منیرڈار: گجرات سے ہانگ کانگ تک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption منیر ڈار ویسٹ انڈین بیٹسمین برائن لارا کی جارحانہ بیٹنگ کے دیوانے رہے ہیں

آئی سی سی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں حسیب امجد کے آخری اوور میں لگائے گئے چھکے نے ہانگ کانگ کو بنگلہ دیش کےخلاف کبھی نہ بھولنے والی جیت سے ہمکنار کیا تو باہر بیٹھے ہانگ کانگ کے کھلاڑیوں میں جسے سب سے زیادہ اس جیت کی خوشی تھی وہ منیر ڈار تھے۔

درحقیقت یہ منیر ڈار ہی کی بیٹنگ تھی جس نے ندیم احمد کی عمدہ بولنگ کے بعد ہانگ کانگ کو اس جیت کی طرف بڑھنے کا حوصلہ دیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ آؤٹ ہونے پر اپنے آپ سے خفا منیر ڈار نے چھکا لگتے ہی سجدۂ شکر ادا کیا۔

منیر ڈار نے اس میچ میں تین چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 36 رنز سکور کیے جو دونوں ٹیموں میں سب سے بڑا سکور بھی تھا۔

40 سالہ منیر ڈار کا تعلق پاکستان کے شہر گجرات سے ہے لیکن سن 2000 میں وہ پہلی بار ہانگ کانگ گئے اور تین سال بعد انہیں وہاں کا رہائشی کارڈ بھی مل گیا۔ وہ ایک ڈائمنڈ کمپنی میں ملازمت کرنے کے ساتھ ساتھ کرکٹ کا شوق بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔

منیر ڈار نے ہانگ کانگ کی اس تاریخی جیت کے بعد بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ ایسوسی ایٹ ٹیمیں ہی نہیں پوری دنیا کی نظریں ہانگ کانگ پر تھیں کہ وہ اس ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے لیے کوالیفائی کرنے کے بعد کیسی کارکردگی دکھاتی ہے لہذا اپنے سے کہیں زیادہ مضبوط ٹیسٹ ٹیم کے خلاف یہ جیت بہت معنی رکھتی ہے۔

یہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی مقابلوں میں چوتھا موقع ہے کہ کسی ایسوسی ایٹ ٹیم نے ٹیسٹ ٹیم کو شکست دی ہو۔

منیر ڈار کا کہنا ہے کہ ہانگ کانگ میں کرکٹ کافی کھیلی جارہی ہے اور چائنیز اسکول میں کرکٹ کی کوچنگ بھی ہوتی ہے ۔ اس جیت سے نوجوانوں میں کرکٹ کا شوق مزید بڑھے گا اور ہانگ کانگ کی کرکٹ کو بہت فائدہ ہوگا۔

منیر ڈارکہتے ہیں کہ ہانگ کانگ میں زیادہ تر کھلاڑیوں کو باقاعدہ کنٹریکٹ مل گئے ہیں چند ایک کھلاڑی اب بھی ملازمت کرتے ہیں اور ساتھ ساتھ کرکٹ بھی کھیلتے ہیں۔

انہوں نے اپنی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ان کی کمپنی ان کے ساتھ بہت تعاون کرتی ہے یہی وجہ ہے کہ وہ ہانگ کانگ کی ٹیم کے ساتھ غیرملکی دوروں پر جاتے ہیں۔

منیر ڈار کا کہنا ہے کہ انہوں نے گجرات میں کلب کرکٹ کھیلی جس کے بعد انہوں نے ایک روزہ ٹورنامنٹ میں گوجرانوالہ ڈویژن کی نمائندگی بھی کی لیکن چونکہ وہ ہانگ کانگ چلے گئے تھے لہذا پاکستان میں فرسٹ کلاس کرکٹ نہ کھیل سکے۔

منیر ڈار نے پاکستان اور بھارت کے خلاف 2008 میں ایشیا کپ کے دو میچز بھی کھیلے ہیں۔

منیر ڈار گزشتہ سال دو بار اپنے مشکوک بولنگ ایکشن کی وجہ سے رپورٹ بھی ہوچکے ہیں۔

40 سال کی عمر میں بھی خود کو فٹ رکھنے کے بارے میں سوال پر منیر ڈار کا کہنا ہے کہ یہ قدرتی ہے کیونکہ وہ فزیکل ٹریننگ کے معاملے میں بہت ُسست واقع ہوئے ہیں۔

عمران خان کو ہمیشہ آئیڈیل سمجھنے والے منیر ڈار ویسٹ انڈین بیٹسمین برائن لارا کی جارحانہ بیٹنگ کے دیوانے رہے ہیں۔

اسی بارے میں