گواسکر بھارتی کرکٹ بورڈ کے عبوری صدر

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عدالت عظمی نے کہا کہ گواسکر آئی پی ایل 7 کے کام کاج کو دیکھنے کے لیے عارضی صدر بنائے گئے ہیں جبکہ بورڈ کے دوسرے کام سینئر بورڈ کے نائب صدر دیکھیں گے

بھارت کی سپریم کورٹ نے سپاٹ فکسنگ اور سٹے بازی کے الزامات کے پس منظر میں آئی پی ایل ٹورنامنٹ کے دوران کرکٹ کنٹرول بورڈ کی کمان عبوری طور پر عہد رفتہ کے کھلاڑی سنیل گواسکر کے سپرد کر دی ہے لیکن الزامات کی زد میں آنے والی دو بڑی ٹیموں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔

سپریم کورٹ نے جمعرات کو اپنے عبوری مجوزہ فیصلے میں یہ کہا تھا کہ وہ تفتیش مکمل ہونے تک راجستھان رائلز اور چنئی سوپر کنگز کو مقابلے سے الگ رکھنے کا حکم جاری کرسکتی ہے۔

لیکن بی سی سی آئی اور دونوں ٹیموں کے وکلا کے آخری دلائل سننے کے بعد عدالت نے اپنے عارضی فیصلے میں کوئی ایسا حکم نہیں دیا جس سے آئی پی ایل پر کوئی اثر پڑتا۔

بظاہر عدالت نے ان کے اس موقف سے اتفاق کیا کہ الزامات کی تفتیش ابھی مکمل نہیں ہوئی ہے اور اس مرحلے پر کسی ٹیم کے خلاف کارروائی نہ صرف قانون کے لحاظ سے مناسب نہیں ہوگی بلکہ اس سے کرکٹ کے شائقین کے ساتھ بھی ناانصافی ہوگی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سپریم کورٹ نے منگل کو کہا تھا کہ منصفانہ جانچ کے لیے شری نواسن کو اپنے عہدے سے استعفی دے دینا چاہیے

انڈیا میں پارلیمانی انتخابات کی وجہ سے یہ ٹورنامنٹ 16 اپریل سے متحدہ عرب امارات میں شروع ہوگا جبکہ آخری مراحل کے میچ انڈیا میں ہی کھیلے جائیں گا۔

اس کیس میں اگلی سماعت 16 اپریل کو ہی ہوگی۔

گزشتہ برس آئی پی ایل کے فوراً بعد دلی اور ممبئی کی پولیس نے میچوں کے دوران سپاٹ فکسنگ اور بڑے پیمانے پر سٹے بازی کے الزامات لگائے تھے اور اس سلسلے میں مسٹر سری نواسن کے دامان گروناتھ مئی اپن اور راجستھان رائلز کے تین کھلاڑیوں سمیت کئی افراد کو گرفتار کیا تھا۔

عدالت کا موقف تھا کہ جب تک مسٹر سرینواسن اپنے عہدے پر فائز ہیں ان الزامات کی آزادانہ انکوائری ممکن نہیں ہے۔ مسٹر سری نواسن چنئی سوپر کنگز کو کنٹرول کرنے والی کمپنی انڈیا سیمنٹس کے مالک بھی ہیں۔

جمعہ کو اخبار ٹائمز آف انڈیا نے ماہرین کے حوالے سے کہا تھا کہ اگر عدالت کے فیصلے کی وجہ سے آئی پی ایل ٹورنامنٹ منسوخ کرنا پڑا تو مجموعی طور پر تقریباً تین ارب ڈالر کا نقصان ہوگا۔ اگر صرف دونوں ٹیموں کو بھی مقابلے سے باہر کردیا جاتا تب بھی ٹورنامنٹ کو شدید مالی نقصان اٹھانا پڑتا۔

اسی بارے میں