شبنم سے نمٹنے کے لیےگیلی گیندوں سے پریکٹس

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اوس کی وجہ سے بولنگ مشکل ہوجاتی ہے: عمر گل

آئی سی سی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں شریک ہر ٹیم کو یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ میچ کے دوران رات کو گرنے والی اوس سے باؤلنگ کتنی مشکل ہوجاتی ہے لہٰذا عام طور پر ٹاس جیتنے والی ٹیمیں پہلے باؤلنگ کرنے کو ترجیح دیتی ہیں۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم اس مسئلے پر بڑی حد تک قابو پانے کے لیے اپنے باؤلرز کوگیلی گیندوں سے پریکٹس کرا رہی ہے تا کہ میچ کے دوران ان باؤلرز کو زیادہ پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے باؤلنگ کوچ محمد اکرم کا کہنا ہےکہ ٹیم کی ٹریننگ کے دوران بارہ گیندیں پانی میں بگھوکر ان سے بولنگ کرائی جا رہی ہے۔اس مقصد کے لیے باقاعدہ فیلڈ سیٹ کی جاتی ہے اور باؤلرز سے کہا جاتا ہے کہ وہ اس کے مطابق باؤلنگ کریں۔

فاسٹ باؤلر عمرگل کا اس بارے میں کہنا ہے کہ اوس کی وجہ سے باؤلنگ مشکل ہوجاتی ہے، اس صورتحال میں گیلی گیند سے لینتھ بال بڑی مؤثر ثابت ہوتی ہے۔انھوں نے کہا کہ گیند چونکہ سوئنگ نہیں ہوتی لہٰذا لینتھ بال یا یارکر سے بیٹسمین کو پریشان کیا جاسکتا ہے۔

عمرگل کا یہ بھی کہنا ہے کہ ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ باؤلرز کے لیے آسان نہیں ہے اس طرزِ کرکٹ میں وہی باؤلرز زیادہ کامیاب رہتے ہیں جو یارکر اور سلوگیند کا ذہانت سے استعمال کرتے ہیں۔

عمرگل جو ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں سعید اجمل کی 83 وکٹوں کے بعد 77 وکٹوں کے ساتھ دوسرے سب سے زیادہ وکٹیں حاصل کرنے والے باؤلر ہیں کہتے ہیں کہ ان وکٹوں پر باؤلنگ مشکل ہے لیکن آپ معذرت خواہانہ انداز اختیار کرکے بری الذمہ نہیں ہوسکتے۔ آپ کو وکٹ اور کنڈیشنز کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اپنی بہترین صلاحیتیں بروئے کار لانی ہوتی ہیں۔

عمرگل کا کہنا ہے کہ ان کی کوشش ہے کہ وہ ماضی کی طرح اس ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں بھی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کریں۔

واضح رہے کہ عمرگل نے سنہ 2009 کے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں سب سے زیادہ تیرہ وکٹیں حاصل کی تھیں جن میں نیوزی لینڈ کے خلاف اوول کے میدان میں صرف چھ رنز کے عوض پانچ وکٹوں کی غیرمعمولی کارکردگی بھی شامل تھی۔

اسی بارے میں