افغانستان کو بڑی ٹیموں کو صرف ڈرانا ہی نہیں ہرانا بھی آتا ہے

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption سمیع اللہ شنواری اور اصغر ستانکزئی نے بنگلہ دیش کو کٹھ پتلی تماشہ بنادیا جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہےکہ آخری دس اوورز میں ایک سو سات رنز بنے

افغانستان کو بڑی ٹیموں کو صرف ڈرانا ہی نہیں ہرانا بھی آتا ہے اور یہ بات اس نے ہفتے کے روز بنگلہ دیش کے خلاف بتیس رنز کی جیت سے ثابت کردی۔

یہ افغانستان کی آئی سی سی کی کسی بھی ٹیسٹ ٹیم کے خلاف پہلی جیت ہے۔

پاکستان کی چھ وکٹیں صرف ایک سو سترہ رنز پر حاصل کرکے افغانستان کی ٹیم نے آنے والے میچوں کے لیے اپنے خطرناک عزائم ظاہرکردیے تھے اور دو روز بعد ہی بنگلہ دیشی ٹیم اس کی زد میں آ گئی۔

بنگلہ دیش کے خلاف افغانستان کی یہ کارکردگی اس اعتبار سے بھی غیرمعمولی اہمیت کی حامل ہے کہ اس نے صرف نوے رنز پر پانچ وکٹیں گرنے کے بعد سنبھالا لیا تھا اور پھر اس کے بولرز دو سو پچپن رنز کےدفاع میں کامیاب رہے۔

مشفق الرحیم نے افغان بیٹنگ کو قابو کرنے کے لیے سپن کا جال ایک اضافی سپنر عرفات سنی کو ٹیم میں شامل کرکے تیار کررکھا تھا۔ سنی نے کریم صادق اور نجیب اللہ کی وکٹیں حاصل کرکے افغانستان کی مشکلات میں اضافہ کردیا جو تیسرے اوور میں محمد شہزاد کی وکٹ گرنے سے ہی شروع ہوچکی تھیں اور جب نوروز منگل اور کپتان محمد نبی بھی آؤٹ ہوئے تو افغانستان کا سکور ستائسویں اوور میں پانچ وکٹوں پر نوے رنز تھا۔

بنگلہ دیشی بولرز نے جو کچھ کرنا تھا وہ کرلیا کیونکہ اس کے بعد سمیع اللہ شنواری اور اصغر ستانکزئی نے انہیں کٹھ پتلی تماشہ بنادیا جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہےکہ آخری دس اوورز میں ایک سو سات رنز بنے۔ دونوں نے صرف ایک سو اڑتیس گیندوں پر ایک سو چھیالیس رنز کا اضافہ کیا۔

سمیع اللہ شنواری صرف انہتر گیندوں پر دس چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے اکیاسی رنز بناکر آخری اوور میں رن آؤٹ ہوئے۔اصغر ستانکزئی نوے رنز بناکر ناٹ آؤٹ تھے اس اننگز میں چھ چوکے اور تین چھکے شامل تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بنگلہ دیشی اننگز کی ابتدا جس مایوس کن انداز میں ہوئی اس نے ہدف تک پہنچنے کے ارادوں کو بری طرح جھنجھوڑ ڈالا

بنگلہ دیشی اننگز کی ابتدا جس مایوس کن انداز میں ہوئی اس نے ہدف تک پہنچنے کے ارادوں کو بری طرح جھنجھوڑ ڈالا۔ دونوں اوپنرز کو تیز رفتار حامد حسن اور شاہ پور نے پویلین کا راستہ دکھایا۔ مشفق الرحیم اپنے ہم منصب محمد نبی کا شکار ہوئے اور جب سمیع اللہ شنواری نے نصف سنچری سکور کرنے والے مومن الحق کو بولڈ کیا تو بنگلہ دیش کا اسکور پچیسویں اوور میں چار وکٹوں پر صرف اٹھاسی رنز تھا۔

ناصرحسین اور نعیم اسلام کی تہتر رنز کی شراکت نے بنگلہ دیشی امیدوں کو زندہ رکھا لیکن جب تین گیندوں پر تین وکٹیں گریں تو بنگلہ دیش کی شکست یقینی دکھائی دے رہی تھی اس موقع پر ضیاء الرحمٰن نے بلے پر مضبوط گرفت دکھاتے ہوئے یہ پیغام دینا چاہا کہ میچ ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔ جب وہ صرف بائیس گیندوں پر اکتالیس رنز بناکر آؤٹ ہوئے تو بنگلہ دیش کو جیتنے کے لیے چھتیس گیندوں پر پچاس رنز درکار تھے۔

سہاگ غازی جن کے ہاتھ پر ٹانکے لگے تھے بیٹنگ کے لیے آئے تو روبیل حسین کو کچھ حوصلہ ملا یہ دونوں سکور میں سترہ رنز کا اضافہ کرکے اپنی ٹیم کو جیت کے قریب لائے لیکن محمد نبی کی گیند پر ضیاء الرحمن کا کیچ ڈراپ کرنے والے نوروز منگل نے روبیل حسین کا کیچ لے کر اپنے کپتان کو تیسری وکٹ دلانے کے ساتھ ساتھ جیت کی نوید بھی سنادی۔

اسی بارے میں