کرکٹ بورڈ کے سربراہوں کی لمبی فہرست میں کون کون؟

Image caption ہر حکومت ادارے کی باگ ڈور اپنی پسند کے شخص کے حوالے کرنے کو ترجیح دیتی ہے

پاکستان کرکٹ بورڈ کسی بھی دوسرے کھیل سے زیادہ مقناطیسی کشش ہونے کے سبب ہر دور میں حکومت کے چند پسندیدہ اداروں میں سے ایک رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر حکومت اس ادارے کی باگ ڈور اپنی پسند کے شخص کے حوالے کرنے کو ترجیح دیتی ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ یکم مئی1948 میں کرکٹ کنٹرول بورڈ آف پاکستان کے نام سے قائم ہوا تھا جس کے پہلے صدر پنجاب کے سرکردہ سیاست داں نواب افتخار حسین ممدوٹ بنے تھے۔یہ ادارہ بعد میں بی سی سی پی یعنی بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان پاکستان میں تبدیل ہوا اور پھر اسے پاکستان کرکٹ بورڈ کا نام دے دیا گیا۔

کرکٹ بورڈ کے سربراہ ہوں یا ایڈہاک کمیٹی کے چیئرمین ، اٹھائیس افراد کی لمبی فہرست میں سیاست دان، سرکاری افسران، جج صاحبان اور فوجی جرنیل، سب ہی کے نام دکھائی دیتے ہیں۔

سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ حکمرانوں نے اپنی پسند کے لوگوں کو کرکٹ بورڈ میں بٹھانے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ خود بھی اس ادارے کے معاملات میں اپنا براہ راست عمل دخل جاری رکھا۔

سابق وزیراعظم محمد علی بوگرہ وہ پہلے حکمران تھے جو کرکٹ بورڈ کے صدر بنے۔ صدر سکندر مرزا اور جنرل ایوب خان نے بھی ان کی تقلید کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption نجم سیٹھی کا تعلق صحافت سے ہے

حکمرانوں نے بعد میں پاکستان کرکٹ بورڈ سے اپنا تعلق پیٹرن یعنی سرپرست بن کر جوڑے رکھا ۔ پیٹرن پہلے صدر مملکت ہوا کرتے تھے لیکن موجودہ دور حکومت میں کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کی تقرری کا اختیار وزیراعظم کو حاصل ہوگیا ہے۔

پچاس اور ساٹھ کے عشرے تک کرکٹ کے انتظامی معاملات زیادہ تر بیورو کریٹس سنبھالتے رہے جن میں چوہدری نذیر احمد خان، سید فدا حسن اور اکرام اللہ خان ( آئی یو خان ) کے نام شامل ہیں۔ سید فدا حسن کرکٹر بھی تھے جنہوں نے غیرمنقسم ہندوستان کی طرف سے ایم سی سی کے خلاف غیرسرکاری ٹیسٹ میچ بھی کھیلا تھا۔ اس دوران میاں امین الدین اور عبدالستار پیرزادہ جیسے سیاست دانوں کو بھی کرکٹ بورڈ میں آنے کا موقع ملا۔

جسٹس کارنیلئس وہ پہلے جج تھے جو ایڈہاک کمیٹی کے چیئرمین بنے ۔ بعد میں جسٹس نسیم حسن شاہ بھی کرکٹ بورڈ کے سربراہ مقرر ہوئے۔

سکندر مرزا اور ایوب خان کے بعد افواج پاکستان سے تعلق رکھنے والے پانچ افراد لیفٹننٹ جنرل کے ایم اظہر، ایئرمارشل نورخان، لیفٹننٹ جنرل غلام صفدر بٹ، لیفٹننٹ جنرل زاہد علی اکبر اور لیفٹننٹ جنرل توقیر ضیا قومی کرکٹ کے معاملات سنبھال چکے ہیں۔

سابق ٹیسٹ کرکٹرز میں عبدالحفیظ کاردار، جاوید برکی اور اعجازبٹ کرکٹ کے امور چلاچکے ہیں۔

اعجاز بٹ کے خسر چوہدری محمد حسین بھی بورڈ کے چیئرمین رہے جو خود سابق وزیردفاع چوہدری احمد مختار کے والد تھے۔

بیورو کریسی سے کرکٹ بورڈ میں آنے والوں میں خالد محمود اور ڈاکٹر ظفرالطاف کے نام بھی شامل ہیں۔ڈاکٹر ظفرالطاف پاکستان کرکٹ بورڈ کے سیکریٹری اور ٹیم کے منیجر بھی رہے ۔

سابق سیکریٹری خارجہ اور سفیر شہریار خان بھی پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ رہ چکے ہیں اور حکمرانوں کی نظرکرم کے سبب ذوالفقار علی شاہ بخاری، مجیب الرحمن اور ڈاکٹر نسیم اشرف نے بھی اس عہدے کے مزے لوٹے ہیں۔

ذکا اشرف بزنس مین ہیں اور آصف علی زرداری کی قربت انہیں زرعی ترقیاتی بینک سے کرکٹ بورڈ میں لائی جبکہ نجم سیٹھی کا تعلق صحافت سے ہے۔

اسی بارے میں