بھارتی کرکٹ بورڈ کے سربراہ مستعفی ہو جائیں: سپریم کورٹ

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بھارتی کرکٹ بورڈ کے صدر این سری نواسن سپاٹ فکسنگ معاملے کے بعد تھوڑے دنوں کے لیے اپنے عہدے سے علیحدہ ہوئے تھے

کرکٹ کی انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) میں سپاٹ فکسنگ کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے منصفانہ تحقیقات کے لیے بھارتی کرکٹ کنٹرول بورڈ کے صدر این سری نواسن کو مستعفی ہونے کے لیے کہا ہے۔

بھارتی خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق عدالت نے کہا: ’اگر سری نواسن اپنے عہدے سے نہیں ہٹیں گے ، تو ہمیں حکم جاری کرنا پڑے گا۔‘

آئی پیل کی ٹیم چنئی سپر کنگز کے مالک اور بی سی سی آئی کے سربراہ سری نواسن کے داماد گرناتھ میپّپن ان تمام کرکٹ حکام، کھلاڑیوں اور سٹے بازوں میں شامل ہیں جن کے خلاف آئی پی ایل میں سپاٹ فکسنگ کے تحت فریب اور مجرمانہ سازش کے الزام ہیں اور اس کی تحقیقات جاری ہیں۔

پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس مکل مدگل کی صدارت میں آئی پی ایل 2013 کے دوران سپاٹ فکسنگ معاملے کی تحقیقات کے لیے تین رکنی کمیٹی بنائی گئی تھی جس نے اپنی رپورٹ سپریم کورٹ کے حوالے کر دی ہے۔

سپریم کورٹ میں جسٹس اے کے پٹنائک اور جسٹس فقیر محمد ابراہیم خلیف اللہ کی دو رکنی بنچ کے سامنے اس تحقیقاتی رپورٹ پر سماعت جاری ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حال میں مہندر سنگھ دھونی نے فکسنگ معاملے میں ان کا نام اچھالنے پر ایک میڈیا ہاؤس پر دعوی کیا ہے

اطلاعات کے مطابق منگل کو عدالت میں سماعت کے دوران ججوں نے بی سی سی آئی کے وکیل سے کہا کہ: ’آپ این سری نواسن سے کہیں کہ وہ معاملے میں منصفانہ تحقیقات کے لیے اپنا عہدہ چھوڑ دیں۔‘

گذشتہ سال اکتوبر کے مہینے میں سپریم کورٹ نے این سری نواسن کو بی سی سی آئی صدر کا کام کاج سنبھالنے کی اجازت تو دے دی تھی لیکن ساتھ ہی ہدایت جاری کی تھی کہ وہ سپاٹ فکسنگ معاملے کی تفتیش سے دور رہیں۔

آئی پی ایل - 6 کے دوران سپاٹ فکسنگ کا معاملہ اس وقت سامنے آیا تھا جب راجستھان رائلز کے تین کھلاڑیوں ایس سری سنت ، انكت چوہان اور اجیت چنڈيلا کو دہلی پولیس نے گرفتار کیا تھا۔

سری سنت ، اكت چوان اور اجیت چڈيلا کو گذشتہ سال 16 مئی کو 16 سٹے بازوں سمیت گرفتار کیا گیا تھا۔ان پر دفعہ 420 اور 120 بی کے تحت مجرمانہ مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں