ذکا اشرف کے خلاف حکومتی درخواست واپس لے لی گئی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ذکا اشرف کو پیپلز پارٹی کے دور میں کرکٹ کنٹرول بورڈ کا چیئرمین نامزد کیا گیا تھا

وفاقی حکومت نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین چوہدری ذکاء اشرف کی بحالی کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر کی جانے والی درخواست واپس لے لی۔ عدالت کا کہنا تھا کہ حکومت کو انتظامی اختیارات استعمال کرنے سے نہیں روکا جاسکتا۔

جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف بین الصوبائی وزارت کی طرف سے دائر کی جانے والی درخواست کی سماعت شروع کی تو درخواست گُزار کی وکیل عاصمہ جہانگیر کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے چوہدری ذکاء اشرف کی بحالی کے ساتھ یہ آبزرویشن بھی دی تھی کہ حکومت اُن کو عہدے سے ہٹانے سے متعلق اپنے اختیارات استعمال نہیں کرسکتی جبکہ سپورٹس بورڈ کے قانون میں موجود ہے کہ پیٹرن انچیف کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی بھی شخص کو اُس کے عہدے سے ہٹانے اور تعینات کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ عدالت انتظامی امور سے متعلق اختیارت استعمال کرنے سے نہیں روکتی لیکن یہ ضروری ہے کہ یہ اختیارات قانون کے دائرے میں ہوں۔ عدالت کی اس آبزرویشن کے بعد وفاقی حکومت نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف درخواست واپس لے لی۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین چوہدری ذکاء اشرف پاکستان مسلم لیگ نون کے اہم رہنما چوہدری جعفر اقبال کے قریبی عزیز ہیں جبکہ وہ سابق صدر آصف علی زرداری کے قریبی دوستوں میں شمار ہوتے ہیں۔

یاد رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے چوہدری ذکاء اشرف کی بحالی کی درخواست پر اُنھیں 15 جنوری کو اپنے عہدے پر بحال کردیا تھا جس کی بعد نجم سیٹھی کی سربراہی میں قائم کی جانے والی پاکستان کرکٹ بورڈ کی عبوری کمیٹی کو ختم کردیا گیا تھا۔

اسی بارے میں