معین خان نئے کوچ ، عامر سہیل کی چھٹی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption معین خان پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان بھی رہے ہیں

سابق وکٹ کیپر بیٹسمین معین خان کو ایشیا کپ اور آئی سی سی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے لیے پاکستانی کرکٹ ٹیم کا نیا ہیڈ کوچ مقرر کردیا گیا ہے، جب کہ عامر سہیل کو چیف سیلیکٹر کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے ۔

جونیئر سیلیکشن کمیٹی کے چیئرمین محمد الیاس اور کراچی کی ریجنل اکیڈمی کے کوچ باسط علی بھی فارغ کر دیے گئے ہیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف آپریٹنگ آفیسر سبحان احمد کا کہنا ہے کہ عامر سہیل کو کوئی لیٹر ہی جاری نہیں کیا گیا تھا لہٰذا ان کے پاس کوئی عہدہ نہیں تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ اظہرخان قائم مقام چیف سیلیکٹر ہوں گے جبکہ سلیم جعفر اور فرخ زمان بدستور سیلیکٹرز کی ذمہ داری نبھاتے رہیں گے۔

ظہیرعباس بیٹنگ کنسلٹنٹ کے طور پر غیرملکی دوروں پر جائیں گے۔

یہ تمام فیصلے نجم سیٹھی کی سربراہی میں قائم کی گئی مینجمنٹ کمیٹی نے منگل کو لاہور میں اپنے پہلے اور تقریباً ساڑھے پانچ گھنٹے طویل اجلاس میں کیے۔

یاد رہے کہ پیر کے روز وزیراعظم نے ذکا اشرف کو ہٹاکر نجم سیٹھی کو پاکستان کرکٹ بورڈ کی باگ ڈور سونپ دی تھی جن کی سربراہی میں قائم کردہ مینجمنٹ کمیٹی نے اپنے پہلے اجلاس میں ذکا اشرف کے کیے گئے فیصلوں کا ازسرنو جائزہ لیتے ہوئے ان میں ردوبدل کیا جوغیرمتوقع نہیں تھا۔

معین خان کو کوچ بنانے کا فیصلہ اس چار رکنی کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں کیا گیا ہے جو نئے کوچ کا انتخاب کرنے کے لیے قائم کی گئی تھی۔ کمیٹی نے وقاریونس اور معین خان کے ناموں کو شارٹ لسٹ کیا تھا۔

کمیٹی کو تقریباً 25 درخواستیں موصول ہوئی تھیں جن میں کوئی بھی غیرملکی شامل نہیں تھا۔

معین خان نے اس سے پہلے کوچنگ نہیں کی ہے، لیکن انہیں انٹرنیشنل کرکٹ کا وسیع تجربہ حاصل ہے۔ وہ گذشتہ سال پاکستانی ٹیم کے مینجر بنائے گئے تھے اور انہوں نے اپنی خوشدلی اور عمدہ رویے کے سبب ڈریسنگ روم میں انتہائی خوشگوار ماحول قائم کرنے کے ساتھ ذرائع ابلاغ اور ٹیم کے درمیان اچھے روابط میں بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔

سابق ٹیسٹ کرکٹر شعیب محمد پاکستانی ٹیم کے فیلڈنگ کوچ اور محمد اکرم بولنگ کوچ ہوں گے۔

حیران کن بات یہ ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے ہیڈ کوچ بیٹنگ اور فیلڈنگ کوچ کے لیے درخواستیں طلب کی تھیں لیکن بولنگ کوچ کے عہدے کے لیے اشتہار نہیں دیا تھا اور ذکا اشرف نے پہلے سے کام کرنے والے محمد اکرم کے معاہدے میں دو سال کی توسیع کردی تھی اور نئی مینجمنٹ نے بھی انہیں برقرار رکھا ہے۔

محمد اکرم اگست 2012 میں پہلی بار بولنگ کوچ بنائے گئے تھے لیکن ان کے ہوتے ہوئے بولنگ کے شعبے میں کوئی غیرمعمولی بہتری نہیں آئی بلکہ متعدد بولرز فٹنس مسائل سے دوچار ہوتے رہے۔

محمد اکرم نے صرف نو ٹیسٹ میچوں میں پاکستانی ٹیم کی نمائندگی کی ہے جن میں انہوں نے 50 کی بھاری اوسط سے 17 وکٹیں حاصل کی تھیں تاہم وہ جنوبی افریقہ کے اس واقعے کی وجہ سے زیادہ یاد رکھے جاتے ہیں جس میں وہ اور ثقلین مشتاق مبینہ طور پر جوہانسبرگ میں ٹیم کے ہوٹل کے باہر لُٹ گئے تھے۔

اسی بارے میں