میں نہیں سمجھتا کہ پاکستان تنہا رہ گیا: ذکا اشرف

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ’پاکستان نے اسی اصولی موقف کی بنیاد پر جنوبی افریقہ اور سری لنکا کے ساتھ مشترکہ حکمت عملی اختیار کی تھی‘

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ذکا اشرف کا کہنا ہے کہ بگ تھری کے منصوبے کے بارے میں پاکستان اپنے اصولی موقف سے نہیں ہٹا لیکن اس بات کا ضرور افسوس ہے کہ جنوبی افریقہ ساتھ چھوڑ گیا جس نے آخر وقت تک یہ تاثر دیے رکھا تھا کہ وہ پاکستان اور سری لنکا کے ساتھ ہے۔

ذکا اشرف نے سنگاپور سے بی بی سی کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے اس اہم ترین معاملے پر جو اصولی موقف اختیار کیا اس پر انہیں فخر ہے کیونکہ وہ یہ محسوس کرتے ہیں کہ پیسے کے پیچھے بھاگنے کی اس روش سے انٹرنیشنل کرکٹ تباہ ہوجائے گی۔

ذکا اشرف نے کہا کہ پاکستان نے اسی اصولی موقف کی بنیاد پر جنوبی افریقہ اور سری لنکا کے ساتھ مشترکہ حکمت عملی اختیار کی تھی۔ ان کے سنگاپور پہنچنے تک جنوبی افریقی کرکٹ بورڈ یہی کہتا رہا تھا کہ وہ سری لنکا اور پاکستان کے ساتھ ہے لیکن آخروقت میں وہ بگ تھری سے جا ملا۔

ذکا اشرف نے کہا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ موجودہ صورتحال میں پاکستان تنہا رہ گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں بھارت سے دو طرفہ سیریز کھیلنے کی پیشکش قبول کرکے اپنے معاملات طے کر لینے چاہییں تھے لیکن حقیقت یہ ہے کہ بھارت صرف پیشکش کر رہا تھا لیکن اس بات کی ضمانت دینے کے لیے تیار نہیں تھا کہ سیریز نہ ہونے کی صورت میں وہ ہرجانہ دے گا۔

ذکا اشرف نے کہا کہ آئی سی سی کے گزشتہ اجلاس میں انہوں نے یہ نکتہ اٹھایا تھا کہ اگر بھارت پاکستان سے کھیلنے کی ہامی بھرکر بھی نہیں کھیلتا تو یہ معاملہ لوزان میں کھیلوں کی عالمی ثالثی عدالت میں جائے لیکن ان کے اس مطالبے کو دستاویز کا حصہ نہیں بنانے دیا گیا۔

واضح رہے کہ ہفتے کو انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ بورڈ نے کونسل کی گورننس اور مالی معاملات کی منظوری دے دی ہے۔

آئی سی سی کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’قرارداد کو سنگاپور میں ہونے والے اجلاس میں پیش کیا گیا۔ اس قرارداد کو دس ممبران میں سے آٹھ کے ووٹ ملے جبکہ پاکستان اور سری لنکا نے ووٹ میں حصہ نہیں لیا کیونکہ ان کا کہنا تھا کہ ان کو اس ترمیم شدہ قرار داد کی جانچ پڑتال کے لیے مزید وقت درکار ہے۔‘

اسی بارے میں