’پرچموں پر پابندی کھیل کی روح کے منافی ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption بنگلہ دیش نے پاکستان کے ایک میچ کےدوران پاکستانی جھنڈے لہرانے کے بعد بنگلہ دیشی تماشائیوں پر غیر ملکی پرچم اٹھانے پر پابندی کا فیصلہ کیا ہے

پاکستان کے کرکٹ کے سابق کھلاڑیوں نے بنگلہ دیش کی طرف سے اپنے تماشائیوں کو غیر ملکی جھنڈے اٹھانے پر پابندی لگانے کے فیصلے کو کھیل کےجذبے کے منافی قرار دیتے ہوئے اس پر تنقید کی ہے۔

بنگلہ دیشی حکام نے ملک میں جاری ورلڈ ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ کے دوران بنگلہ دیشی شہریوں پر پابندی لگائی ہے کہ وہ میچوں کے دوران غیر ملکی ٹیموں کے پرچم ساتھ نہ لائیں۔

کرکٹ کے کھیل کی عالمی تنظیم انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے بنگلہ دیشی کرکٹ بورڈ سے اس بیان پر وضاحت طلب کر لی ہے جس میں بنگلہ دیشی شائقین کے غیر ملکی پرچم سٹیڈیم میں لانے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ ICC
Image caption آئی سی سی نے اس پابندی پر حیرت کا اظہار کیا ہے

آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے میزبان بنگلہ دیش نے پاکستان کے ایک میچ میں پاکستانی جھنڈے لہرانے کے بعد بنگلہ دیشی تماشائیوں پر غیر ملکی پرچم اٹھانے پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بنگلہ دیش 1971 تک پاکستان کا حصہ تھا۔

پاکستان کے سابق کپتان جاوید میانداد کے مطابق بنگلہ دیشی تماشائیوں پر غیر ملکی پرچم اٹھانے کی پابندی کھیل کی روح کے منافی ہے۔ انھوں نے کہا کہ بنگلہ دیش کی حکومت کا فیصلہ حیران کن ہے۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کے ایک اور سابق کپتان محمد یوسف نے کہا کہ یہ فیصلہ ان کی سمجھ سے بالاتر ہے اور انہیں یقین ہے کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل اس پر مزید وضاحتیں طلب کرے گی۔

محمد یوسف نے کہا کہ انھوں نے جب بھی بنگلہ دیش کا دورہ کیا ہے وہاں ان کا پرتپاک استقبال ہوا ہے۔ محمد یوسف نے کہا کہ انھوں نے مشاہدہ کیا ہے کہ بنگلہ دیش کے تماشائی جب ان کی اپنی ٹیم نہیں کھیل رہی ہوتی تو وہ پاکستانی ٹیم کو سپورٹ کرنا چاہتے ہیں۔

پاکستان ٹیم کے سابق کپتان یونس خان نے کہا کہ وہ اتفاق کرتے ہیں کہ بنگلہ دیش کو اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔

اسی بارے میں