متنازع زمین پر تنازعوں میں گھری آئی پی ایل کا آغاز

تصویر کے کاپی رائٹ pti
Image caption سیزن کی شروعات ممبئی انڈینز اور کولکتہ نائٹ رائیڈرز کے درمیان میچ سے ہوگی

منگل کو کچھ بھارتی اخباروں میں ابوظہبی کے ایک ہوٹل کی لابی میں کھڑے چنّئی سپر کنگ کے کپتان مہندر سنگھ دھونی اور ان کی اہلیہ کی مسکراتی ہوئی تصویر شائع کی ہے۔ بھارت کے اس سب سے مہنگے کھلاڑی کی مسکراہٹ دیکھ کر ایسا محسوس ہی نہیں ہوتا کہ انڈین پریمیئر لیگ اپنے سب سے برے دور سے گزر رہی ہے۔

یہ بات بھی دلچسپ ہے کہ بدھ کو جب ہزاروں کروڑ روپے مالیت کے آئی پی ایل کے ساتویں سیزن کی رنگ برنگی شروعات ہوگی ، اس وقت دہلی میں سپریم کورٹ آئی پی ایل میں میچ فکسنگ اور اسے چلانے والے کچھ اعلیٰ عہدیداروں کی کارگزاریوں پر اہم سماعت کرے گی۔

بدھ کو اگر سپریم کورٹ ایک بار پھر آئی پی ایل پر سخت تبصرہ کیا تو یقیناً پہلے ہی دن لیگ کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ بات اہم ہے کہ گزشتہ مہینے عدالت عظمیٰ نے لیگ کی دو ٹیموں چنّئی سپر کنگ اور راجستھان رائلز کو باہر کرنے کا تقریباً فیصلہ کر لیا تھا۔

ایک لمحے کے لیے محسوس ہوا کہ آئی پی ایل اب ڈوبنے والی ہے لیکن عدالت نے اپنے عبوری فیصلے میں نہ صرف ان دونوں ٹیموں بلکہ پوری آئی پی ایل کو ریلیف دے دی۔

چنّئی سپر کنگ کے مالک اور بورڈ کے صدر این شری نواسن کے داماد گروناتھ میّپن پر ٹیم کی حکمت عملی اور پلاننگ کی معلومات سٹے بازوں کو دینے اور آئی پی ایل کے میچوں پر سٹہ کھیلنے کا الزام ہے۔ ممبئی پولیس نے ان کے خلاف مقدمہ بھی درج کر رکھا ہے جبکہ راجستھان رائلز کے مالک راج کندرا پر بھی میچوں پر جوا کھیلنے کا الزام ہے۔

بہار کرکٹ ایسوسی ایشن کے سیکریٹری آدتیہ ورما میچ فکسنگ کے الزامات کے بعد بھارتی کرکٹ بورڈ کو عدالت میں لے گئے ہیں۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا ’میں کل ہونے والی سماعت میں عدالت سے پورے آئی پی ایل کی تحقیقات سی بی آئی یا این آئی اے سے کرانے کی درخواست کروں گا۔ آئی پی ایل کے گھپلوں کا پردہ فاش ہونا ہی چاہیے۔‘

بھارت میں پارلیمانی انتخابات کی وجہ سے آئی پی ایل کا ایک حصہ متحدہ عرب امارات میں کھیلا جا رہا ہے جس میں شارجہ بھی شامل ہے اور 15 مئی کے بعد آئی پی ایل بھارت لوٹے گا۔

ویسے بھارتی کرکٹ بورڈ اور ٹیموں کو اس سے نقصان اٹھانا پڑے گا لیکن وہ خوش ہیں کہ میڈیا فی الحال ان کا پیچھا چھوڑ دے گا لیکن بھارت کی وزارتِ کھیل نے بورڈ کو خط لکھ کر آئی پی ایل کو متحدہ عرب امارات لے جانے کا سبب پوچھا ہے۔ 1980 کے عشرے میں یو اے ای خاص کر شارجہ میچ فکسرز کی’جنت‘ ہوا کرتا تھا ۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption آئی پی ایل میں میچ فکسنگ کے الزامات اور اس سے پیدا ہونے والے تنازعے سے یقیناً اس کی شبیہ کو نقصان پہنچا ہے

بےشک ان دنوں دھونی ہر فوٹو میں مسکراتے ہوئے نظر آ رہے ہیں لیکن آئی پی ایل میں لگے ہوئے داغ سے باہر نکلنا ان کے لیے مشکل ثابت ہو رہا ہے ۔ ان کے خلاف سپریم کورٹ کے جسٹس مودگل تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے جھوٹ بولنے اور میّپن کو بچانے کا الزام ہے ۔ ٹیم کی ہار یا ان کی ٹیم کے کسی تنازعے میں دوبار پھنسنے کی صورت میں ان کی مشکلیں بڑھ سکتی ہیں۔

اس پس منظر میں آئی پی ایل کی ٹیموں نے ابوظہبی پہنچنا شروع کر دیا ہے۔ اس سیزن کی شروعات ممبئی انڈینز اور کولکتہ نائٹ رائیڈرز کے درمیان بےحد گرم ماحول میں ہوگی۔

ممبئی انڈینز کی طرف سے روہت شرما بےشک بڑا نام ہیں لیکن سب کی نگاہیں نیوزی لینڈ کے 23 سالہ جارحانہ بلے باز کوری اینڈرسن پر ہوں گی۔ اینڈرسن اسی برس ویسٹ انڈیز کے خلاف 36 گیندوں پر سنچری بنانے کا عالمی ریکارڈ قائم کرنے کے بعد خبروں میں تھے۔

کولکتہ کے کپتان گوتم گمبھیر کے لیے یہ سیزن خود کو ثابت کرنے کا ہے لیکن اس ٹیم میں سب سے بڑی کشش کا مرکز عالمی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لے چکے ژاک کالس ہوں گے۔

اگر پورے ٹورنامنٹ کی بات کریں تو آئی سی سی ورلڈ ٹی 20 میں سست کھیلنے کے سبب تنقید کا نشانہ بننے والے یوراج سنگھ کے کھیل کو کافی قریب سے جانچا جانا ہے۔

رائل چیلنجرز بنگلور کے مالک وجے مالیا نے انھیں اس بار کی نیلامی میں چودہ کروڑ میں خریدا ہے۔ وہ بھی ایسے وقت میں ایئر لائنز کمپنی چلانے والے مالیا کے پاس اپنے پائلٹوں اور عملے کو تنخواہیں دینے کے لیے پیسے نہیں ہیں۔

یہ سیزن آئی پی ایل کے کچھ نوعمر کھلاڑیوں کے لیے خود کو ثابت کرنے کا ایک بڑا موقع ہوگا۔ ان میں چنّئی سپر کنگ کے باب اپراجت اور رائل چیلنجرز کے وجے جول بھی شامل ہیں۔ ان دونوں نے انڈر 19 اور اپنی ریاستوں کی ٹیموں کے لیے بہترین کارکردگی کی بدولت آئی پی ایل میں جگہ بنائی ہے ۔ اس کے علاوہ سن رائزرز حیدر آباد کے ریکی بھوئی بھی ہیں جن کی عمر صرف 17 سال ہے۔

آئی پی ایل میں میچ فکسنگ کے الزامات اور اس سے پیدا ہونے والے تنازعے سے یقیناً اس کی شبیہ کو نقصان پہنچا ہے لیکن ایسا نہیں محسوس ہوتا کہ اس کا کوئی اثر متحدہ عرب امارات کے کرکٹ شائقین پر پڑا ہے۔

آئی پی ایل نے دعوی کیا ہے کہ پہلے ہفتے کی ساری ٹکٹیں فروخت ہو چکی ہیں۔ یہ دعوے کتنے صحیح ہیں یہ میچ شروع ہونے کے بعد ہی پتہ چل سکے گا۔

اسی بارے میں