سپنرز کی بازی میں سنگاکارا کی دھوم

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سنگاکارا نے مشکل وقت میں اپنے وسیع تجربے کی بدولت ایک بار پھر اپنے ورلڈ کلاس بلے باز ہونے کا ثبوت فراہم کیا

سپن بولنگ کی قوت دکھانے کے زبردست مظاہرے میں کمار سنگاکارا کی شاندار سنچری نے سری لنکا کو بھارت کے خلاف دو وکٹوں سے کامیابی دلا دی۔

اس میچ میں گرنے والی 17 میں سے 13 وکٹیں سپنرز کے حصے میں آئیں۔

یہ ایشیا کپ میں سری لنکا کی دوسری کامیابی اور بھارت کی پہلی شکست ہے۔

سنگاکارا نے مشکل وقت میں اپنے وسیع تجربے کی بدولت ایک بار پھر اپنے ورلڈ کلاس بلے باز ہونے کا ثبوت فراہم کیا۔

انھوں نےاپنے کریئر کی 18 سنچریسکور کی۔

آخری 15 ون ڈے اننگز میں وہ دو سنچریاں اور سات نصف سنچریاں بنا چکے ہیں۔

سنگاکارا نے اپنی شاندار بیٹنگ سے جیت کی راہ ہموار کی لیکن جب وہ آؤٹ ہوئےتو سری لنکا کو جیت کے لیے سات رنز درکار تھے اور اس کی صرف دو وکٹیں باقی تھیں ۔

مینڈس کے چوکے نے سکور برابر کردیا لیکن اس موقع پر شیکھر دھون نے تشارا پریرا کا آسان کیچ ڈراپ کرکے آخری امید بھی ختم کر دی۔

265 رنز کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے سری لنکا کا آغاز پراعتماد تھا۔ تھری مانے اور کوشل پریرا نے 80 رنز کا اضافہ کیا۔ دونوں بلے بازوں کو ایشون نے آؤٹ کیا۔

64 رنز کی عمدہ اننگز کھیلنے والے کوشل پریرا کو آؤٹ کرکے ایشون نے ون ڈے انٹرنیشنل میں وکٹوں کی سنچری بھی مکمل کی۔

سری لنکا نے خود کو اس وقت دلدل میں محسوس کیا جب جدیجا نے لگاتار دوگیندوں پرمہیلا جے وردھنے اور چندی مل کی وکٹیں حاصل کرڈالیں جس کے بعد نیّا کو پار لگانے کی تمام تر ذمہ داری سنگاکارا نے سنبھال لی۔

اس سے پہلے بھارتی ٹیم ٹاپ آرڈر بیٹنگ کی ناکامی اور لوئر آڈر بلے بازوں کے قطرہ قطرہ جوڑنے کے سبب نو وکٹوں پر 2364 رنز تک پہنچ سکی۔

اس کی آٹھ وکٹیں سکور میں صرف 117 رنز کا اضافہ کرسکیں۔

ایک ایسی وکٹ پر جہاں گیند نیچے رہ رہی تھی اوپنرز کے لیے کھل کر رنز بنانا آسان نہ تھا۔

بھارتی اوپنرز پہلے تین اوورز میں تین ہی رنز بنا سکے اور 10ویں اوور میں جب سکور 33 رنز تھا بھارت نے پہلی وکٹ گنوائی لیکن روہت شرما ایل بی ڈبلیو دیے جانے پر خوش نہیں تھے۔

بڑے سکور تک پہنچنے کی ذمہ داری ایک بار پھر ویراٹ کوہلی نے سنبھالی۔

انھوں نے شیکھر دھون کے ساتھ 97 رنز کا اضافہ کیا لیکن وکٹ اور موثر بولنگ کے سبب چوکوں چھکوں کے بجائے دونوں بلے بازوں کو وکٹوں کے درمیان دوڑنے پر ہی انحصار کرنا پڑا تھا۔

یہ شراکت اجانتھا مینڈس نے کوہلی کو 48 رنز کے انفرادی سکور پر بولڈ کرکے ختم کی۔

مینڈس نے ایک ہی اوور میں شیکھر دھون اور دنیش کارتک کو بھی پویلین کی راہ دکھا کر ایک بڑے سکور تک پہنچنے کی رہی سہی امید بھی ختم کردی۔

شیکھر دھون مینڈس کی گیند پر بولڈ ہوکر چھ رنز کی کمی سے سنچری نہ بنا سکے۔

مہندر سنگھ دھونی کی جگہ ٹیم میں لیے گئےدنیش کارتک صرف تین گیندوں کے مہمان ثابت ہوئے۔

اجانتھا مینڈس اپنے آخری اوور میں محمد شامی کے لگائے گئے دو چھکوں کے سوا تمام وقت بھارتی بلے بازوں کے لیے درد سر ثابت ہوئے۔

مینڈس کی چار وکٹوں کے علاوہ سینانائیکے کی تین وکٹوں نے بھی بھارتی بیٹنگ کو بڑے جھٹکے دیے۔

اسی بارے میں