ورلڈ ٹی20: سیمی فائنل کی دوڑ کے لیے اہم مقابلے

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نیدرلینڈز کے ٹام کوپر نے کولی فائنگ میچ میں زبردست بیٹنگ کا مظاہرہ کیا تھا

بنگلہ دیش میں جاری پانچویں آئی سی سی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے گروپ میچز میں سنیچر کو دو میچ کھیلے جا رہے ہیں۔ پہلا میچ نیوزی لینڈ اور ہالینڈ کے درمیان ہے جبکہ دوسرا میچ انگلینڈ اور جنوبی افریقہ کے درمیان ہو رہا ہے۔

نیوزی لینڈ کے لیے یہ میچ انتہائي اہمیت کا حامل ہے کیونکہ ہالینڈ نے جنوبی افریقہ کے خلاف جس طرح کی کرکٹ کھیلی ہے اس نے دوسری ٹیموں کو خبردار کر دیا ہے کہ انھیں آسان حریف نہ سمجھا جائے۔

ہالینڈ کی ٹیم نے کوالیفائنگ راؤنڈ میں بھی زبردست کھیل کا مظاہرہ کیا تھا۔

دوسری جانب نیوزی لینڈ نے بارش سے متاثرہ میچ میں انگلینڈ کے خلاف کامیابی حاصل کی تھی جبکہ جنوبی افریقہ سے صرف دو رنز سے ہار گئی تھی۔

نیوزی لینڈ حالیہ دنوں اچھے فارم میں نظر آئی ہے۔ اس ٹونامنٹ سے قبل اس نے بھارت کے خلاف ہوم سیریز میں زبردست کامیابی حاصل کی تھی۔

بہر حال کرکٹ مبصرین کا خیال ہے کہ نیوزی لینڈ کے جیت کے آثار زیادہ ہیں تاہم ہالینڈ کی ٹیم الٹ پھیر کی قدرت رکھتی ہے۔

نیوزی لینڈ کی جانب سے ولیمسن، ٹیلر اور مکلم پر نظریں رہیں گي۔

پہلا میچ مقامی وقت کے مطابق ساڑھے تین بجے چٹاگونگ کے ظہور احمد چوہدری سٹیڈیم میں کھیلا جائے گا جبکہ دوسرا میچ شام ساڑھے سات بجے شروع ہوگا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption الیکس ہیلز نے سری لنکا کے خلاف سنچری بنائی تھی

دوسرے میچ میں انگلینڈ پوری کوشش کرے گا کہ یہ میچ جیت کر وہ سیمی فائنل کی اپنی دوڑ میں قائم رہے۔

انگلینڈ نے سری لنکا کے خلاف میچ میں زبردست کامیابی حاصل کی ہے اور ان میں اس جیت سے بہت اعتماد پیدا ہوا ہے۔

دوسری جانب جنوبی افریقہ کی ٹیم پر دباؤ ہوگا کیونکہ یہ ان کا آخری گروپ میچ ہے اور انھیں تین میچوں میں دو جیت کے ساتھ چار پوائنٹس حاصل ہیں جبکہ سری لنکا کو بھی اتنے ہی میچز میں چار پوائنٹس ہیں لیکن وہ رن اوسط میں جنبوبی افریقہ سے بہت آگے ہے۔

جنوبی افریقہ کو اس میچ میں اپنی رن اوسط میں بہتری لانے کی بھی ضرورت ہوگی۔

ایک بار پھر کرکٹ شائقین کی نظریں، ہاشم آملہ، ڈومینی، ڈوپلیسی اور ڈی ولیئرز کے علاوہ طاہر عمران اور ڈیل سٹین پر رہے گي جبکہ انگلینڈ کی جانب سے سنچری بنانے والے ہیلز کے علاوہ روی بوپارا سے اچھی کارکردگی کی امیدیں وابستہ رہیں گي۔

دونوں ٹیموں میں کسی بدلاؤ کا امکان کم ہی ہے۔

اسی بارے میں