’اصلاحات یا اجارہ داری‘ کی کوشش

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption آئی سی سی کی ان تجاویز پر شدید تشویش ظاہر کی جا رہی ہے

عالمی کرکٹ کے معتبر ناموں اور نامور کھلاڑیوں نے کہا ہے کہ انٹرنیشنل کرکٹ ایسوسی کے ڈھانچے میں مجوزہ تبدیلوں سے کرکٹ کھیلنے والے ملکوں میں خلیج پیدا ہو جائِے گی جس سے کرکٹ کے کھیل میں مقابلے کی فضا کو نقصان پہنچے گا۔

کرکٹ کے کھلاڑیوں کی عالمی تنظیم کے سربراہ پال مارش نےمجوزہ تبدیلوں کو پریشان کن قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ان سے کرکٹ کھیلنے والے ’امیر اور غریب‘ ملکوں میں خلیج بڑھے گی اور تین ملکوں کو اجارہ داری حاصل ہو جائے گی۔ فیڈریشن آف انٹرنیشنل کرکٹرز ایسوسی ایشن میں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے دس ارکان میں سے سات ملکوں کے کھلاڑی شامل ہیں۔

گو اس مجوزہ تبدیلی کی تفصیلات ابھی منظر عام پر نہیں آئی ہیں۔ لیکن اطلاعات کے مطابق بھارت ، آسٹریلیا اور انگلینڈ کو آئی سی سی پر زیادہ اختیار حاصل ہو جائے گا۔ بین الاقومی کرکٹ کے امور جن میں ٹیسٹ میچوں، ان سے حاصل ہونے والی آمدنی اور ان تین ملکوں کی ٹیمیں کب اور کہاں سیریز کھیلیں گی، جیسے اہم معاملات شامل ہیں، صرف اور صرف ان تین ملکوں کی مرضی سے طے کیے جا سکیں گے۔ ان تینوں ملکوں کو آئی سی سی کے بااختیار ایگزیکٹیو بورڈ پر بھی غلبہ حاصل ہو جائے گا۔

مارش بھی ان لوگوں میں شامل ہو گئے ہیں جو آئی سی سی کی فائنانس اور کمرشل افیئر کمیٹی کے ورکنگ گروپ کی طرف سے تجویز کردہ ان تبدیلوں پر شدید تنقید کر رہے ہیں۔

جنوبی افریقہ نے پہلے ہی ان تجاویز کی مذمت کرتے ہوئے ان کو ناقص قرار دے دیا ہے۔

مجوزہ تبدیلیوں کے بعد ’فیوچر ٹورز پروگرام‘ کے موخر یا معطل ہونے کے امکانات بڑھ جائیں گے جس کی وجہ سے کرکٹ کھیلنے والے چھوٹے ملکوں کو بڑی ٹیموں کے ساتھ کھلینے کے مواقع کو یقینی بنایا جاتا ہے۔

مارش کا کہنا تھا کہ میچوں کے شیڈیول کے متعلق تجویز خاص طور پر پریشان کن ہے۔

اس میں قابل ڈکر بات یہ ہے کہ آسٹریلیا اور انگلینڈ کے کرکٹ بورڈز نے یہ ضمانت دی ہے کہ وہ ہر سال تین ٹیسٹ میچ اور پانچ ایک روزہ میچ آٹھ بڑے کرکٹ کھیلنے والے ملکوں میں سے کسی ایک کے خلاف کھیلیں گے لیکن انڈین کرکٹ بورڈ نے یہ گارنٹی بھی نہیں دی۔

مارش کا کہنا ہے کہ آئی سی سی کھیلنے والے تمام رکن جن میں آسٹریلیا اور انگلینڈ بھی شامل ہیں، مالی وسائل کے لیے بڑی حد تک انڈیا سے میچ کھیلنے پر انحصار کرتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اگر انڈیا کا کرکٹ کنٹرول بورڈ ان ملکوں کے دورے نہ کرئے تو ان ملکوں کا کیا بنے گا۔

مارش نے اس تجویز پر بھی تشویش ظاہر کی کہ آئی سی سی کے درمیان مالی وسائل کی تقسیم کمرشل بنیادوں پر باری باری کی جائے۔

’اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ جن ملکوں کو آئی سی سی کی طرف سے مالی معاونت کی سخت ضرورت ہے انھیں بہت کم مالی وسائل مل سکیں گے اور تین بڑے ملکوں کو زیادہ سے زیادہ حصہ ملنے لگے گا باوجود اس کے وہ پہلے ہی مالی طور پر خوشحال ہیں اور جس کی وجہ ان کے باہمی میچوں کے حقوق کی قدر زیادہ ہے۔‘

مارش نے کہا کہ آئی سی سی کی طرف سے منعقد ہونے والے میچوں کا مقصد ایک ایسا مساوی نظام قائم رکھنا ہے جس سے آمدنی کی مساویانہ تقسیم مکمن ہو نہ کہ امیر اور غریب بورڈز میں خلیج پیدا کرنا۔

آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹیو ڈیو رچرڈسن کا کہنا ہے کہ ابھی ان اصلاحات کو عملی جامعہ پہچانے میں کافی مراحل سے گزرنا ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہ صرف سفارشات ہیں جو ورکنگ گروپ نے تجویز کی ہیں اور جس کے انگلینڈ آسٹریلیا اور انڈیا رکن ہیں۔

ڈیو رچرڈ سن نے کہا کہ ان تجاویز پر آئی سی سی بورڈ کے جنوری کے اختتام پر ہونے والے اجلاس میں غور کیا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ ان سفارشات پر ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا۔

اسی بارے میں