں بار بار کی تبدیلی اور عدم استحکام کا براہِ راست اثر ٹیم کی کارکردگی پر بھی پڑتا ہے اور کھلاڑی بے یقینی کا شکار رہتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اسی عدم استحکام کی وجہ سے پاکستان کی فرسٹ کلاس کرکٹ کا ڈھانچہ بھی ابھی تک صحیح خطوط پر استوار نہیں ہو سکا اور ہر دور میں نئے تجربے ہوتے ہیں۔

وقار یونس کا کہنا ہے کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ کرکٹ کے معاملات کرکٹر چلائیں اور انتظامی معاملات ٹیکنوکریٹس کے حوالے کیے جائیں۔

ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کے نہ ہونے سے پاکستان پہلے ہی تنہا ہو چکا ہے اور پھر یہ تنازعات پاکستانی کرکٹ کو تباہی کے دہانے پر لا چکے ہیں۔ اگر فوری طور پر پاکستان کرکٹ بورڈ کو جمہوری انداز میں مضبوط نہ کیا گیا تو آنے والے برسوں میں پاکستانی کرکٹ کا حال بھی ہاکی جیسا ہی ہوجائے گا۔

اسی بارے میں