’تینوں ممالک نے اپنے مفادات کو بھی مدنظر رکھنا ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption تینوں ممالک ایک مشترکہ لائحۂ عمل طے کر لیں گے: ذکا اشرف

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ذکا اشرف کو یقین ہے کہ ’بگ تھری‘ منصوبے کی مخالفت کرنے والے تینوں ممالک ایک دوسرے کو دھوکا نہیں دیں گے بلکہ جو فیصلہ بھی کیا جائے گا وہ باہمی مشاورت سے ہی ہوگا۔

’بگ تھری پلان‘ یعنی کرکٹ کے تین بڑے ممالک انگلینڈ، آسٹریلیا اور بھارت کی انٹرنیشنل کرکٹ کونسل پر اجارہ داری کے متنازع مسودے پر ایک بار پھر آٹھ فروری کو آئی سی سی کے سنگاپور میں ہونے والے اجلاس پر بات ہوگی اور اب اس کی مخالفت میں سری لنکا، پاکستان اور جنوبی افریقہ کھل کر سامنے آ چکے ہیں۔

سری لنکا نے ایک بار پھر کہا ہے کہ وہ آئی سی سی کے ڈھانچے میں تبدیلی کی تجویز کی مخالفت کے موقف پر قائم ہے۔

کرکٹ بورڈ چیئرمین ذکا اشرف نے بی بی سی سے ایک انٹرویو میں کہا کہ ان تین ممالک کی مزاحمت سے مجوزہ مسودے میں تبدیلیاں کی گئیں اور ’آئی سی سی کے اجلاس سے پہلے ہی ہم تینوں ممالک اپنی ایک الگ میٹنگ کریں گے اور اس میں تمام پہلوؤں پر غور و فکر کیا جائے گا۔‘

ان کا کہنا تھا: ’ظاہر ہے کہ ہم تینوں ممالک نے اپنے مفادات کو بھی مدنظر رکھنا ہے لیکن تینوں ممالک ایک مشترکہ لائحۂ عمل طے کر لیں گے۔‘ تاہم انہوں نے زور دے کر کہا کہ جو فیصلہ بھی ہوگا یہ تینوں ممالک مل کر کریں گے۔

ذکا اشرف کے مطابق ’اس میں کوئی شک نہیں کہ ہماری مخالفت کے سبب اس مسودے کی شقوں کو دوسرے ممالک کے لیے نرم کیاگیا لیکن ابھی بھی اگر ہمیں یہ لگا کہ اس تبدیلی سے ہمارے کرکٹ کے مفادات کو زک پہنچتی ہے تو ہم آئی سی سی کے اجلاس میں ان معاملات کو اٹھائیں گے۔‘

بنگلہ دیش میں ایشیا کپ اور ورلڈ ٹی 20 کرکٹ ٹورنامنٹ میں پاکستان کی شرکت کے امکانات کے حوالے سے ذکا اشرف کا کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے تمام تیاری کر رکھی ہے اگر حکومت گرین سگنل دے گی تو شرکت کی جائے گی۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کو اس وقت صرف بگ تھری پلان سے نمٹنے کا ہی مسئلہ نہیں بلکہ خود ان کے اس عہدے پر برقرار رہنے کی بابت بھی شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔

اس سلسلے میں ذکا اشرف کا کہنا تھا کہ وہ کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کے لیے جمہوری انداز میں چار سال کے لیے منتخب ہو کر آئے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ وزیر اعظم پاکستان نواز شریف جو خود جمہوری انداز سے منتخب ہو کر آئے ہیں کسی غیر جمہوری طریقے سے ان کو عہدے سے نہیں ہٹائیں گے۔

اسی بارے میں