گیل کے انداز میں تبدیلی، ٹیم کے لیے جوا؟

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ویسٹ انڈیز کے لیے پریشان کن بات یہ ہے کہ حالیہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں کریس گیل کی بیٹنگ میں تبدیلی کی چال نہیں چل سکی ہے

مخالف باؤلروں کے لیے اچھی خبر یہ ہے کہ ویسٹ انڈیز کے کرس گیل نے کھیل کے آغاز میں جارحانہ انداز اختیار کرنے کے طریقۂ کار کو بدل دیا ہے لیکن ان باؤلروں کے لیے بری خبر یہ ہے کہ کرس نے بڑے شارٹس بعد میں کھیلنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ وہ آخری لمحات میں تباہی مچا سکیں۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ویسٹ اینڈیز ایک خطرناک کھلاڑی کو قابو کرنے کا جوا کھیل رہی ہے جو کہ ایک ایسی حکمت عملی ہے جو ان کے لیے اپنے ٹائٹل کے دفاع میں مددگار ثابت ہو گی یا تباہ کن۔

ویسٹ ایڈیز کے اس تند و تیز اوپنر نے حال میں مذاق کرتے ہوئے کہا تھا کہ انھوں نے بنگلہ دیش کے سوہاگ غازی کو ایک ٹیسٹ میچ کی پہلی گیند پر چھکا مار کر اسے گھر گھر مشہور کر دیا۔

لیکن ایک سال بعد ان کی بیٹنگ کا فلسفلہ تبدیل ہو گیا ہے۔ انھوں نے کھیل کے آغاز کے بجائے کھیل کے آخر میں دھواں دار بلے بازی کرنے کے طریقۂ کار کو اپنانے کی کوشش کی ہے۔

ان کی ٹیم کے لیے پریشان کن بات یہ ہے کہ حالیہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں یہ چال ابھی نہیں چل سکی ہے۔

کرس گیل نے بھارت کے خلاف ٹیم کی شکست اور بنگلہ دیش کے خلاف میچوں میں بال کو سنگل اور دو رنز کے لیے ہٹ کر کے بالترتیب 34 اور 48 رنز بنائے۔

بھارت کے خلاف میچ میں ان کے دو کیچ ڈراپ ہوئے، ان میں ایک کیچ اس وقت ڈراپ ہوا جب انھوں کوئی رنز نہیں بنایا تھا۔کرس گیل نے ان میچوں یہ رنز اتنی سست رفتاری اور خراب سٹرائک ریٹ سے بنائے جو ان جیسے بلے بلے باز کو زیب نہیں دیتے۔

بیٹنگ سٹائل میں تبدیلی سے اب تیز کھیلنے کی ذمہ داری ان کے ساتھی اوپنر ڈوین سمتھ پر بڑھ گئی ہے۔

سمتھ نے بنگلہ دیش کے خلاف جیت میں کرس کو پیچھے چھوڑتے ہوئے 72 رنز بنائے جبکہ گیل 29 بالوں پر 19 رنز بنا کر کھیل رہے تھے۔

منگل کو جیت کے بعد سمتھ نے کہا کہ’مجھے نہیں معلوم کہ یہ کوئی حکمت عملی ہے یا نہیں۔میرا مقصد ہوتا ہے کہ کھیل کا آغاز اچھے انداز سے کروں اور میں وہی کر رہا ہوں۔‘

کھیل کے میدان میں کرس کی موجودگی ہی مخالف ٹیم کے لیے پریشان کن ہوتی ہے لیکن اگر ویسٹ انڈیز اپنے ٹائٹل کا دفاع کرنا چاہتا ہے تو کرس کو اپنے پرانے جارحانہ انداز سے کھیلنا ہوگا۔

اسی بارے میں