کرکٹ کے رنگ بنگال ٹائیگر کے سنگ

Image caption شعیب علی جب ٹائیگر کے روپ میں ہوتے ہیں تو دنیا انہیں پہچان لیتی ہے لیکن جب عام روپ میں وہ کھلاڑیوں سے ملتے ہیں تو انہیں اپنا تعارف کرانا پڑتا ہے۔

منفرد انداز اختیار کرکے دنیا بھر کی توجہ حاصل کرنے والے شائقین سے ہی کرکٹ کے میدانوں کی رونق قائم ہے۔یہ رنگ اگر نہ ہوں تو کھیل کی خوبصورتی پوری طرح اجاگر نہ ہوسکے۔

بنگلہ دیش میں کرکٹ میچ کا تصور جوشیلے نوجوان شعیب علی کے بغیر اب ادھورا ہے جنہیں ان کے اصل نام سے کوئی بھی نہیں جانتا لیکن ٹائیگر کے نام سے پورا ملک انہیں اسی طرح پہچانتا ہے جیسے کسی بنگلہ دیشی کرکٹر کو۔

شعیب علی نے سٹیڈیم میں اپنی منفرد پہچان کے لیے اپنے جسم کو بنگال ٹائیگر اور بنگلہ دیشی پرچم کے رنگوں سے پینٹ کرنے کا طریقہ اختیار کررکھا ہے اور جب وہ اس روپ میں کسی ٹائیگر کی طرح دھاڑتے ہیں تو پورے ماحول کو اپنی جانب متوجہ کرلیتے ہیں۔

شعیب علی موٹر مکینک ہیں اور گاڑیوں کی ڈینٹنگ پینٹنگ کرتے ہیں لیکن تین سال ہوئے گاڑیوں کی پینٹنگ چھوڑ کر اپنے جسم پر پینٹنگ شروع کردی ہے۔

’ میں جسم کو پہلے نارنجی رنگ کرتا ہوں پھر سیاہ دھاریاں پینٹ کرتا ہوں اور آخر میں بنگلہ دیشی پرچم بناتا ہوں۔ یہ کام میں ڈیڑھ گھنٹہ شیشے کے سامنے کھڑا رہ کرلیتا ہوں جسم کی پشت پر بنگلہ دیشی پرچم پینٹ کرنے میں میرا دوست میری مدد کرتا ہے ۔میچ کے بعد تمام رنگوں کو جسم سےصاف کرنے میں آدھا گھنٹہ لگتا ہے۔‘

شعیب علی کو میدان میں منفرد انداز اختیار کرنے کا خیال پاکستان کے صوفی جلیل اور بھارت کے سدھیر کو دیکھ کر آیا لیکن شعیب علی کے لیے یہ سستا نسخہ نہیں ہے۔

’ میرے پاس کوئی ملازمت نہیں ہے اور نہ ہی سپانسر ہے لہٰذا بڑی مشکل سے رنگوں کے ڈبے خریدتا ہوں۔پہلے جسم پر پینٹ کرنے کے لیے کسی کی مدد چاہی تو اس نے تین ہزار ٹکا لے لیے جس کے بعد اب یہ کام خود ہی کرتا ہوں۔‘

شعیب علی کے والد ڈھاکہ کی ایک مسجد کے پیش امام ہیں۔گھر والوں کو ایک عرصے تک یہ پتہ ہی نہ چل سکا کہ وہ جس نوجوان کو جسم پر ٹائیگر بنائےسٹیڈیم میں دیکھ رہے ہیں وہ ان کا اپنا بیٹا ہے۔

’میں نے گھروالوں سے چھپ کر جسم پر ٹائیگر پینٹ کرکے سٹیڈیم میں جانا شروع کیا تھا۔گھرآتے وقت چہرہ اور جسم دھوکر صاف کردیتا تھا۔گھر والےمیرے کرکٹ سے شوق پر پہلے ہی سخت ناراض تھے لیکن جب پتہ چلا کہ میں ٹائیگر ہوں تو مت پوچھیے کہ وہ کتنا غصہ ہوئے۔ انہیں اس وقت یہ بات معلوم ہوئی تھی جب میں سری لنکا جارہا تھا۔‘

شعیب علی بنگلہ دیشی ٹیم کے ساتھ زمبابوے بھی جاچکے ہیں لیکن ٹائیگر بننے سے قبل انہوں نے بھارت کا پر خطر سفر بھی کیا تھا۔

’ دو ہزار چھ کی چیمپینز ٹرافی دیکھنے میں بھارت گیا تھا لیکن اس وقت میری عمر کم تھی اور میرے پاس پاسپورٹ بھی نہیں تھا لیکن میں نے کسی طرح سرحد پار کی اور وہاں چلاگیا لیکن یقین جانیے بہت مشکل کا سامنا کرنا پڑا تھا۔‘

شعیب علی کو ٹائیگر کے روپ میں اب سب جانتے ہیں لیکن ابتدا میں انہیں لوگوں کے نامناسب رویے کا بھی سامنا کرنا پڑا۔

’میں گراؤنڈ میں جانے لگتا تو سکیورٹی والے کہتے کہ لائن میں لگو۔ میں ان سے کہتا کہ اگر لائن میں لگوں گا تو انتظار کرتے کرتے میرے جسم پر لگے رنگ پگھل جائیں گے لیکن وہ نہیں مانتے تھے اور دھتکارتے تھے میں کہتا تھا کہ ایک وقت آئے گا جب میں مشہور ہوجاؤں گا اور تم مجھے نہیں روک سکو گے۔

شعیب علی جب ٹائیگر کے روپ میں ہوتے ہیں تو دنیا انہیں پہچان لیتی ہے لیکن جب عام روپ میں وہ کھلاڑیوں سے ملتے ہیں تو انہیں اپنا تعارف کرانا پڑتا ہے۔

’میں سری لنکن کرکٹرز جے وردھنے مالنگا اور سنگاکارا سے ملا اور ان کو بتایا کہ میں ٹائیگر ہوں تو وہ بہت خوش ہوئے لیکن وہ مجھے پہچانے نہیں تھے۔‘

شعیب علی کہتے ہیں کہ بنگلہ دیشی کرکٹرز اور عوام نے انہیں جو محبت دی ہے وہی ان کا سب سے بڑا سرمایہ ہے۔ وہ اپنی اس زندگی پر خوش اور نازاں ہیں۔

اسی بارے میں