’ٹریک صرف خواتین ہی نہیں مرد ڈرائیوروں کے لیے بھی اتنا ہی مشکل ہے‘

Image caption ٹریشنا پٹیل نے ریس سے قبل کہا تھا کہ ان کا مقصد جیتنا نہیں بلکہ ریس مکمل کرنا ہے

پاکستان میں خواتین کا زندگی کے تمام شعبوں میں کام کرنے کو مشکل تصور کیا جاتا ہے لیکن کچھ خواتین ایسی بھی ہیں جو سمجھتی ہیں کہ اگر اعتماد ہو تو ناممکن کو ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ ان میں سے ایک صوبہ پنجاب کے صحرائے چولستان میں صوبائی حکومت کے زیرانتظام نویں جیپ ریس مقابلوں میں پہلی بار حصہ لینے والی خاتون ٹریشنا رانی پٹیل ہیں۔

صحرا کی ریت، ٹیلوں اور خطرناک موڑوں پر مشتمل ایک مشکل ٹریک پر اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنا کوئی آسان کام نہیں اور اس سے پہلے اس ریس میں مرد ڈرائیوروں کی اجارہ داری رہی ہے لیکن اب ٹریشنا پٹیل اس مشکل کھیل میں اپنی پہچان بنا رہی ہیں۔

انھوں نے کوالیفائنگ راؤنڈ کو دو منٹ اور نو سیکنڈ میں مکمل کیا اور اس کارکردگی پر برسوں سے اس ایونٹ میں حصہ لینے والی جیپ ڈرائیور پر داد دیے بغیر نہ رہ سکے۔ انھوں نے 215 کلومیٹر کے ٹریک میں سٹاک ٹو کیٹیگری میں حصہ لیا اور اس کو مکمل کیا۔

ٹریشنا پٹیل سے جب پوچھا کہ آپ پہلی خاتون جیپ ریسر ہیں تو اس پر انھوں نے ہنستے ہوئے کہا کہ ’نہیں صرف پاکستان میں ۔۔۔ دنیا میں جیپ ریسنگ میں خواتین ایک عرصے سے حصہ لے رہی ہیں۔‘

Image caption ’نہیں صرف پاکستان میں ۔۔۔ دنیا میں جیپ ریسنگ میں خواتین ایک عرصے سے حصہ لے رہی ہیں‘

انھوں نے کہا کہ جو خواتین اگر سمجھتی ہیں کہ ان میں اعتماد اور صلاحیتیں موجود ہیں تو ان کو آگے بڑھنا چاہیے اور مردوں کو بتانا چاہیے کہ وہ کسی سے کم نہیں ہیں۔

ایک مشکل ٹریک جہاں حادثات بھی رونما ہوتے ہیں وہاں جیپ ریسنگ میں حصہ لینے کے بارے میں ٹریشنا نے کہا: ’ٹریک صرف خواتین کے لیے ہی مشکل نہیں بلکہ مرد ڈرائیوروں کے لیے بھی اتنا ہی مشکل ہے اور اس میں شرکت کرنے والے تمام افراد کامیاب نہیں ہوتے۔‘

انھوں نے کہا کہ دو ماہ پہلے بلوچستان کے علاقے جھل مگسی میں جیپ ریسنگ کے مقابلوں میں حصہ لیا تھا اور اس میں ان کی چوتھی پوزیشن آئی تھی: ’لیکن حصہ لیتے وقت میرا ہدف صرف یہ ہوتا ہے کہ ہر حال میں ریس مکمل کرنی ہے۔‘

ٹریشنا رانی پٹیل کے مطابق ان کے شوہر رونی پٹیل گذشتہ تیس سال سے کار ریسنگ میں حصہ لے رہے ہیں اور شادی کے بعد ریسنگ میں حصہ لینے میں دلچپسی لی تو ان کے شوہر نے بھی حوصلہ افزائی کی اور آج ملک میں کار ریسنگ کے سب سے بڑے مقابلے میں شرکت کر رہی ہیں۔

Image caption ٹریشنا کی گاڑی کوالیفائنگ راؤنڈ کے اختتام سے کچھ ہی دور

اس شعبے میں مشکلات کے بارے میں بات کرتے ہوئے ٹریشنا رانی پٹیل نے کہا کہ ’مشکلات ہوتی ہیں لیکن اعتماد ہو تو پذیرائی بھی ملتی ہے اور مجھے محسوس نہیں ہوا کہ کسی نے تفریق کی ہو بلکہ شائقین اور دیگر ساتھی مرد ڈرائیور ہمیشہ ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔‘

ملک میں خواتین کے حقوق کی بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اکثر خواتین کو خاندان اور معاشرے کی جانب سے رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا ہے لیکن اپنی ہمت اور اعتماد سے وہ آگے آ سکتی ہیں۔

جیپ ریسنگ کے دوران لاؤڈ سپیکر پر کئی بار ٹریشنا پٹیل کو بھابھی کہا گیا اور اس کی وجہ ان کے شوہر کی کار رونی پٹیل کک کار ریسنگ کے مقابلوں میں مسلسل شرکت کرنا ہے۔

رونی پٹیل سے جب ان کی اہلیہ کی کوالیفائنگ راؤنڈ میں کارکردگی کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے مسکرا کر جواب دیا کہ ساتھی ڈرائیور ان کے پاس آ رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں ’ساڈی بِستی کرا دتی۔‘

رونی پٹیل نے اپنی اہلیہ کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ’زمانہ آگے بڑھ رہا ہے اور ہم کوشش کر کے اس کو پیچھے کی جانب گھسیٹ رہے ہیں، اور اب یہ چیز زیادہ چلے گی نہیں اور سب کو برابری کے حقوق حاصل ہونے چاہییں۔ اس میں اگر ایک عورت کا دل کار ریسنگ کرنے کا ہے تو اسے بالکل کرنی چاہیے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ اگر خواتین کو موقع دیا جائے تو بہت سارے شعبوں میں وہ مردوں سے آگے نکل جاتی ہے۔ عورتوں کو تعلیم دینی چاہیے اور انھیں تمام شعبوں میں کام کرنے کا حق دیا جانا چاہیے کیونکہ آج کے دور میں عورتوں کا کام صرف بچے پیدا کرنا اور گھر سنبھالنا نہیں ہے۔

پاکستان میں گذشتہ چند سالوں سے جہاں عورتوں پر تشدد کے واقعات رونما ہوئے وہاں خواتین کو فوج سمیت مختلف شعبوں میں حصہ دینے کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں تاہم ضرورت اس بات کی ہے کہ عورتوں کو زندگی کے مختلف شعبوں میں موقع دینے اور اس ضمن میں شعور پیدا کرنے کی زیادہ سے زیادہ کوششیں کی جائیں۔

Image caption کوالیفائنگ راؤنڈ کے بعد ٹریشنا پٹیل اپنی گاڑی کے انجن کی چیکنگ کراتے ہوئے