’پہلا میچ بھارت کے ساتھ ہونے پر خوش ہوں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption محمد حفیظ نے تسلیم کیا کہ فٹنس پاکستان کی ٹیم کا مسئلہ ہے اور اسے گراس روٹ کی سطح سے بہتر کرنے کی ضرورت ہے

ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ٹورنامنٹ کے لیے پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے کپتان محمد حفیظ اس بات پر خوش ہیں کہ اس ٹورنامنٹ میں ان کا پہلا میچ روایتی حریف بھارت سے ہوگا۔

محمد حفیظ کا کہنا تھا کہ بھارت کو ایشیا کپ میں شکست دی ہے اور دھونی، رائنا اور یوراج سنگھ کی ٹیم میں واپسی کے باوجود بھی بھارتی ٹیم کو شکست دی جا سکتی ہے۔

محمد حفیظ نے تسلیم کیا کہ فٹنس پاکستان کی ٹیم کا مسئلہ ہے اور اسے گراس روٹ کی سطح سے بہتر کرنے کی ضرورت ہے البتہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں شریک پاکستانی کھلاڑی فٹ ہیں۔

شاہد آفریدی کے معمولی فٹنس کے مسائل ہیں اس لیے وہ کچھ دن اپنی بحالی کے پروگرام پر عمل کر کے مکمل فٹ ہو کر ٹیم میں شامل ہوں گے۔

یاد رہے کہ شاہد آفریدی چودہ مارچ کو ٹیم کے ساتھ نہیں جا رہے ہیں بلکہ وہ فٹ ہونے کی صورت میں سترہ مارچ کو بنگلہ دیش جائیں گے۔

محمد حفیظ کے مطابق اس ٹورنامنٹ میں شریک تمام ٹیمیں مضبوط ہیں اور کسی کو آسان نہیں لیا جا سکتا۔ تمام ٹیموں کے خلاف حکمت عملی تیار کرنا ہوگی اور مثبت سوچ کے ساتھ میدان میں اترنا ہو گا۔

محمد حفیظ کا کہنا تھا کہ کسی بھی بڑے ٹورنامنٹ میں کامیابی کے لیے دو چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے، مومینٹم کی اور دوسری خوش قسمتی کی۔ انہوں نے کہا کہ ایشیا کپ میں اچھی کارکردگی کے سبب ٹیم کا مومینٹم کافی اچھا ہے گو کہ فائنل نہیں جیت سکے۔

محمد حفیظ نے کہا کہ ہار جیت کھیل کا حصہ ہوتی ہے لیکن ایشیا کپ میں مجموعی طور پر کارکردگی بہتر رہی۔ محمد حفیظ کے مطابق خوش قسمتی کے لیے انہیں قوم کی دعائیں درکار ہیں۔

محمد حفیظ کے مطابق ایشیا کپ میں فاسٹ بالرز کی کارکردگی اچھی نہ ہونے پر انہیں اور ٹیم مینجمنٹ کو تشویش ہے لیکن ان فاسٹ بالرز جیسے عمر گل اور جنید خان نے ماضی میں بہت اچھی پرفارمنس بھی دی لیکن کھلاڑیوں کی فارم میں اتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے۔ ان کی کوشش ہو گی کہ ان فاسٹ بالرز کی سپورٹ کریں اور انہیں ان بالروں پر پورا اعتماد ہے کہ یہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ میں بہترین کارکردگی دکھائیں گے۔

محمد حفیظ کے مطابق پاکستان کی فیلڈنگ ایشیا کپ میں اچھی نہیں رہی۔ فیلڈنگ کوچ شعیب محمد بہت اچھے فیلڈر رہ چکے ہیں لیکن انہیں کسی بڑی ٹیم کی کوچنگ کا تجربہ نہیں۔ اور ویسے بھی جب وہ فیلڈنگ کوچ بنے تو ٹیم ایشیا کپ چلی گئی تھی اس لیے امید ہے کہ گزرتے وقت کے ساتھ وہ ٹیم کی فیلڈنگ بہتر کر سکیں گے۔

اسی بارے میں