بھارت کی پاکستان کے خلاف فتح

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ااا پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ کی معراج کے ساتھ ساتھ اس کھیل سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کی انتہا سمجھا جاتا ہے

ڈھاکہ میں ٹی ٹوئنٹی کے مقابلوں کے پہلے میچ میں انڈیا نے ٹاس جیت کر پہلے پاکستان کو کھیلنے کی دعوت دی ہے اور پاکستان نے مقررہ بیس اوور میں ایک سو تیس رن بنائے۔

پاکستان کی طرف سے محمد حفیظ نے پہلا اوور کرایا۔ دوسری ہی گیند پر زبردست ایل بی ڈبلیو کی اپیل ہوئی جو رد کر دی گئی۔ یہ اپیل شیکر دھون کے خلاف ہوئی تھی۔ جن کو ایشیا کپ میں بھی اسی طرح حفیظ نے آؤٹ کیا تھا۔

پہلے اوور میں صرف تین رن بنے۔

دوسرے اوور کے لیے جنید خان کو بلایا گیا۔جنید خان کی پہلی گیند پر ایک رن بنا۔ تسری گیند پر رن آؤٹ کا چانس بنا لیکن دھون اپنی کریز میں پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔

اس اوور میں صرف دو رن بن سکے۔تیسرا اوور پھر محمد حفیظ نے کرایا۔ پہلی پانچ گیندوں پر صرف دو رن بن سکے۔ تیسرے اوور کے ختم ہونے پر انڈیا کے سات رن تھے۔

جنید خان کے دوسرے اوور کی پہلی گیند پر روہت شرما نے پہلا چوکا لگایا۔ دوسری گیند پر روہت شرما نے چھکا لگایا۔ چوتھے اوور کی تیسری گیند پر ایک رن بنا۔ یہ اوور کافی مہنگا ثابت ہوا۔ چوتھی گیند کو دھون نہ کھیل سکے۔ آخری گیند پر پھر کوئی رن نہ بنا۔ اس اوور میں گیارہ رن بنے۔

پانچواں اوور سعید اجمل کرانے آئے۔ دھون پہلی گیند کو مارنا چاہتے تھے لیکن کامیاب نہ ہوئے اور گیند وکٹ کیپر کے ہاتھوں میں گئی۔ اگلی گیند پر بھی یہی ہوا۔ لیکن تیسری گیند پر وہ چوکا لگانے میں کامیاب ہو گئے۔ یہ سوئپ شاٹ تھی۔ اس کے بعد اگلی گیند پر پھر چوکا لگا۔ آخری گیند پر پھر چوکا لگا۔ اس اوور میں بارہ رن بنے۔ دھون جو مشکل میں تھے اس مشکل میں نکل آئے۔

اگلا اوور جو میچ کا چھٹا اوور تھا وہ عمر گل کرانے آئے۔ پہلی دو گیندوں پر دو رن بنے۔تیسری گیند پر کوئی رن نہیں بنا۔ تیسری گیند پر اونچا شاٹ لگا لیکن وہ کسی بھی کھلاڑی کی پہنچ سے دور تھا۔ اگلی گیند سلپ میں گئی لیکن وہ صہیب مقصود کے آگے گری۔ اس میچ کی آخری گیند پر دھون چوکا لگانے میں کامیاب رہے۔

آفریدی کو ساتواں اوور کرنے کے لیے کہا گیا۔ روہت شرما ان کے سامنے تھے۔ آفریدی کی پہلی دو گیندوں پر دو رن بنے۔ اگلی دو گیندوں پر کوئی رن نہیں بنا۔پانچویں گیند پر ایک رن بنا۔

آٹھواں اوور پھر عمر گل کرانے کے لیے آئے۔ ان کی دوسری گیند پر روہت شرما نے شاندار چھکا لگایا۔تیسری گیند پر ایک رن بنا۔ ان کی پانچویں گیند پر ایک اور چوکا لگا۔ اس کے بعد شیکر دھون کیچ ہو گئے۔ سعید اجمل نے کیچ پکڑا جو ہوا میں بہت اونچا گیا تھا۔

نواں اوور آفریدی کے حصے میں آیا اور اب ان کے سامنے وراٹ کوہلی تھے۔ آفریدی نے پہلی گیند وائڈ کرائی۔ دوسری گیند کھولی نے وکٹ کے سامنے روکی۔ تیسری گیند پر کوہلی پھر دفاعی شاٹ کھیل سکے۔ آفریدی چوتھی گیند وائڈ کرا دی۔ وراٹ کوہلی نے پانچویں گیند پر اچھا چوکا لگایا جو سلپ کے پاس سے ہوتا ہوا باونڈری کے پار چلا گیا۔

دسواں اوور سیعد اجمل کو کرانے کو کہا گیا۔ پہلی گیند دفاعی انداز میں کھیلنے کے بعد دوسری گیند پر ایک رن بنایا۔ روہت سامنے آئے لیکن وہ اگلی گیند پر بولڈ ہو گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption جادیجا بھی اچھی کارکردگی دکھانے میں کامیاب رہے

روہت کے بعد یوراج میدان میں نمودار ہوئے۔ پہلی گیند پر ایک رن بنا لیا۔ اس اوور میں کوہلی کے خلاف زبردست اپیل ہوئی لیکن ایمپائر نے اسے آؤٹ قرار نہیں دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption عمر گل ایک وکٹ تو لے پائے لیکن یہ کافی نہیں تھا۔

بلاول بھٹی نے پہلی ہی گیند پریوراج کو بولڈ کر دیا۔ یہ ان کا میچ کا پہلا اوور مجموعی طور پر گیارہواں اوور تھا۔ یوراج کے جانے کے بعد سریش رائنا آئے اور پہلی ہی گیند پر ایک رن بنا لیا۔ اس میچ میں سات رن بنے۔

بارہواں اوور دوبارہ حفیظ نے کرانے کا فیصلہ کیا۔ یہ ان کا تیسرا اوور تھا۔ حفیظ کی پہلی گیند پر ایک رن بنا۔ اگلی دو گیندوں پر وراٹ کوہلی کوئی رن نہ بنا سکے۔ اس کے بعد اگلی گیند پر کوہلی نے چھکا لگا دیا۔ چوتھی گیند پر پھر سنگل بنا۔ میچ کی آخری گیند پر سلپ میں ایک کیچ شاہد آفریدی سے نہ پکڑا گیا۔

تیرہواں اوور بلاول بھٹی نے کرایا۔ اس اوور میں دو چوکے لگے۔ چودہویں اوور میں سیعد اجمل کو چار رن پڑے۔

پندرہواں اوور آفریدی کرانے آئے اور پہلی ہی گیند پر کوہلی نے چوکا لگایا۔ اگلی گیند پر دو رن بنے۔ تیسری گیند پر پھر چوکا لگا۔ یہ بھی کوہلی نے لگایا۔

اب بھارت کو صرف بائیس رن چاہیں تھے اور اٹھائیس گیندیں باقی تھیں۔

سترہواں اوور سیعد اجمل نے کرایا۔ رائنا نے پہلی دو گیندیں دفاعی انداز میں کھیلیں۔ تیسری گیند پر ایک رن بنایا۔ اس اوور میں صرف ایک ہی رن بنا اور ان کے چار اوور مکمل ہونے پر انھوں نے اٹھارہ رن دے کی ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔

جنید اجمل کو سترہواں اوور کرانے کو کہا گیا اس وقت صرف سولہ رن درکار تھے اور پہلی گیند پر چوکا لگا۔ انسویں اوور میں سات رن چاہیں تھیں اور رائنا نے عمر گل کی دوسری گیند پر چھکا لگا دیا۔ اس کے بعد اگلی گیند پر رائنا نے چوکا لگا دیا۔

بھارت کی طرف سے سپنر نے اچھی کارکردگی دکھائی۔ امت مسرا سب سے کامیاب رہے اور انھوں نے چار اوور میں بائیس رن دے کر دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

بھارت نے اس میچ میں تین سپنر کھلائے ہیں اور باؤلنگ کی شروعات بھی آر ایشون نے کی۔

کامران اکمل نے میچ کی تیسری گیند پرپہلا چوکا لگایا۔ پہلے اوور میں صرف چار رن ہی بن سکے۔

دوسری طرف سے باؤلنگ کا آغاز بھویش کمار نے کیا۔ کامران اکمل نے دوسرا چوکا دوسرے اوور کی چوتھی گیند پر لگایا۔ اوور کی پانچویں گیند پر کامران اکمل رن آؤٹ ہو گئے۔ انھوں نے آٹھ رن بنائے۔ دوسرے اوور کی چھٹی گیند پر بھی رن آؤٹ کا ایک موقع بنا لیکن گیند وکٹ پر نہیں لگی۔

میچ کے تیسرے اوور میں احمد شہزاد نے ایشون کو چوکا لگایا اور پاکستان نے تین اوور میں پندرہ رن بنائے۔

چوتھا اوور محمد شامی نے کیا۔ میچ کے تیسرے اوور میں صرف دو رن بن سکے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مسرا نے صرف بائیس رن دیے اور دو کھلاڑیوں کا آؤٹ کیا۔

پانچواں اوور پھر بی کمار نے کرایا۔ ان کے اوور کی دوسری گیند وائڈ ہوگئی۔یہ ان کا دوسرا اوور تھا۔

میچ کے چھٹے اوور اور شامی کے دوسرے اوور کی پہلی گیند پر محمد حفیظ کا کیچ ڈراپ ہو گیا۔ اس کے بعد اگلی گیند پر احمد شہزاد نے میچ کا تیسرا چوکا لگایا۔ اسی اوور کی آخری گیند پر محمد حفیظ نے پہلا چوکا لگایا۔ جو میچ کا چوتھا چوکا تھا۔

پچ بلے بازوں کے لیے زیادہ ساز گار نہیں تھی۔

چھٹے اوور کے ختم ہونے پر پاکستان کا سکور 34 رن تھا۔

میچ کے ساتویں اوور میں مسرا کو گیند کرنے کے لیے لایا گیا۔ اس اوور میں پاکستان نے چھ رن بنائے اور پاکستان کا مجموعی سکور چالیس رن ہو گیا۔

آٹھویں اوور میں روانیدر جادیجا کو گیند کرنے کے لیے لایا گیا۔ اس اوور کی دوسری گیند پر تین رن بنے۔ اس اوور کی تیسری گیند پر محمد حفیظ آؤٹ ہو گئے۔

حفیظ کا کیچ بی کمار نے لیا۔ آٹھویں اوور میں پاکستان سات رن ہی بنا سکا۔

نویں اوور میں پاکستان کو ایک اور نقصان اٹھانا پڑا اور احمد شہزاد آؤٹ ہو گئے۔ وہ سٹمپ آؤٹ ہوئے۔ نواں اوور بھی مسرا کرنے آئے تھے۔ یہ اوور میڈن رہا یعنی اس میں کوئی رن نہیں بنا اور اس میں وکٹ بھی گری۔ ٹی ٹوئنٹی کی تاریخ میں اب تک 72 وکٹ میڈن اوور ہوئے ہیں۔

دسواں اوور پھر جادیجا نے کیا۔ دسویں اوور میں پاکستان کی نصف سنچری مکمل ہوئی۔

گیارہواں اوور یوراج سنگھ نے کیا اور اس کی دوسری گیند پر مس فیلڈ ہوئی اور گیند بانڈری لائن پار کر گئی۔ اس کی پانچویں گیند پر کامران اکمل نے ایک اور چوکا لگایا۔ یہ ایک اچھی شاٹ تھی۔ اس اوور میں تیرہ رن بنے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سریش رائنا نے تین کیچ لیے

بارہواں اوور پھر مسرا نے کرایا۔ پہلی گیند پر دو رن بنے۔ دوسری پر ایک رن اور تیسری گیند پر میچ کا پہلا چھکا شعیب ملک نے لگایا۔ چوتھی گیند پر ایک رن بنایا۔ اس کے بعد آخری گیند پر ایک اور رن بنا۔ بارہویں اوور کے اختتام پر پاکستان نے 76 رن بنائے تھے۔

تیرہواں اوور کرانے کے لیے ایشون کو بلایا گیا۔ یہ ایشون کا تیسرا اوور تھا۔ اس اوور میں سات رن بنے۔

چودہواں اوور جادیجا نے کرایا۔ اس اوور کی تیسری گیند وائڈ رہی۔ اس اوور میں صرف تین رن بنے سکے۔

ایشون نے میچ کا پندرہ اور اپنا آخری اوور کرایا۔ اوور کی آخری گیند پر کیچ بھی چھوٹا اور چوکا بھی لگا۔ اس مرتبہ کیچ چھوڑنے والے بی کمار تھے۔

پندرہ اوور میں پاکستان نے 96 رن بنائے تھے۔

مسرا نے میچ کا سولہواں اوور کرایا۔ اوور کی پہلی گیند پر شعیب ملک اونچا شاٹ کھیلنے کی کوشش میں آؤٹ ہو گئے۔ ان کا کیچ سریش رائنا نے لیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شروع ہی سے میچ بھارت کی گرفت میں نظر آ رہا تھا

جادیجا سترہویں اوور میں پھر بلائے گئے۔ یہ ان کا چوتھا اوور تھا۔ اس اوور میں بھی صرف دو رن بنے۔

محمد شامی نے اٹھارہواں اوور کرایا۔ اوور کی دوسری گیند پر عمر اکمل آؤٹ ہو گئے۔ ان کا کیچ بھی سریش رائنا نے لیا۔

انیسواں اوور بھی بی کمار نے کرایا جس کی پہلی گیند پر آفریدی نے چوکا لگایا۔ اوور کی تیسری گیند پر صہیب مقصود نے چوکا لگایا۔ چوتھی گیند پر صرف ایک رن بنا۔ پانچویں گیند پر آفریدی کا کیچ پکڑا گیا اور یہ کیچ بھی رائنا نے لیا۔ رائنا نے میچ میں تین کیچ پکڑے۔

آخری اوور کی پہلی گیند پر میچ کا دوسرا چھکا لگا۔ دوسری گیند پر دو رن بنے۔ تیسری گیند پر ایک چوکا پھر صہیب مقصود نے لگایا۔ چوتھی گیند پر پھر دو رن بنے۔ پانچویں گیند صیہب مقصود کی پہنچ سے دو تھی۔ آخری گیند پر ایک رن بنانے کے بعد مقصود رن آؤٹ ہو گئے۔

پاکستان کی طرف سے سب سے زیادہ رن عمر اکمل نے بنائے۔ انھوں نے 34 گیندوں پر 33 رن بنائے۔احمد شہزاد نے 22 اور صہیب مقصود نے 22 رن بنائے۔

اس میچ سے ٹی ٹوئنٹی کے مقابلوں کے دوسرے مرحلے کا آغاز ہو رہا ہے اور پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش میں اس موقعے پر زبردست جوش و خروش پایا جاتا ہے۔

آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی کے مقابلوں کے دوسرے مرحلے میں دس ٹیمیں شریک ہیں جن میں سے دو ٹیمیوں پہلے مرحلے سے کامیابی حاصل کر کے دوسرے مرحلے میں پہنچی ہیں۔

پاکستان کی ٹیم نے پہلے میچ سے قبل دو وارم اپ میچ کھیلے جن میں سے ایک میں ان کو کامیابی اور دوسرے میں ناکامی ہوئی۔

بھارت کی ٹیم نے بھی دو وارم اپ میچ کھیلے اور اسے بھی ایک میں ناکامی اور ایک میں کامیابی ہوئی۔

بھارت کے خلاف بین الاقوامی مقابلوں میں پاکستانی ٹیم کا ریکارڈ اچھا نہیں رہا ہے اور اب تک پاکستان کو کامیابی کی تلاش ہے۔

پاکستان کی ٹیم ان کھلاڑیوں پر مشتمل ہے: احمد شہزاد، کامران اکمل، محمد حفیظ، صعیب مقصود، عمراکمل، شعیب ملک، شاہد آفریدی، عمرگل، سیعد اجمل، ، جنید خان، اور بلاول بھٹی۔

بھارت کی ٹیم: شیکھر دھون، وراٹ کھولی، روہت شرما، سریش رائنا، یوراج سنگھ، ایم ایس دھونی، راوندر جادیجا، آر ایشون، بھویش ور کمار، اے مشرا اور محمد شامی۔

پاکستان ماضی میں ایک مرتبہ یونس خان کی کپتانی میں سنہ دو ہزار سات میں ٹی ٹوئنٹی عالمی مقابلے جیت چکا ہے۔ اسی طرح بھارت بھی ایک مرتبہ ٹی ٹوئنٹی عالمی مقابلے جتیا ہے اور یہ کامیابی بھی اسے فائنل میں پاکستان کے خلاف ہی حاصل ہوئی تھی۔