’پہلے وکٹ کیپر ہوں بعد میں بیٹسمین‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سرفرازاحمد اس سوچ کے ساتھ کھیل رہے ہیں کہ پہلے وکٹ کیپنگ بعد میں بیٹنگ

شام کےگہرے ہوتے سائے میں اظہر علی اور مصباح الحق جیت کو نظروں سے دور کرنے کے لیے تیار نہیں تھے لیکن درحقیقت امید کی کرن سرفراز احمد اڑتالیس رنز کی جراتمندانہ اننگز کھیل کر دکھاگئے تھے۔

یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ جب ٹیم کو ان کی اصل ذمہ داری وکٹ کیپنگ کی بجائے ان کی بیٹنگ سے فائدہ پہنچا۔

دوسال قبل بنگلہ دیش کےخلاف ایشیا کپ کے فائنل میں بھی جب پاکستانی ٹیم بیالسیویں اوور میں شاہد آفریدی کی وکٹ گنواتے وقت ایک سو اٹھہتر رنز پر کھڑی تھی سرفراز احمد کی چھیالیس رنز ناٹ آؤٹ کی اننگز نے سکور کو دوسو چھتیس تک پہنچا دیا تھا جس کے بعد اعزاز چیمہ کی تین وکٹوں اور خاص کر آخری اوور نے پاکستانی ٹیم کو دو رنز کی ڈرامائی جیت سے ہمکنار کیا تھا۔

ڈھاکہ کی طرح شارجہ میں بھی سرفراز اگرچہ کوئی ایوارڈ نہ جیت سکے لیکن خاموش ہیرو بن کر انہوں نے سب کے دل ضرور جیت لیے۔

سرفراز احمد اس میچ وننگ اننگز کو کپتان کوچ کے اعتماد کا نتیجہ سمجھتے ہیں۔

’ کپتان نے مجھ سے یہی کہا تھا کہ ہر اوور میں پانچ رنز کی اوسط رکھنی ہے۔ پندرہ سولہ اوورز میں ستر اسّی رنز کی پارٹنر شپ قائم کرنی ہے اور کوشش کرنی ہے کہ وکٹ نہ گرے۔ اظہر علی کے ساتھ بیٹنگ بہت اچھی رہی اور میں مثبت کھیلتے ہوئے کپتان کے اعتماد پر پورا اترنے میں کامیاب رہا ۔‘

سرفراز احمد نے دبئی ٹیسٹ میں بھی عمدہ بیٹنگ کرتے ہوئے 74 رنز سکور کیے تھے تاہم انہیں پہلی سنچری مکمل نہ ہونے کاافسوس ہے۔

’ میری بلاول بھٹی کے ساتھ اچھی انڈر سٹینڈنگ ہوگئی تھی اور ہم بہت اچھا کھیل رہے تھے رنز بھی آسانی سے بن رہے تھے لیکن بھٹی کی وکٹ گرگئی اور سعید اجمل آئے ۔اگر ان چھ سات اوورز میں بھٹی میرے ساتھ ہوتے تو شاید انہی اوورز میں میں سنچری کی کوشش کرتا۔‘

بیٹنگ یا وکٹ کیپنگ

سرفرازاحمد اس سوچ کے ساتھ کھیل رہے ہیں کہ پہلے وکٹ کیپنگ بعد میں بیٹنگ۔

’اس وقت ہر شعبے میں آل راؤنڈر کا تصور آچکا ہے۔ مجھ پر بھی بیٹنگ کا پریشر ہے لیکن میں خود کو پہلے وکٹ کیپر سمجھتا ہوں کہ میرے کیچز اور سٹمپ ٹیم کے لیے ضروری ہیں۔ بیٹنگ اضافی خصوصیت ہے جس سے ٹیم کو فائدہ ہوسکتا ہے۔ میں کوشش کرتا ہوں کہ بیٹنگ پر بھی توجہ دوں۔‘

سرفراز احمد کا بین الاقوامی کریئر کامران اکمل کی خراب کارکردگی کے سبب شروع ہوا۔

دوہزار سات میں بھارتی دورے میں جب کامران اکمل نے تین ون ڈے میں چار کیچز ڈراپ کیے تو سرفرازاحمد کو پاکستان سے بلاکر جے پور کا میچ کھلا دیا گیا۔

دو ہزار دس کے سڈنی ٹیسٹ میں کامران اکمل نے پھر چار کیچز ڈراپ کیے تو سرفراز احمد کو طلب کرکے ہوبارٹ میں ٹیسٹ کیپ دے دی گئی۔

سری لنکا کے خلاف حالیہ سیریز میں بھی وہ ٹیم کا حصہ نہیں تھے لیکن عدنان اکمل کے ان فٹ ہونے کے نتیجے میں انہیں کھیلنے کا موقع مل گیا۔

کوئی ایسا کیچ جو یاد ہو؟

’مجھے ایشیا کپ میں یوراج سنگھ کا کیچ حالیہ سیریز میں سعید اجمل کی گیند پر لیگ سائڈ پر میتھیوز کا کیچ اور جے وردھنے کا سٹمپ ہمیشہ یاد رہیں گے۔‘

سرفرازاحمد کی کہانی بھی پاکستان کے تقریباً تمام ہی کرکٹرز جیسی ہے جس میں گلی، محلے، سکول اور کلب کرکٹ کا ذکر موجود ہے۔

’نارتھ ناظم آباد کی سڑکوں سے میں نے کرکٹ شروع کی انٹر سکول کھیلنے کے لیے والد نے سکول تبدیل کرایا اور پھر زون چھ سے کلب کرکٹ کھیلی اور پھر جناح کالج سے انٹرکالجیٹ کھیلی۔ والد نے بہت حوصلہ افزائی کی ان کے علاوہ قدم قدم پر رہنمائی کرنے والے کچھ اور لوگ بھی ملے۔کرکٹ کی اصل بنیاد پاکستان کرکٹ کلب سے کھیلتے ہوئےقائم ہوئی۔‘

سرفرازاحمد کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ ان کی قیادت میں پاکستان نے دو ہزار چھ میں انڈر19 ورلڈ کپ جیتا۔

اس ٹیم میں فاسٹ بولر انور علی بھی شامل تھے جنہوں نے فائنل میں پانچ وکٹیں حاصل کی تھیں وہ بھی آج سرفرازاحمدکی طرح پاکستانی ٹیم کا حصہ ہیں۔

اسی بارے میں