ثقلین مشتاق کا دل ودماغ ویسٹ انڈیز کےساتھ

Image caption ثقلین مشتاق بنگلہ دیش اور نیوزی لینڈ کے بھی کوچ رہے ہیں

آئی سی سی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں پاکستان اور ویسٹ انڈیز کی ٹیمیں منگل کو مدمقابل ہورہی ہیں۔اس میچ کی فاتح ٹیم سیمی فائنل میں پہنچ جائے گی۔

ویسٹ انڈیز نے پچھلے کئی ماہ سے باؤلنگ کے شعبے کو موثر بنانے کے لیے پاکستان کے سابق آف سپنر ثقلین مشتاق کی خدمات حاصل کررکھی ہیں جو اس ایونٹ میں بھی ٹیم کے ساتھ موجود ہیں اور اپنے باؤلرز کو اپنا وسیع تجربہ منتقل کرنے کےساتھ ساتھ اپنے بیٹسمینوں کو بھی یہ بتاتے ہیں کہ وہ کس طرح حریف باؤلرز کو قابو کرسکتے ہیں۔

پاکستان کی طرف سے ٹیسٹ کرکٹ میں دو سو آٹھ اور ون ڈے میں دو سو اٹھاسی وکٹیں حاصل کرنے والے ثقلین مشتاق اس سے قبل نیوزی لینڈ اور بنگلہ دیش کی ٹیموں کے ساتھ بھی مختصر معاہدے کے تحت کام کر چکے ہیں۔

ثقلین مشتاق کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت ویسٹ انڈیز کی شرٹ پہنے ہوئے ہیں اور ان کا دل و دماغ ویسٹ انڈین ٹیم کے ساتھ ہے۔ یہ ان کے لیے اعزاز کی بات ہے کہ وہ دنیاکی ایک بڑی ٹیم کے ساتھ کام کررہے ہیں۔

ثقلین مشتاق نے کہا کہ انہیں اس بات کا کوئی افسوس نہیں کہ ان کی متعارف کرائی گیند’ دوسرا‘ پر اب سوالیہ نشان لگتے رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ انہیں خوشی ہوتی ہے جب بولرز ’ دوسرا‘ کرتے ہیں اور ان کا نام لیا جاتا ہے کہ یہ گیند ثقلین نے ایجاد کی تھی ۔

انھوں نے کہا کہ قواعدوضوابط کے مطابق باؤلنگ پر نظر رکھنے کی ذمہ داری آئی سی سی کی ہے اور اگر کوئی باؤلر قواعد وضوابط کے مطابق دوسرا اور کیرم بال کرتا ہے تو اس کی تعریف کرنی چاہیے ۔

پاکستان کے خلاف میچ کے بارے میں ثقلین مشتاق کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کے سبب اب کسی بھی کرکٹر کی کرکٹ راز نہیں رہی ہے ۔پاکستانی ٹیم جس کھلاڑی پر انحصار کرے وہ اس کی مرضی ہے جہاں تک ویسٹ انڈین ٹیم کا تعلق ہے تو انھوں نے اپنے سپنرز سے کہہ رکھا ہے کہ اللہ نےآپ کو دو آنکھیں دی ہیں ایک سے اپنی قوت کو دیکھیں اور دوسری سے حریف ٹیم کی کمزوری پر نظر رکھیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جب پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان محمد حفیظ سے ثقلین مشتاق کی ویسٹ انڈین ٹیم میں موجودگی کے بارے میں سوال کیاگیا تو ان کا کہنا تھا کہ ثقلین ایک ورلڈ کلاس سپنر رہے ہیں جنہوں نے پاکستان کی کئی فتوحات میں اہم کردار ادا کیا لیکن کوئی بھی کوچ کسی بھی کھلاڑی یا ٹیم کو گولی کھلا کر ٹھیک نہیں کرسکتا۔

انھوں نے کہا کہ ویسٹ انڈیز کے پاس سنیل نارائن جیسے اچھے سپنرز ہیں جن کی وہ عزت کرتے ہیں لیکن پاکستانی ٹیم ورلڈ کلاس سپنرز پر مشتمل ہے۔

اسی بارے میں