دانش کنیریا تاحیات پابندی کے خلاف ہائی کورٹ میں

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption دانش کنیریا پر ای سی بی نے 2012 میں تاحیات پابندی عائد کی تھی

سابق پاکستانی کرکٹر دانش کنیریا نے سپاٹ فکسنگ الزامات میں عائد پابندی کے خلاف عدالت میں جانے کا فیصلہ کیا ہے۔

دانش کنیریا پر تاحیات پابندی کا فیصلہ انگلش کرکٹ بورڈ کی طرف سے ایسیکس کاؤنٹی سپاٹ فکسنگ کیس میں اپنے ساتھی مروِن ویسٹ فیلڈ کی سٹے بازی میں معاونت، ان پر دباؤ اور سٹے بازوں سے ان کو متعارف کروانے کے الزام ثابت ہونے کے نتیجے میں لیا گیا تھا۔

بی بی سی کو دیےگئے خصوصی انٹرویو میں کنریا نے کہا ’میں بےگناہ ہوں اور میں نے ویسٹ فیلڈ پر کسی قسم کا دباؤ نہیں ڈالا نہ ہی کھیل کو بدنام کیا ہے‘۔ انہوں نے مذید کہا کہ کرکٹ ان کی روزی روٹی ہے اور وہ ان سے چھین لی گئی ہے۔

انگلش کرکٹ بورڈ نے 2012 میں ویسٹ فیلڈ پر پانچ سال کی پابندی عائد کی تھی جبکہ کنیریا، جن پر تاحیات پابندی عائد کی گئی تھی۔

کنیریا نے اس فیصلے کے خلاف گذشتہ سال اپریل میں اپیل کی تھی جسے مسترد کردیا گیا تھا۔ تاہم اب کنیریانےانگلینڈ ہائی کورٹ میں کیس دائر کیا ہے۔

بتیس سالہ سابقہ کرکٹر پر ویسٹ فیلڈ نے الزام عائد کیا تھا کہ کنیریا نے ان پر ایک سٹے باز سے ناقص کارکردگی کے بدلے 6,000 پاونڈ لینے پر دباؤ ڈالا تھا۔

یاد رہے کہ نئے آئی سی سی قوانین کے مطابق انگلش کرکٹ بورڈ کے اس فیصلے کا اطلاق دنیا بھر کے کرکٹ بورڈز پر ہوگا۔ جس کا مطلب ہے کہ کنیریا دنیا بھر میں کہیں بھی کرکٹ نہیں کھیل سکتے۔

انگلش کرکٹ بورڈ نے بی بی سی کو دیے گئے بیان میں کہا کہ ’کنیریا کا جرم دو آزاد کرکٹ ڈسپلن کمیشن پینل کی طرف سے دو الگ الگ مواقع پر ثابت کیا گیا ہے اور ای سی بی اس فیصلے کی بھرپور توثیق کرتا ہے‘۔

اس سے قبل پاکستان کرکٹ ٹیم کے تین کھلاڑیوں محمد عامر، سلمان بٹ اور محمد آصف پر 2010 میں انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ میں سپاٹ فکسنگ کرنے کا جرم ثابت ہونے کے بعد پابندی لگا دی گئی۔

دانش کنیریا پاکستانی ٹیسٹ کرکٹ سکواڈ میں رہتے ہوئے 61 میچوں میں 261 وکٹیں لے چکے ہیں۔ وہ وسیم اکرم ، وقار یونس اور عمران خان کے بعد چوتھے ایسے کھلاڑی ہیں۔

اسی بارے میں