وقار یونس کوچ کے مضبوط امیدوار

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption وقار یونس اس سے قبل بھی پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کوچ رہ چکے ہیں

سابق کپتان وقار یونس پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کوچ کے مضبوط امیدوار کے طور پر سامنے آئے ہیں۔

یہ عہدہ ڈیو واٹمور کی دوسالہ مدت مکمل ہونے کے بعد خالی ہوا ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے نئے کوچ کے لیے درخواستیں طلب کی ہیں جس کی آخری تاریخ چھ فروری ہے۔

نئے کوچ کا انتخاب کرنے کے لیے کرکٹ بورڈ نے ایک کمیٹی بھی تشکیل دے رکھی ہے جو تمام درخواستوں کا جائزہ لے گی۔اس کمیٹی میں انتخاب عالم، جاوید میانداد، وسیم اکرم اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف آپریٹنگ آفیسر سبحان احمد شامل ہیں۔

وقار یونس منگل کے روز لاہور پہنچے ہیں۔اگرچہ انہوں نے اپنی آمد کی وجہ نجی مصروفیات بتائی ہے لیکن معلوم ہوا ہے کہ وہ باقاعدہ طور پر کوچ کے عہدے کے لیے درخواست دینے والے ہیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اب تک تقریباً دس درخواستیں موصول ہوئی ہیں جن میں کوئی غیرملکی شامل نہیں ہے۔

خیال ظاہر کیا جارہا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ رسمی کارروائی نمٹانے کے بعد وقاریونس کو یہ ذمہ داری سونپ دے گا۔

گزشتہ سال نومبر میں بھی ذرائع ابلاغ میں وقا ریونس اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق نگراں چیرمین نجم سیٹھی کے درمیان رابطے اور کوچ کی پیشکش کیے جانے کی خبریں سامنے آئی تھیں تاہم وقار یونس نے ایسی کسی بھی ملاقات کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ان سے رابطہ کیا گیا تو وہ اس ضمن میں ضرور بات کریں گے اور اگر اشتہار دیا گیا تو وہ اس بارے میں بھی ضرور سوچیں گے۔

وقار یونس اس سے قبل بھی پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کوچ رہ چکے ہیں اور ان کی موجودگی میں پاکستانی ٹیم نے پانچ ٹیسٹ، 22 ون ڈے اور چھ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچوں میں کامیابی حاصل کی تھی، تاہم سابق چیرمین اعجاز بٹ سے اختلافات کے نتیجے میں انھوں نے یہ عہدہ چھوڑدیا تھا۔

اسی بارے میں