حکومت کا ذکا اشرف کی بحالی چیلنج کرنے کا فیصلہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اسلام آباد ہائی کورٹ کی ڈویژن بینچ نے15 جنوری کو ذکا اشرف کی بحالی کا فیصلہ سنایا تھا

حکومت نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کی حیثیت سے ذ کا اشرف کی بحالی کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، اور اس ضمن میں جمعرات کے روز اپیل دائر کی جا رہی ہے۔

بین الصوبائی رابطے کی وزارت کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ وزیرِاعظم نے، جو اب پاکستان کرکٹ بورڈ کے سرپرستِ اعلیٰ بھی ہیں، اپیل دائر کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

یہ اپیل عاصمہ جہانگیر کے توسط سے دائر کی جائے گی، جو اسلام آباد ہائی کورٹ کی ڈویژن بینچ میں دائر کی گئی پٹیشن میں بھی بین الصوبائی رابطے کی وزارت کی وکیل تھیں۔

اپیل میں استدعا کی جائے گی کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی ڈویژن بینچ کی جانب سے ذکا اشرف کی بحالی کے فیصلے کو معطل کر کے نجم سیٹھی کی سربراہی میں قائم عبوری مینیجمنٹ کمیٹی کو بحال کیا جائے۔

یاد رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ نے15 جنوری کو ذکا اشرف کی بحالی کا فیصلہ سنایا تھا جس کے ایک روز بعد انھوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کا عہدہ دوبارہ سنبھال لیا تھا۔

ذکا اشرف کو گذشتہ سال اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ایک پٹیشن کا فیصلہ سناتے ہوئے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کے طور پر کام کرنے سے روک دیا تھا۔

اس عدالتی فیصلے کے بعد حکومت نے نجم سیٹھی کو پاکستان کرکٹ بورڈ کی ذمہ داری سونپ دی تھی لیکن اسلام آباد ہائی کورٹ نے ان کے بارے میں کہا تھا کہ وہ نگراں چیئرمین ہیں اور وہ کوئی بھی بڑا فیصلہ نہیں کر سکتے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ اس عدالتی کارروائی کے سبب پچھلے کئی ماہ سے کئی اہم فیصلے کرنے سے قاصر رہا ہے، جن میں کوچ کی تقرری اور ٹی وی نشریاتی حقوق کے لیے براڈکاسٹر کا انتخاب قابلِ ذکر ہیں۔

اسی بارے میں