ریویو کا غلط استعمال، ناسمجھی یا خود غرضی؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستانی بالروں سے زیادہ پاکستانی بلے بازوں نے ریویو کے موقعے ضائع کیے ہیں

امپائر کے فیصلے کو چیلنج کرنے کے نظام ڈی آر ایس کو بین الاقوامی کرکٹ میں نافذ ہوئے چار سال سے زیادہ کا عرصہ ہوچکا ہے لیکن پاکستانی ٹیم ابھی تک اس طریقہ کار سے پوری طرح فائدہ اٹھانے میں ناکام رہی ہے۔ اس کی تازہ ترین مثال سری لنکا کے خلاف حالیہ ٹیسٹ سیریز ہے جس میں پاکستانی ٹیم نے 19 میں سے 18 ریویو ضائع کر دیے۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق کو بڑی تعداد میں ریویو ضائع کیے جانے پر خاصی تشویش ہے اور وہ کہتے ہیں کہ اگر اس طریقۂ کار کو نہ سمجھا گیا تو جس طرح سری لنکا کے خلاف سیریز میں ٹیم نے نقصان اٹھایا آئندہ بھی اسی طرح ہوتا رہے گا۔

مصباح الحق کا کہنا ہے کہ ریویو اسی وقت لیا جاتا ہے جب آپ کو سو فیصد یقین ہو کہ امپائر کا فیصلہ غلط ہے۔ تھوڑا سا بھی شک ہو تو ریویو نہیں لینا چاہیے کیونکہ یہ آپ کے حق میں نہیں جائے گا۔

مصباح الحق کا کہنا ہے کہ ٹیم کی میٹنگز میں باقاعدگی سے اس بارے میں بات ہوتی ہے، لیکن مطلوبہ نتائج برآمد نہیں ہوسکے ہیں۔

سابق کپتان وقار یونس کے خیال میں ریویو میں پاکستانی ٹیم کی ناکامی کی وجہ ناسمجھی بھی ہے اور کسی حد تک اس میں کھلاڑیوں کی خود غرضی بھی شامل ہے۔

وقار یونس کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ریویو کی ابھی تک سٹڈی نہیں کی ہے۔ سری لنکا کے خلاف سیریز میں یہ بات دیکھنے میں آئی کہ چونکہ ابتدائی تین بیٹسمینوں نے رنز نہیں کیے تھے، لہٰذا ریویو لینے کے معاملے میں ان کی خود غرضی دکھائی دی۔ اظہر علی نے سلپ میں کیچ ہو کر بھی ریویو لیا۔ یہ غلط ہے، صرف اپنی ذات کو فائدہ پہنچانے والی سوچ نہیں ہونی چاہیے۔

وقار یونس کہتے ہیں کہ ریویو لینے میں سب سے اہم کردار وکٹ کیپر کا ہوتا ہے، اسے ایل بی ڈبلیو کے بارے میں مکمل طور پر پتہ ہونا چاہیے۔ یہ ذہانت کا کھیل ہے، جس میں آپ کوامپائر کا دماغ پڑھنا بھی ضروری ہوتا ہے۔ مصباح جب کور میں فیلڈنگ کر رہے ہوتے ہیں تو ریویو لینے کے معاملے میں وہ بولر سے پوچھتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ کوئی بھی بولر یہ نہیں کہے گا کہ اس کی اپیل غلط ہے، وہ تو یہی کہےگا کہ اس کی گیند وکٹ میں جا رہی تھی، لہٰذا ریویو لے لیں۔ مصباح الحق اگر وہ سلپ میں ہوں گے تو انھیں زیادہ واضح طور پر دکھائی دے گا۔

وقاریونس کے خیال میں ٹیم کے ہر کھلاڑی کو یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ یہ ٹیم گیم ہے اس میں خود غرضی نہیں دکھانی چاہیے اور جہاں ضرورت ہو صرف وہیں ریویو لیا جائے۔

اسی بارے میں