’بھارتی ٹیم کی ساکھ کو ٹھیس پہنچی ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بھارتی ٹیم کا بیرون ملک ہارنا تو سمجھ میں آتا ہے لیکن ایشیائی پچوں پر بھی ہار کہیں نہ کہیں ٹیم کی ساکھ کو ٹھیس پہنچاتی ہے

ایشیا کپ کرکٹ ٹورنامنٹ میں بھارت کی کارکردگی کافی مایوس کن رہی اور اب بھارت کو ٹوئنٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں حصہ لینا ہے۔

مستقل کپتان مہندر سنگھ دھونی کے زخمی ہوکر ٹیم سے باہر ہونے کے بعد وراٹ کوہلی کی کپتانی میں ایشیا کپ میں بھارتی کرکٹ ٹیم افغانستان کے خلاف اپنا آخری میچ جیتنے کے باوجود ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئی۔ وجہ تھی سری لنکا اور پاکستان سے بھارت کی شکست۔

بھارتی ٹیم کا بیرون ملک ہارنا تو سمجھ میں آتا ہے لیکن ایشیائی پچوں پر بھی ہار کہیں نہ کہیں ٹیم کی ساکھ کو ٹھیس پہنچاتی ہے۔

ایسا بھی نہیں تھا کہ بھارتی ٹیم بالکل نوجوان اور ناتجربہ کار کھلاڑیوں کے ساتھ کھیل رہی تھی۔ جس ٹیم کی آئی سی سی ایک روزہ رینکنگ میں دوسرا نمبر ہو اور وراٹ کوہلی، شکھر دھون، روہت شرما، اجكي رہانے، روندر جاڈیجا اور دنیش کارتک جیسے تجربہ کار بلے باز جس ٹیم کا حصہ ہوں دوسری طرف آر اشون، بھونیشور کمار اور محمد شمي جیسے منجھے ہوئے بولر ہوں اس ٹیم کا مسلسل ہارنا حیران کرتا ہے۔

’ناکام بازی‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سپنر آر اشون نے ایشیا کپ میں نو وکٹ حاصل کیں۔ اسے خراب کارکردگی تو نہیں کہا جا سکتا لیکن فیصلہ کن موقع پر اشون پرفارم کرنے میں ناکام رہے

ایشیا کپ کے دوران بھارت کسی بھی میچ میں اتنے دبدبے سے نہیں کھیل سکا۔ یہاں تک کہ اسے بنگلہ دیش کے خلاف بھی جدوجہد کے ساتھ جیت نصیب ہوئی۔

بھارت کے کپتان وراٹ کوہلی کتنا بھی کہیں کہ ان کے گیند بازوں نے پاکستان اور سری لنکا کو جیت کے لیے آخری اوور تک انتظار کرایا لیکن آخر میں جیت تو جیت ہی ہے۔

بھونیشور کمار ابھی تک 35 ایک روزہ میچ کھیل چکے ہیں اور طویل عرصے سے بھارت کے باقاعدہ تیز بولر ہیں۔ اس کے باوجود ایشیا کپ میں وہ صرف تین وکٹیں حاصل کرسکے۔

اس سے پہلے نیوزی لینڈ کے دورے پر بھی انہیں پانچ ون ڈے میچوں میں صرف چار وکٹیں حاصل ہوئیں۔ اس پر ستم یہ کہ وہاں کی وکٹیں تیز گیندبازوں کے لیے ہی بنائی گئی تھیں۔

دوسرے تیز بولر محمد شمی نے ایشیا کپ میں نو وکٹ حاصل کیے۔ نیوزی لینڈ میں انہیں چار میچوں میں سات وکٹیں ملیں۔ مجموعی طور پر بھارتی تیز بولرز میں اتنا دم نہیں دیکھا گیا کہ وہ مخالف ٹیم کو اپنے طور پر دباؤ میں ڈالتے۔

سپن میں روندر جاڈیجا نے ایشیا کپ میں سات وکٹیں حاصل كیں۔

79 ون ڈے میچ کھیلے ہوئےبھارت کے اہم سپنر آر اشون نے ایشیا کپ میں نو وکٹ حاصل کیں۔ اسے خراب کارکردگی تو نہیں کہا جا سکتا لیکن فیصلہ کن موقع پر اشون پرفارم کرنے میں ناکام رہے۔

امت مشرا کو بھی طویل عرصے بعد موقع ملا لیکن ان میں بھی وکٹ لینے کی صلاحیت نظر نہیں آئی۔

’غیر ذمہ دار بلے باز‘

تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption بھارت کے روہت شرما، اباتی رايڈو، رہانے اور دنیش کارتک غیر ذمہ دار طریقے سے شاٹس کھیل کر آؤٹ ہوئے

ایشیا کپ میں وکٹ میں جان نہیں تھی اور بھارت کے ساتھ ساتھ تمام ٹیموں کے بلے باز مشکل میں رہے۔ لیکن سری لنکا، پاکستان اور یہاں تک کہ بنگلہ دیش کے دو تین بلے بازوں نے ہر میچ میں ٹیم کو ذہن میں رکھ کر ذمہ داری سے بلے بازی کرنے کی کوشش کی۔

وہیں بھارت کے روہت شرما، اباتی رايڈو، رہانے اور دنیش کارتک غیر ذمہ دار طریقے سے شاٹس کھیل کر آؤٹ ہوئے۔ اور اسی وجہ سے حالات یہاں تک پہنچ چکے ہیں کہ اس ٹیم پر کسی کو اعتماد نہیں ہے۔ کوئی بھی کرکٹ ماہرین بھارت کی یقینی جیت کے دعوے نہیں کرتا۔

ٹیم کے انتخاب کو لے کر اب تو بھارت کے سابق کپتان اور عظیم بیٹسمین سنیل گواسکر نے پوری سلیکشن کمیٹی کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ چتیشور پجارا اور تیز بولر پانڈے کو اس لیے ایک بھی میچ کھیلنے کا موقع نہیں دیا گیا کہ اگر وہ اچھا کھیل گئے تو چہیتے کھلاڑیوں کا کیا ہوگا؟

اسی بارے میں