چھوٹے ملکوں کے 30 کروڑ ’بگ تھری‘ کو دینے کی تجویز

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption احسان مانی کھل کر نئی تجاویز کی مخالفت کر رہے ہیں

آئی سی سی کے سابق صدر احسان مانی اس بات پر حیران ہیں کہ آئی سی سی نے اپنا آئندہ اجلاس آئی پی ایل کرپشن کی تحقیقاتی رپورٹ کے آنے سے ایک دن پہلے ہی کیوں طلب کیا ہے۔

واضح رہے کہ کرکٹ کے تین بڑوں کے مجوزہ ’پوزیشن پیپر‘ پر گرما گرم بحث اور چند اہم نکات کے اعلان کے بعد آئی سی سی نے آٹھ فروری کو اجلاس بلا لیا ہے۔

احسان مانی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر آئی سی سی اپنا صدر یا چیئرمین بھارت سے بنانا چاہتی ہے تو اسے آئی پی ایل کرپشن کی تحقیقاتی رپورٹ کا انتظار کرنا چاہیے جس میں چینئی سپر کنگز پر بھی شکوک وشبہات ظاہر کیے جا چکے ہیں۔

یاد رہے کہ چینئی سپر کنگز کے مالک بی سی سی آئی کے صدر سری نواسن ہیں جن کے داماد اس کرپشن میں حراست میں لیےگئے تھے اور سری نواسن پر اس قدر دباؤ بڑھا تھا کہ انھیں وقتی طور پر اپنے اختیارات سے دستبردار ہونا پڑا تھا۔

احسان مانی نے کہا کہ اس بارے میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ بھارت آسٹریلیا اور انگلینڈ آئی سی سی کے اگلے اجلاس سے قبل حالات اپنے حق میں کرنے کے لیے سری لنکا اور بنگلہ دیش پر دباؤ ڈالیں گے۔ انھوں نے ویسٹ انڈیز کو زیادہ سے زیادہ دو طرفہ سیریز کھیلنے کی یقین دہانی پہلے ہی کرا دی ہے۔

احسان مانی نے کہا کہ بگ تھری جو کچھ چاہتے تھے وہ اس اجلاس میں نہیں ہوا لیکن ایگزیکیٹیو کمیٹی میں تین کی بجائے پانچ ارکان کو رکھنے کے باوجود طاقت کا توازن بھارت آسٹریلیا اور انگلینڈ کے حق میں ہی رہے گا کیونکہ باقی دو ارکان ان تینوں کے سامنے آواز بلند نہیں کرسکیں گے اور ان تینوں کی من مانی جاری رہے گی۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پانچ کے بجائے سات ارکان اس کمیٹی میں شامل ہوتے جن میں دو غیرجانبدار اور آزاد ارکان ہوتے۔

احسان مانی نے کہا کہ اس سے زیادہ زیادتی اور کوئی نہیں ہوسکتی کہ ایسوسی ایٹ ممالک کے ترقیاتی فنڈز میں 30 کروڑ ڈالر کم کر کے بھارت آسٹریلیا اور انگلینڈ کو دے دیے جائیں گے۔ ان تینوں ملکوں کو پیسے کی کیا کمی ہے جبکہ ایسوسی ایٹ ممالک کو اپنی کرکٹ کی ترقی کے لیے پیسے کی ضرورت ہوتی ہے۔

احسان مانی نے کہا کہ وہ بگ تھری سے باہر کے کرکٹ بورڈز سے رابطہ کر کے انہیں سمجھانے کی کوشش کریں گے کہ ایسا طریقۂ کار ہونا چاہیے جس میں سب کا مفاد موجود ہو۔

اسی بارے میں