منظوری ہوگئی، اب کرکٹ پر بھارت، آسٹریلیا، انگلینڈ کا ’راج‘ ہوگا

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ’پاکستان اور سری لنکا کا کہنا تھا کہ انہیں ترمیم شدہ قرار داد کی جانچ پڑتال کے لیے مزید وقت درکار ہے‘

کرکٹ کی عالمی تنظیم انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے ادارے کے مالی اور انتظامی ڈھانچے میں تبدیلیاں کرتے ہوئے بھارت، انگلینڈ اور آسٹریلیا کے کھیل اور ادارے پر پہلے سے زیادہ کنٹرول کی منظوری دے دی ہے۔

بی سی سی آئی کے صدر سری نواسن نے انگلینڈ اور آسٹریلوی کرکٹ بورڈ کے ساتھ مل کر ایک ایسا مسودہ آئی سی سی میں پیش کیا تھا جس کے تحت ان تینوں ممالک کو آئی سی سی کے انتظامی اور مالی معاملات میں غلبہ حاصل ہو جائے گا۔

آئی سی سی کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ سنیچر کو ہونے والے اجلاس میں آئی سی سی کے دس میں سے آٹھ ارکان نے ان تجاویز کی حمایت کی۔

آئی سی سی کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’قرارداد کو سنگاپور میں ہونے والے اجلاس میں پیش کیا گیا۔ اس قرارداد کو دس ممبران میں سے آٹھ کے ووٹ ملے جبکہ پاکستان اور سری لنکا نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا کیونکہ ان کا کہنا تھا کہ انھیں اس ترمیم شدہ قرار داد کی جانچ پڑتال کے لیے مزید وقت درکار ہے۔‘

آئی سی سی کی جانب سے منظور کردہ مسودے کے مطابق آئی سی سی کے ایگزیکٹیو اختیارات اور مالی کنٹرول ای سی بی، کرکٹ آسٹریلیا اور بی سی سی آئی کے ہاتھ میں رہے گا، جو بالترتیب انگلستان، آسٹریلیا اور بھارت کے کرکٹ بورڈ ہیں۔

اس کے علاوہ یہ تینوں کرکٹ بورڈز آئی سی سی کی ایگزیکیٹو کمیٹی کے مستقل رکن ہوں گے جبکہ چوتھا رکن دیگر سات ممالک میں سے کوئی ایک نامزد ہوگا۔

عالمی کرکٹ کی آمدنی کا بڑا حصہ انھی تین کرکٹ بورڈز کو ملے گا جبکہ ٹیسٹ میچوں میں ترقی اور تنزلی کے طریقۂ کار میں بھی یہ تینوں کرکٹ بورڈز تنزلی سے مبّرا ہوں گے۔

’بگ تھری پلان‘ یعنی کرکٹ کے تین بڑے ممالک انگلینڈ، آسٹریلیا اور بھارت کی انٹرنیشنل کرکٹ کونسل پر اجارہ داری کے مسودے کی پاکستان، سری لنکا اور جنوبی افریقہ کھل کر مخالفت کر رہے تھے۔

تاہم ہفتے کو ہونے والی ووٹنگ میں جنوبی افریقہ نےاس کے حق میں ووٹ ڈالا۔

بگ تھری‘ کے منصوبے کی کامیابی کے لیے انہیں پاکستان، جنوبی افریقہ اور سری لنکا میں سے کسی ایک ممبر کا ووٹ درکار تھا۔ ویسٹ انڈیز، نیوزی لینڈ، زمبابوے، اور بنگلہ دیش بگ تھری کے منصوبے کے حامی ہیں۔

آئی سی سی کی جانب سے منظور کردہ قرارداد کے تحت ٹیسٹ کھیلنے والی ٹیموں کے لیے سنہ 2023 اپنے ملک میں ٹیسٹ پروگرام کو یقینی بنانے کے لیے ایک ٹیسٹ فنڈ متعارف کیا جائے گا۔

یہ فنڈ کرکٹ آسٹریلیا، بی سی سی آئی اور ای سی بی کے علاوہ تمام ٹیسٹ کھیلنے والے ممالک کے لیے ہوگا۔

اس کی بھی تصدیق کی گئی ہے کہ فل ممبران آپس میں دو طرفہ معاہدے کریں تاکہ مستقبل کے دوروں کے نظام الاوقات کی تصدیق ہو سکے جس کی سنہ 2023 توسیع کی جائے گی۔

عالمی ٹیسٹ چیمپیئن شپ کی جگہ 2017 اور 2021 میں آئی سی سی چیمپیئن ٹرافی متعارف کی جائے گی۔ یہ ایک ایسا ٹورنامنٹ ہے جس کے لیے ٹاپ ایسوسی ایٹ ممبران کے بشمول کوئی بھی آئی سی سی کا ممبر ایک روزہ کرکٹ میں اپنی کارکردگی بہتر کرکے کوالیفائی کر سکتے ہیں۔

فل ممبران کو کھیل کے فروغ کے لیے کام کرنے، خاص کر مالی معاونت، آئی سی سی کی تاریخ اور میدان میں کارکردگی کی بنیاد پر زیادہ مالیاتی فوائد ہوں گے۔

نئے ماڈل کی ساخت اس بات کو یقینی بنائے گی کہ فل ممبران مالی طور اپنے موجودہ حالت سے بہتر ہوں۔

بی سی سی آئی کے سری نواسن جولائی سنہ 2014 سے آئی سی سی کے بورڈ کے چیئرمین کا عہدہ سنبھالیں گے۔آئی سی سی کا بورڈ فیصلہ سازی کے مرکز کے طور پر کام کرنا جاری رکھے گا۔

ایک نئی ایگزیکٹیو کمیٹی بنائے جائے گی جو بورڈ کو رپورٹ کرے گی۔ ابتدائی طور اس کمیٹی کے چیئرمین کرکٹ آسٹریلیا کے وولی ایڈورڈ ہوں گے جبکہ ای سی بی کے گائلز کلارک فنانس اور کمرشل افیئر کے کمیٹی کے چیئرمین ہوں گے۔ یہ دونوں افراد جولائی سنہ 2016 تک ان عہدوں پر کام کریں گے۔

جب یہ عبوری مدت پوری ہو جائے گی تو آئی سی سی بورڈ کے چیئرمین کو آئی سی سی بورڈ کے ممبران میں سے چنا جائے گا جس میں فل ممبر ڈائریکٹر انتخاب میں حصہ لے سکتے ہیں۔

مندرجہ بالا میں سے کئی فیصلوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے اب بھی آئی سی سی کے فل کونسل کی توثیق درکار ہے۔

آئی سی سی کے صدر ایلن آئزک نے کہا کہ’آج بورڈ نے بعض اہم فیصلے کیے ہیں جس سے ہمیں مستقبل میں گورننس اور مالی معاملات کو مستحکم کرنے میں مدد ملی ہے۔‘

اسی بارے میں