عوام سے معافی لیکن مستعفی ہونے سے انکار

تصویر کے کاپی رائٹ ICC
Image caption سنہ 2007 میں ورلڈ ٹوئنٹی شروع ہونے کے بعد پانچ عالمی مقابلوں میں یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستانی ٹیم سیمی فائنل میں پہنچنے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے

پاکستان کرکٹ کے کپتان محمد حفیظ نے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں ٹیم کے سیمی فائنل میں نہ پہنچنے پر عوام سے معافی مانگی ہے لیکن ساتھ ہی یہ بھی واضح کردیا ہے کہ اس کی تہنا ذمہ داری ان پر عائد نہیں کی جاسکتی اور ان کا کپتانی چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے کیونکہ ہار کے بعد اس طرح کی نشاندہی اکثر کی جاتی ہے۔

سنہ 2007 میں ورلڈ ٹوئنٹی شروع ہونے کے بعد پانچ عالمی مقابلوں میں یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستانی ٹیم سیمی فائنل میں پہنچنے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے۔

محمد حفیظ نے کہا کہ ویسٹ انڈیز کے خلاف کھلاڑی اچھا نہیں کھیلے لیکن شکست کی ذمہ داری کسی فردِ واحد پر نہیں عائد کی جاسکتی۔اس کے ذمہ دار ٹیم منیجمنٹ اور تمام کھلاڑی ہیں اگر کھلاڑی اچھا نہیں کھیلے تو یہ ان کی ذمہ داری ہے۔

انھوں نے کہا کہ مستقبل کو ذہن میں رکھتے ہوئے بہتر سوچنا ہوگا یہ کام سلیکشن کمیٹی کا ہے جو ہمیشہ ٹیم کا انتخاب کرتی ہے۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان نے کہا کہ آخری چار اوورز میں پاکستانی بولرز نے بہت زیادہ رنز دے ڈالے اور ویسٹ انڈیز نے وہیں سے میچ اپنے حق میں کرلیا تھا اور جب پاکستانی ٹیم کی بیٹنگ آئی تو وہ بھی کسی بھی موقع پر اعتماد کا مظاہرہ نہ کرسکی اور بلے بازوں نے گھبراہٹ کے عالم میں شاٹس کھیلے۔

محمد حفیظ نے اپنی بیٹنگ کارکردگی کے بارے میں کہا کہ وہ کافی عرصے سے نمبر تین پر بیٹنگ کررہے ہیں لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ اس ٹورنامنٹ میں وہ اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہ کرسکے۔

شعیب ملک اور کامران اکمل کو بلند بانگ دعووں کے ساتھ ٹیم میں شامل کیے جانے اور ان دونوں کی مایوس کن کارکردگی کے بارے میں محمد حفیظ کا کہنا ہے کہ سلیکٹرز نے ان پر اعتماد کیا تھا لیکن وہ توقعات پر پورا نہ اترسکے لیکن یہ دونوں اچھے کھلاڑی ہیں اور کامران اکمل نے اس ٹورنامنٹ میں اچھی وکٹ کیپنگ کی ہے۔

اسی بارے میں