ورلڈ کپ 2014 کی افتتاحی تقریب میں تقاریر نہیں ہوں گی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption گذشتہ سال جون کے مہینے میں برازیل اور جاپان کے درمیان کھیلے جانے والے میچ کے دوران شائقین نے برازیل کی صدر روسیف اور فیفا کے سربراہ بلیٹر کا مذاق اڑایا تھا

فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا نے اعلان کیا ہے کہ ورلڈ کپ کی افتتاحی تقریب میں کوئی تقریر نہیں ہوگی۔

واضح رہے کہ گذشتہ سال کنفیڈریشن کپ کی افتتاحی تقریب کے دوران فٹبال کے شائقین نے برازیل کی صدر جیلما روسیف کی تقریر کے دوران ان پر آوازے کسے تھے۔

یہ افتتاحی تقریب فٹبال کے عالمی کپ کی نقاب کشائی کے طور پر دیکھی گئی تھی۔

عالمی نیوز ایجنسی ڈی پی اے کے ساتھ گفتگو میں فیفا کے سربراہ سیپ بلیٹر نے برازیل میں جاری سماجی بے اطمینانی پر خدشات ظاہرکیے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ انھیں امید ہے کہ عالمی کپ کے مقابلے مظاہروں کو کم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔

گذشتہ سال کنفیڈریشن کپ سے ذرا قبل برازیل میں مظاہرین سڑکوں پر اتر آئے۔ وہ ملک میں بدعنوانی، ورلڈ کپ اور سنہ 2016 میں ہونے والے اولمپکس کی تیاریوں کے وسیع اخراجات کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں۔

اولمپکس برازیل کے شہر ریو ڈی جنیرو میں منعقد ہو رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption برازیل کے بعض سٹیڈیم ابھی تک مکمل نہیں ہوئے ہیں لیکن مسٹر بلیٹر کا خیال ہے کہ وہ وقت پر پورے ہو جائیں گے

فٹبال ورلڈ کپ کے مقابلے جن 12 سٹیڈیموں میں ہونے ہیں ان میں سے کچھ سٹیڈیمز میں ابھی تک تعمیری کام جاری ہیں۔ ان میں ساؤ پاؤلو کا ارینا کورنتھیئنس سٹیڈیم بھی شامل ہے جہاں 12 جون کو برازیل اور کروئیشیا کے درمیان عالمی کپ کا افتتاحی میچ کھیلا جانے والا ہے۔

سیپ بلیٹر نے ان خدشات کو مسترد کردیا کہ وقت مقررہ پر ان مقامات پر تعمیری کام مکمل نہیں ہو سکیں گے۔

انھوں نے ڈی پی اے سے کہا ’سٹیڈیم کے تعلق سے تمام چیزیں پوری ہو جائیں گی۔ یہ میرا پہلا ورلڈ کپ نہیں ہے۔ آخر میں تمام سٹیڈیم تیار ہو جائیں گے۔‘

تاہم انھوں نے افتتاحی تقریب میں تقریر کو ختم کرنے کے فیصلے کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔

دارالحکومت برازیلیا میں گذشتہ سال کنفیڈریشن کپ کی افتتاحی تقریب میں جب صدر روسیف کی تقریر دوران ان پر آوازے کسے تھے تو سیپ بلیٹر برازیل کی صدر کی حمایت میں سامنے آئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption برازیل میں بس کے کرایے میں اضافے کے خلاف جو مظاہرہ شروع ہوا تھا اس نے وسیع رخ اختیار کر لیا

انھوں نے کہا تھا ’برازیل کے فٹبال دوست حضرات! صاف ستھرے فٹبال کے تئیں آپ کی قدر کہاں گئی۔‘ اس کے بعد سے وہ بھی مظاہرین کی تنقید کا نشانہ بنے۔

انھوں نے کہا کہ ورلڈ کپ کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ انھوں کہا کہ ’کنفیڈریشن کپ کے دوران ہمیں جن سماجی بے اطمینانی کا سامنا رہا ہے ان میں کچھ کمی نظر آئے گی۔‘

یہ ابھی واضح نہیں ہے کہ آیا صدر روسیف کی افتتاحی تقریر کو ختم کرنے کے فیصلے میں برازیلی حکومت بھی شامل تھی۔

انھوں نے کہا کہ مستقبل میں ورلڈ کپ کی میزبانی کا فیصلہ لیتے وقت فیفا ’انسانی حقوق کے حالات‘ کو نظر میں رکھے گی۔

جب فیفا نے سنہ 2018 اور سنہ 2022 میں ہونے والے فٹبال کے ورلڈ کپ کے میزبان روس اور قطر کے نام کا اعلان کیا تھا تو اس فیصلے پر اسی حوالے سے نکتہ چینی ہوئی تھی۔

اسی بارے میں