سرمائی اولمپکس کی رنگا رنگ افتتاحی تقریب

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

روس کے شہر سوچی میں سرمائی اولمپکس کی تاریخ کے ’مہنگے ترین‘ مقابلوں کی افتتاحی تقریب منعقد ہوئی ہے۔ سوچی اولمپکس میں 16 دنوں میں 98 تمغے جیتنے کے لیے مقابلے منعقد ہوں گے۔

روس کے بحیرۂ اسود کے ساحل پر واقع سیاحتی مرکز سوچی میں افتتاحی دن 15 مقابلوں میں شرکت کے لیے 87 ممالک کے 2900 ایتھلیٹ پہنچیں ہیں۔

افتتاحی تقریب کا انعقاد فشٹ سٹیڈیم میں ہوا ہے جہاں 40 ہزار افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔

روسی ولادمیر پوتن نے کھیلوں کا افتتاح کیا اور اولمپک مشعل کو روشن تین تین مرتبہ طلائی تمغے جیتنے والے ولادسلوو تریتاک اور ارینا رودنینا نے کیا۔

30 بلین ڈالر کی لاگت سے منعقد ہونے والے یہ اولمپک مقابلے تاریخ کے مہنگے ترین اولمپک مقابلے ہیں۔

دو ہفتے قبل منتظمین نے بتایا تھا کہ انہوں نے مقابلوں کے 70 فیصد ٹکٹ فروخت کیے ہیں جبکہ اس کے مقابلے میں کینیڈا کے شہر وینکوور میں گذشتہ سرمائی کھیلوں کے دوران اسی عرصے میں 97 فیصد ٹکٹ فروخت کر دیے تھے۔

گذشتہ 30 سالوں میں پہلی بار سرمائی اولمپکس مقابلے افتتاحی تقریب سے قبل ہی شروع ہو گئے جن میں جمعرات کو سنو بورڈ سلوپ سٹائل کا مقابلہ منعقد ہوا۔

ان مقابلوں کے پہلے طلائی تمغے کا فیصلہ سنیچر کو ہو گا جس دن پانچ طلائی تمغوں کا فیصلہ ہو گا۔ ان میں بائیتھلون، کراس کنٹری سکی انگ فری سٹائل سکی انگ، سنو بورڈنگ اور سپیڈ سکیٹنگ شامل ہیں۔

ان اولمپکس مقابلوں کے لیے روس نے 30 ارب پاؤنڈ خرچ کیے ہیں جو اب تک کے تمام سرمائی اولپمکس کے کل اخراجات سے بھی زیادہ ہیں۔

توقع ہے کہ کینیڈا، امریکہ اور ناروے ان مقابلوں میں سب سے زیادہ تمغے حاصل کرنے والے ممالک ہوں گے۔

1980 میں ماسکو کے سرمائی اولمپکس کے بائیکاٹ کے بعد پہلی بار ان سرمائی کھیلوں کی میزبانی کرنے والے روسی ایتلھیٹس پر بہتر کارکردگی دکھانے کے لیے خاص طور پر وینکوور میں منعقد ہونے والے مقابلوں میں گیارہویں درجے پر آنے کے بعد سے بہت زیادہ دباؤ ہے۔

روس نے سات سال قبل ان مقابلوں کی میزبانی کا حق حاصل کرنے کے بعد سے ان کھیلوں میں حصہ لینے والے کھلاڑیوں کے لیے 60 کروڑ ڈالر کی رقم مختص کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption دو ہفتے قبل منتظمین نے بتایا تھا کہ انہوں نے مقابلوں کے 70 فیصد ٹکٹ فروخت کر دیے ہیں

روس کی توجہ مردوں کے آئس ہاکی کا مقابلہ جیتنے پر ہو گی جس میں انہوں نے سوویت یونین کے خاتمے کے بعد سے کوئی تمغہ حاصل نہیں کیا ہے جبکہ 1992 میں سوویت ٹیم نے اس مقابلے میں طلائی تمغہ حاصل کیا تھا۔

ناروے کی ٹیمیں بائتھلان اور کراس کنٹری سکی انگ کے مقابلوں میں زیادہ تمغے حاصل کرنے کی جستجو میں ہوں گی جبکہ کینیڈا کی ٹیمیں تیز رفتار سکیٹنگ کے مقابلے جیتنے کی کوشش کریں گی، خاص طور پر چارلس ہیملن جن کے بارے میں امید کی جا رہی ہے کہ وہ ان مقابلوں میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے۔

امریکی ٹیم کے بارے میں توقع کی جا رہی ہے کہ ان کی ٹیمیں الپائن سکی انگ اور برف پر پھسلنے والی گاڑی کے مقابلوں میں کامیابی حاصل کریں گی۔

یاد رہے کہ سرمائی اولمپکس کے لیے روس نے سخت سکیورٹی انتظامات کیے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں شمالی کوہِ قاف میں سرگرم امارتِ قفقاز نے بار بار ان کھیلوں پر حملے کرنے کی دھمکیاں دے رکھی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

حال ہی میں امریکی حکومت نے روس جانے والی تمام پروازوں پر جہاز میں مسافروں کے جہاز پر لے جانے کے سامان میں مائع مواد کو ممنوع کر دیا ہے۔

صحافیوں نے اپنے ہوٹل کے کمروں کے بارے میں شکایات کی ہیں جنہیں یا تو جلدی میں مکمل کیا گیا ہے یا وہ نامکمل ہیں مگر ایتھلیٹس نے کھلیوں کی سہولیات کی تعریف کی ہے۔

سوچی کے منتظمین 30 ارب پاؤنڈ کے اعداد و شمار سے اتفاق نہیں کرتے اور ان کا دعویٰ ہے کہ اس رقم میں بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی تعمیر بھی شامل ہے جنہیں ان کھیلوں کے بغیر بھی بنایا جانا تھا۔

روسی حکام کے مطابق ان کھیلوں کی تعمیر پر چار ارب 30 لاکھ پاؤنڈ اخراجات آئے ہیں۔

اسی بارے میں