برازیل کا ’جنسی کشش‘ والی شرٹس پر اعتراض

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ایڈی ڈس برازیل میں ہونے والے ورلڈ کپ کی بڑی سپانسر ہے اور ٹورنمنٹ کے لیے فٹبال بھی فراہم کر رہی ہے

برازیل کے حکام کے اعتراض کے بعد کھیلوں کا سامان بنانے والی بین الاقوامی کمپنی ایڈی ڈس نے فٹبال کے عالمی کپ کی ٹی شرٹوں کی فروخت روک دی ہے۔

برازیلی حکام نے شکایت کی تھی کہ ٹی شرٹوں کی وجہ سے ملک کی شہرت کو ’جنسی کشش‘ سے منسوب کر دیا گیا ہے۔

برازیل کے سیاحت سے متعلق ادارے کا کہنا ہے کہ وہ سختی سے ایسی مصنوعات کے خلاف ہیں جن سے برازیل کو ’جنسی کشش‘ سے منسوب کیا جائے۔

ادارے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’برازیل اپنی حدود میں اس نوعیت کے جرم کو بالکل برداشت نہیں کرے گا۔‘

ایڈی ڈس برازیل میں منعقد ہونے والے فٹبال کے عالمی کپ کی مرکزی سپانسر ہے اور عالمی کپ کے دوران اس کے تیار کردہ فٹبال استعمال کیے جائیں گے۔

تنازعے کے بعد ایڈی ڈس نے ٹی شرٹوں کی فروخت روک دی ہے۔ یہ ٹی شرٹیں محدود تعداد میں امریکہ میں فروخت ہونا تھیں۔

کمپنی کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ’ ایڈی ڈس ہمیشہ سے اپنے شراکت داروں اور صارفین پر قریبی توجہ دیتی ہے۔‘

کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ ان مصنوعات کو دوبارہ فروخت کے لیے پیش نہیں کیا جائے گا۔

منگل کو برازیل کی وزارتِ سیاحت نے پہلے ہی ٹی شرٹوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ملک کی ساکھ اور جنسی کشش کے درمیان کوئی بھی تعلق تشہیر کی سرکاری پالیسی کی خلاف ورزی ہے۔‘

برازیل کی صدر جیلما روسیف نے بھی سماجی رابطوں کی ویب سائٹس ٹوئٹر پر پیغام میں کہا ہے کہ ’برازیل فٹبال کے عالمی کپ میں شرکت کے لیے آنے والے سیاحوں کا خیرمقدم کر کے خوشی محسوس کرے گا لیکن ان کا ملک جنسی سیاحت کے خلاف اقدامات پر تیار رہے گا۔‘

برازیل کا کہنا ہے کہ وہ جنس کشش سے متعلق گھسی پٹی شناخت سے خود کو دور کرنے کی کوششیں کر رہا ہے۔

اسی بارے میں