’کرکٹ کی دنیا میں پاکستان تنہا کھڑا ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس ماہ کی دس تاریخ کو وزیرِ اعظم نواز شریف کو ذکا اشرف کو برطرف کر کے نجم سیٹھی کو کرکٹ بورڈ کا چیئرمین مقرر کیا تھا

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ پاکستانی کرکٹ کے نشریاتی حقوق سمیت کئی اہم معاملات اسی وقت طے کیے جا سکیں گے جب بگ تھری کے بارے میں حتمی فیصلہ ہو جائے گا۔

نجم سیٹھی نے بی بی سی کو ایک انٹرویو میں کہا کہ نشریاتی حقوق کے لیے براڈ کاسٹرز کا فیصلہ کرنے سے پہلے یہ طے کرنا ضروری ہے کہ پاکستانی ٹیم اگلے چھ آٹھ سال میں کن کن ٹیموں سے دو طرفہ سیریز کھیلےگی: ’ابھی تو صورتِ حال غیر یقینی ہے۔ جب حالات واضح ہوں گے تبھی نشریاتی حقوق کے لیے پیشکشیں مانگی جائیں گی۔‘

پاکستان کرکٹ بورڈ نے گذشتہ سال ستمبر میں نشریاتی حقوق چار سال کی بجائے صرف دو سیریز کے لیے دیے تھے کیونکہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کی رو سے نجم سیٹھی ُاس وقت طویل المدتی فیصلے نہیں کر سکتے تھے۔

کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نے کہا کہ غور طلب امر یہ ہے کہ اگر پاکستان کو مستقبل میں کوئی سیریز ہی نہیں ملتی تو پھر کیا ہوگا؟ ’ابھی اس بات کی کوئی ضمانت نہیں ہے کہ پاکستان کی دو طرفہ سیریز برقرار رہتی ہیں یا نہیں۔ ابھی تو شکوک و شبہات ہی ہیں کہ آئی سی سی کے دیگر ممالک کا پاکستان کے ساتھ کیا رویہ رہتا ہے، کیونکہ اس وقت پاکستان تنہا کھڑا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ایشیا کپ کے دوران ان کی بھارت، سری لنکا اور بنگلہ دیشی کرکٹ بورڈ کے اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں متوقع ہیں لیکن صورتِ حال اپریل میں واضح ہوگی۔

نجم سیٹھی نے کہا کہ ’آئی سی سی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے بعد چھ ماہ تک پاکستانی ٹیم کی کوئی بھی انٹرنیشنل مصروفیات نہیں ہیں، اسی وجہ سے پی سی بی کی منیجمنٹ کمیٹی نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ کئی اہم معاملات کو اس وقت نہ چھیڑا جائے۔ اسی سیلیکشن کمیٹی کو برقرار رکھا جائے۔ نیا چیف سیلیکٹر مقرر نہ کیا جائے اور صرف دو ایونٹس کے لیے کوچ کی تقرری کی جائے، حالانکہ کوچ تلاش کرنے والی کمیٹی نے یہ کہا تھا کہ جو بھی کوچ ہو، وہ کم ازکم ایک سال کے لیے ہونا چاہیے۔‘

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ میں بہت زیادہ تبدیلیاں ہونی چاہییں: ’لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ایک تبدیلی پر ہی میڈیا شور مچانا شروع کر دیتا ہے اور کرکٹ بورڈ کی بات سننے کے لیے کوئی بھی تیار نہیں ہوتا۔ میانداد کا معاملہ سب کے سامنے ہے۔ اگر پاکستان کرکٹ بورڈ مزید کسی سینیئر افسر کو فارغ کرتا ہے یا وہ استعفیٰ دیتا ہے تو ٹی وی چینلز شورمچانا شروع کر دیں گے۔‘

انہوں نے کہا کہ وہ سابق کرکٹرز جو پہلے بورڈ میں ہوا کرتے تھے اب باہر بیٹھے ہیں اور دوبارہ بورڈ میں آنا چاہتے ہیں:’ٹی وی چینلز دیکھ لیں آپ کو اندازہ ہوجائے گا۔‘

نجم سیٹھی نے کہا کہ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ جن لوگوں کو نکالا جائے ان کی جگہ لینے والے ان سے زیادہ قابل ہیں یا نہیں؟

اسی بارے میں