بگ تھری مسودہ کتنے دن سیٹھی کے پاس رہا؟

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کرکٹ بورڈ ہر دور میں کسی مغلیہ دربار کی تصویر پیش کرتا ہے جہاں بادشاہ سلامت کی ہاں میں ہاں ملانے میں ہی نوکری کی امان ہے۔

چیئرمین کا چہرہ بدل جاتا ہے، لیکن باقی لوگ وہی رہتے ہیں جنھیں ہر آنے والے سربراہ کو خوش آمدید کہتے ہوئے شیشے میں اتارنے اور جانے والے سے آنکھیں پھیر لینے کا فن خوب آتا ہے۔

وہی لوگ جو چند روز پہلے تک ذکا اشرف کے کندھے سے کندھا ملائے میڈیا کے کیمروں کے فریم سے آؤٹ نہ ہونے کی کوشش کرتے ہوئے ان کے ہر اقدام کو درست قراردینے میں پیش پیش تھے، اب نجم سیٹھی سے جڑ کر سابقہ فیصلوں کو پاکستانی کرکٹ کے لیے تباہ کن قرار دینے کی دلیلیں دیتے نہیں تھک رہے ہیں۔

ذکا اشرف کو برطرف کرنے کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی گئی کہ انھوں نے آئی سی سی میں بگ تھری کے معاملے میں پاکستان کا مقدمہ صحیح طور پر نہیں لڑا اور ان کی وجہ سے پاکستان بین الاقوامی کرکٹ میں تنہا رہ گیا۔

یہاں یہ بات نظرانداز کردی گئی ہے کہ جب نو جنوری کو آئی سی سی کے اجلاس میں بگ تھری کا مجوزہ منصوبہ پیش کیا گیا تھا تو اس اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی ذکا اشرف نے نہیں بلکہ نجم سیٹھی نے کی تھی، جن کے ساتھ چیف آپریٹنگ آفیسر سبحان احمد تھے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بین الاقوامی کرکٹ کے تناظر میں پاکستان کے مستقبل سے متعلق انتہائی اہم معاملے پر نجم سیٹھی نے خاموشی کیوں اختیار رکھی؟

کیا یہ ضروری نہ تھا کہ وہ اس اہم معاملے پر مقتدر حلقوں کو باخبر کرتے، انھیں اعتماد میں لیتے اور ایک متفقہ اور مضبوط لائحۂ عمل تیار کیا جاتا؟

لیکن اس اہم معاملے کو نہ جانے کیوں رازداری میں رکھا گیا، یہاں تک کہ بگ تھری کا یہ مجوزہ مسودہ اور ان کے عزائم ذرائع ابلاغ کی زینت بن گئے۔

اسی دوران ذکا اشرف اسلام آباد ہائی کورٹ کے ڈویژن بنچ کے فیصلے کے نتیجے میں اپنے عہدے پر بحال ہوئے تو انھوں نے اس معاملے پر فوری توجہ دی، لیکن بدقسمتی سے انھیں حکومت کی سرد مہری کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ وہ انھیں چیئرمین کے طور پر قبول کرنے کے لیے تیار نہ تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ذکا اشرف کے وزیراعظم کو لکھے گئے خطوط کا نہ جواب ملا اور نہ ہی ملاقات کا وقت۔

نجم سیٹھی نے اس بگ تھری منصوبے کا ذکر اپنے ٹی وی پروگرام میں اس وقت کیا تھا جب وہ چیئرمین نہیں رہے تھے۔

یہاں سب سے حیران کن بات شہر یارخان کا موقف ہے۔ انھوں نے ذکا اشرف کی آئی سی سی کے اجلاس میں شرکت اور بگ تھری کو ووٹ نہ دینے پر واضح طور پر کہا تھا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو اپنے اصولی موقف سے نہیں ہٹنا چاہیے اور بگ تھری کے منصوبے کی مخالفت جاری رکھنی چاہیے۔ لیکن اب جب کہ وہ نجم سیٹھی کی سربراہی میں قائم کردہ مینجمنٹ کمیٹی کا حصہ بن چکے ہیں انھوں نے چپ سادھ لی ہے۔

نجم سیٹھی کے لیے اب کڑا امتحان ہے کہ وہ اب آئی سی سی میں جا کر پاکستانی کرکٹ کے لیے کیا حاصل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ لیکن ان دنوں وہ سیاسی حلقوں میں بھی تنقید کی زد میں آئے ہوئے ہیں جس کا موضوع ’35 پنکچر‘ ہیں۔

نجم سیٹھی پر عمران خان نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی چیئرمین شپ دراصل وہ انعام ہے جو انھیں گذشتہ عام انتخابات میں مبینہ طور پر مسلم لیگ ن کو ہاری ہوئی نشستیں جتوانے پر دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں وہ 11 مئی کی رات اس مبینہ گفتگو کا حوالہ دیتے ہیں جس میں نجم سیٹھی نے نوازشریف کو کہا تھا کہ 35 نشستوں کو پنکچر کر دیا گیا۔

اس معاملے کو پاکستانی ذرائع ابلاغ نے بڑی اہمیت دی ہے بلکہ جب پی سی بی کا چارج سنبھالنے کے بعد وہ میڈیا سے بات کر رہے تھے تو ایک صحافی نے یہ سوال کر ڈالا جس پر نجم سیٹھی ناراض ہوگئےاور اس صحافی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ فضول بات نہ کریں، آپ یہاں کرکٹ کی بات کرنے آئے ہیں یا ٹانگ کھینچنے؟

یہاں یہ سوال بھی سامنے آیا ہے کہ چونکہ نجم سیٹھی یہ واضح کر چکے ہیں کہ وہ مکمل اختیارات کے ساتھ ’چیئرمین منتخب‘ ہوئے ہیں تو کیا وہ نجی ٹی وی پر پروگرام کرتے رہیں گے؟ اور اگر انھوں نے ایسا کیا تو کیا یہ مفادات کا ٹکراؤ نہیں ہوگا؟

اسی بارے میں