سوچی: پاکستانی کھلاڑی محمد کریم 71ویں نمبر پر

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption 16 سالہ محمد کریم نے یہ لیپ 3:27.41 میں مکمل کیا

روس کے شہر سوچی میں جاری سرمائی اولمپکس میں پاکستان کے واحد کھلاڑی محمد کریم نے جائنٹ سلالم ایلپائن میں 71ویں پوزیشن حاصل کی ہے۔

اس مقابلے میں پہلی پوزیشن امریکہ جبکہ دوسری اور تیسری پوزیشن فرانس کے سکیئرز نے حاصل کی۔

پہلی پوزیشن پر آنے والے امریکی کھلاڑی ٹیڈ لیگٹی نے 2:45.29میں لیپ مکمل کیا جبکہ 71ویں نمبر پر آنے والے پاکستانی محمد کریم نے یہ لیپ 3:27.41 میں مکمل کیا۔

16 سالہ محمد کریم کا تعلق پاکستان کے شمال میں گلگت بلتستان کے دور دراز علاقے نلتر بالا سے ہے۔

نلتر بالا کے ایک سکول سے آٹھویں جماعت پاس کرنے کے بعد محمد کریم گلگت کے ایک سکول میں نویں جماعت کے طالب علم ہیں۔ ان کا گاؤں گلگت سے 45 کلومیٹر پر واقع ہے اور وہاں صرف ایک مڈل سکول ہے۔

محمد کریم نے بتایا کہ پانچ یا چھ سال کی عمر میں وہ اپنے بڑے بھائی کے ہمراہ اپنے گاؤں کے قریب واقع پاکستانی فضائیہ کے سکیئنگ کے تربیتی مرکز میں جایا کرتے تھے اور وہیں ان میں بھی سکیئنگ کا شوق پیدا ہوا۔

’شروع شروع میں میرے پاس نہ ساز و سامان تھا اور نہ ہی دیگر ذرائع۔ ایسے میں پاکستانی فضائیہ نے میری مدد کی، مجھے ساز و سامان اور تربیت دی اور اس قابل بنایا کہ بیرون ملک جا کر تربیت حاصل کر سکوں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption متوسط خاندان اور دور دراز علاقے سے تعلق رکھنے والے اس طالب علم کو اس مہنگے کھیل میں مہارت حاصل کرنے کے لیے بعض مسائل کا بھی سامنا رہا

محمد کریم 12 سال کی عمر سے بین الاقوامی مقابلوں میں پاکستان کی نمائندگی کرتے رہے ہیں۔ وہ 2008 میں یورپی ملک آسٹریا میں انٹرنیشنل سکیئنگ فیڈریشن کے زیراہتمام تربیت حاصل کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ اٹلی، ترکی اور لبنان وغیرہ میں بھی مقابلوں میں حصہ لے چکے ہیں۔

متوسط خاندان اور دور دراز علاقے سے تعلق رکھنے والے اس طالب علم کو اس مہنگے کھیل میں عروج حاصل کرنے کے لیے بعض مسائل کا بھی سامنا رہا۔

’ابتدائی تربیت تو میں نے جیسے تیسے گاؤں کےقریب فضائیہ کے مرکز سے حاصل کر لی لیکن پاکستان میں بین الاقوامی معیار کا کوئی ساز و سامان یا میدان نہیں ہے۔ اس کے علاوہ پڑھائی کے ساتھ ساتھ اس کھیل کے لیے وقت نکالنا میرے لیے بڑے چیلنج تھے۔

اسی بارے میں