لندن میراتھن میں مو فرح کی آٹھویں پوزیشن

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption مو فرح سے توقع کی جا رہی تھی کہ وہ ایک نیا برطانوی ریکارڈ قائم کریں گے

برطانیہ کے ایتھلیٹ مو فرح لندن میراتھن میں آٹھویں پوزیشن پر آئے ہیں جبکہ کینیا کے ولسن کپسانگ نے دوسری بار ریس جیت لی ہے۔

برطانوی ایتھلیٹ مو فرح 29 سال برطانوی ایتھلیٹ سٹیو جونز کا دو گھنٹے سات منٹ اور تیرہ سیکنڈ کا برطانوی ریکارڈ بھی توڑنے میں ناکام رہے۔

انھوں نے 26.2 میل کا مقررہ فاصلہ دو گھنٹے، آٹھ منٹ او اکیس سیکنڈز میں طے کیا جبکہ کینیا کے ولسن کسپانگ دو گھنٹے، چار منٹ اور 27 سکینڈ میں طے کر کے فاتح رہے۔

ریس میں خواتین کی درجہ بندی میں کینیا کی ہی ایتلھیٹ ایدنا کپلگٹ نے ریس جیتی۔

مو فرح ریس کے آغاز کے فوری بعد ہی پہلے گروپ سے 38 سکینڈ کے فاصلے پر چلے گئے اور بعد 15 میل کی ریس کے بعد یہ فاصلہ بڑھ کر 49 سکینڈ ہو گیا اور 19 میل پر یہ بڑھ کر ایک منٹ تک جا پہچنا اور ریس کے اختتام پر میراتھن کے فاتح ولسن کپسانگ سے تقریباً چار منٹ پیچھے تھے۔

اس کے علاوہ انھوں نے ریس کے دوران پانی حاصل کرنے کی دو بار غلطی بھی کی جس کی وجہ سے ان کا پہلی پوزیشن حاصل کرنے والے کھلاڑیوں سے فاصلہ بڑھ گیا۔

تاہم وہ میراتھن میں چوتھے تیز رفتار برطانوی کا ریکارڈ بنانے میں کامیاب رہے۔

میراتھن کے بعد مو فرح سے جب پوچھا گیا کہ آئندہ میراتھن میں کیا کریں گے تو اس پر انھوں نے کہا کہ’بالکل 100 فیصد کروں گا اور میں اسے اس طرح سے ختم نہیں کروں گا اور میں مقابلے میں واپس آؤں گا۔‘

انھوں نے کہا کہ میں نے اس ریس میں ہرممکن کوشش کی لیکن میری خواہش ہے کہ میں اپنے مداحوں کو شائقین کے لیے مزید کچھ کر سکتا۔

مو فرح نے لندن اولمپکس میں دس اور پانچ ہزار میٹرز ریس جیتی تھی اور اس کے علاوہ گذشتہ سال ماسکو میں ورلڈ ایتھلیٹک چیمپئین شپ میں مردوں کی دس ہزار میٹرز ریس جیت کر پہلے برطانوی کھلاڑی بن گئے تھے۔

دوسری بار لندن میراتھن جیتنے والے ولسن کپسانگ نے آخری دو منٹ میں اپنی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے حریف اور پیرس میراتھن کے فاتح کو 26 سکینڈ پیچھے چھوڑ دیا۔

ولسن کپسانگ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ’میں نے رفتار اور دوسرے کھلاڑیوں پر حاصل سبقت کا فائدہ اٹھایا، میں نے دیکھا کہ بےواٹ کافی مضبوط ہیں اور یہ کافی پیچدہ بن رہا تھا۔ میرا ہدف جیتنا اور ایک نیا ریکارڈ قائم کرنا تھا۔‘

اسی بارے میں