پاکستانی بیٹسمین ورلڈ کلاس نہیں: ظہیر عباس

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ظہیر عباس نے کہا کہ وہ حریف ٹیموں کے بیٹسمینوں پر بھی نظر رکھتے ہیں اور اپنے بولرز کو ان کے بارے میں بتاتے ہیں

دلکش سٹروکس سے دل موہ لینے والی بیٹنگ کرنے والے ماضی کے عظیم بیٹسمین ظہیر عباس اس وقت پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ساتھ چیف کرکٹ کنسلٹنٹ کی ذمہ داری نبھا رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اپنا وسیع تجربہ ٹیم کے بیٹسمینوں کو منتقل کریں لیکن ان کا کہنا ہے کہ یہ کام اتنا آسان نہیں اور نہ ہی فوری طور پر ہوسکتا ہے۔

ظہیرعباس نے پاکستانی ٹیم کی تربیت کے دوران بی بی سی اردو کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستانی بیٹسمین اچھے اور باصلاحیت ہیں لیکن وہ ورلڈ کلاس نہیں ہیں اور ورلڈ کلاس بیٹسمین بننے کے لیے مستقل مزاجی سے رنز کرنا بہت ضروری ہوتا ہے۔

فرسٹ کلاس کرکٹ میں سنچریوں کی سنچری مکمل کرنے والے ظہیر عباس کا کہنا ہے کہ پاکستانی بیٹنگ کی خامیوں کی تاریخ بہت پرانی ہے جو راتوں رات ٹھیک نہیں ہوسکتی لیکن وہ جس طرح بیٹنگ کی خامیاں دور کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں انہیں یقین ہے کہ وہ پاکستانی بیٹنگ کو دنیا کی بہترین بیٹنگ لائن بنا دیں گے لیکن اس میں وقت لگے گا۔

ان کا کہنا ہے کہ دوروں پر آپ بیٹسمینوں کی تکنیک کو مکمل طور پر ٹھیک نہیں کرسکتے اس کے لیے تربیتی کیمپ درکار ہوتے ہیں اور ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے بعد کیمپ لگایا جائے گا جس میں یہ خامیاں دور کی جائیں گی۔

ظہیرعباس نے کہا کہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے دوران انھوں نے بیٹسمینوں کی توجہ وکٹوں کے درمیان دوڑنے، پہلا رن تیز لینے اور پیڈ پر گیند نہ لگنے دینے جیسی چھوٹی چھوٹی لیکن بنیادی باتوں کی طرف دلائی ہے۔ اس کے علاوہ انھوں نے بیٹسمینوں کو یہ بھی بتایا ہے کہ غیرضروری طور پر اونچے شاٹس کھیل کر وہ اپنی وکٹیں گنواسکتے ہیں۔

ظہیرعباس نے کہا کہ پریشر میں اعتماد کھوئے بغیر بیٹنگ کے بارے میں بھی انھوں نے بیٹسمینوں کو کافی باتیں بتائی ہیں۔ انہیں خوشی ہے کہ کھلاڑی ان کی باتوں کو توجہ سے سن رہے ہیں اور ان پر عمل کررہے ہیں۔

ظہیر عباس کا کہنا ہے کہ ان کا کام صرف اپنے بیٹسمینوں کی خوبیوں اور خامیوں پر ہی نظر رکھنا نہیں ہے بلکہ وہ حریف ٹیموں کے بیٹسمینوں کے کھیل پر بھی نظر رکھتے ہیں اور اپنے بولرز کو ان کے بارے میں بتاتے ہیں۔

اسی بارے میں