’کہیں پاکستان تنہا نہ ہو جائے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption آئی سی سی میں پاکستان کی آواز موثر نہیں ہے: رمیز راجہ

سابق کرکٹر اور معروف کمنٹیٹر رمیز راجہ کا خدشہ ہے کہ آئی سی سی میں جاری صورتحال میں اگر پاکستان نے اپنے مفاد کا خیال نہ کیا تو وہ تنہا ہو سکتا ہے۔

بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور معروف تجزیہ کار نے کہا کہ تین ملکوں کے منصوبے کو صرف ایک ووٹ درکار ہے، جو انھیں مل جائے گا۔

یاد رہے کہ آئی سی سی کا اجلاس ہفتے کے روز سنگاپور میں ہو رہا ہے جس میں بھارت آسٹریلیا اور انگلینڈ کے مجوزہ مسودے پر رائے شماری کا امکان ہے۔

تنظیم کے گذشتہ اجلاس میں اس معاملے پر طویل بحث ہوئی تھی جس کے بعد جنوبی افریقہ پاکستان اور سری لنکا تین ایسے ممالک رہ گئے ہیں جو بِگ تھری کے پیش کردہ منصوبے سے اختلاف رکھتے ہیں۔

رمیز راجہ اس مجوزہ منصوبے کے حامی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انھیں اپنے ان خیالات کے سبب تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے لیکن وہ کہتے ہیں کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو اس تمام ترصورتِ حال میں جذباتیت کے بجائے حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

رمیز راجہ نے کہا کہ پاکستان کو اس صورتِ حال میں اپنا فائدہ دیکھنا چاہیے کیونکہ سبھی ممالک ایسا کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ بدقسمتی سے آئی سی سی میں پاکستان کی آواز موثر نہیں ہے کیونکہ پاکستان نے اپنی ساکھ بہتر بنانے کی سنجیدگی سے کوشش نہیں کی ہے۔

رمیز راجہ کا کہنا تھا کہ گذشتہ کئی برسوں سے آسٹریلیا، بھارت اور انگلینڈ غیرسرکاری سطح پر تمام بڑے فیصلے کرتے آ رہے ہیں لہٰذا انہیں نہیں لگتا کہ اس منصوبے سے کچھ تبدیل ہوگا کیونکہ انہیں یقین ہے کہ یہ تین ممالک سب کو ساتھ لے کر چلیں گے۔

رمیز راجہ نے کہا کہ اگر بھارت بین الاقوامی کرکٹ کی آمدنی میں اپنے لیے بڑے حصے کا مطالبہ کر رہا ہے تو یہ غلط نہیں ہے کیونکہ وہ بہت زیادہ مالی سہارا بھی فراہم کر رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان کا فائدہ بھارت کے ساتھ کرکٹ روابط قائم رکھنے میں ہے: ’پاکستان کو فیوچر ٹور پروگرام (ایف ٹی پی) ختم ہونے کے بعد بھارت سے اپنی سیریز کی بات کرنی چاہیے ۔بھارت کو بھی چاہیے کہ وہ آئی پی ایل میں پاکستانی کھلاڑیوں کی شرکت کویقینی بنائے کیونکہ اگر آپ بین الاقوامی سطح پر طاقتور بنتے ہیں تو پھر بڑے فیصلے بھی کرنے پڑتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان کا فائدہ بھارت کے ساتھ کرکٹ روابط قائم رکھنے میں ہے: رمیز راجہ

رمیز راجہ نے کہا کہ آئی پی ایل کو بدعنوانی کا گڑھ قرار دینا درست نہیں ہے: ’کیا پاکستان میں پچھلے بیس پچیس برسوں میں میچ فکسنگ اور سپاٹ فکسنگ کے واقعات نہیں ہوئے؟ ایک انفرادی فعل پر سب کو اس میں ملوث کرنا درست نہیں ہے۔‘

رمیز راجہ نے کہا کہ آئی سی سی فیصلہ سازی میں اپنی افادیت کھو چکی ہے کیونکہ وہاں سیاست غالب آجاتی ہے۔ بقول ان کے، تنظیم کی ساکھ کئی بار متاثر ہو چکی ہے۔

رمیز راجہ نے ایسوسی ایٹ ممالک کے پیسوں میں کمی کے بارے میں کہا کہ ’حقیقت یہ ہے کہ چند ایک کو چھوڑ کر ایسوسی ایٹ ممالک کی کرکٹ ٹوپی ڈرامہ ہے، کیونکہ ان ملکوں میں کرکٹ صرف تارکین وطن کھیلتے ہیں۔ یہ بات بھول جائیں کہ فرانس میں کرکٹ شروع ہوجائے گی اور چین عالمی چیمپیئن بن جائے گا۔ افغانستان میں کرکٹ کلچر نہیں ہے ان کے کئی کرکٹروں نے پشاور میں رہ کر کرکٹ سیکھی اور کھیلی ہے۔ اسی طرح کینیا کا حال بھی سب کو معلوم ہے۔‘

اسی بارے میں