سکواش کھلاڑیوں کی پاکستان آمد پر پابندی ختم

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سکواش کا کھیل پاکستان میں بہت مقبول ہے

سکواش کے بین الاقوامی کھلاڑیوں کی تنظیم پروفیشنل سکواش ایسوسی ایشن (پی ایس اے) نےغیر ملکی کھلاڑیوں کی پاکستان آمد پر عائد پابندی ختم کر دی ہے اس کے ساتھ ہی ایسوسی ایشن نے پاکستان میں طویل عرصے بعد 25 ہزار ڈالر مالیت کا ٹورنامنٹ منعقد کرنے کا بھی اعلان کر دیا ہے۔

واضح رہے کہ یہ پابندی 2008 میں عائد کی گئی تھی۔

پاکستان میں انٹرنیشنل سکواش کی واپسی پاکستان سکواش فیڈریشن کے سینیئر نائب صدر ایئر وائس مارشل سید رضی نواب کی کوششوں کے نتیجے میں عمل میں آئی ہے جنھوں نے اس سال جنوری میں اسکواش کے سابق عالمی چیمپیئن قمرزمان کے ہمراہ لندن میں پروفیشنل سکواش ایسوسی ایشن کے حکام سے ملاقات کی تھی۔

تین ماہ سےزائد طویل رابطے کے بعد پروفیشنل سکواش ایسوسی ایشن نے منگل کے روز پاکستان سکواش فیڈریشن کو پاکستان میں غیرملکی کھلاڑیوں کے آنے پر عائد پابندی ختم کیے جانے اور 25 ہزار ڈالر مالیت کے سکواش ٹورنامنٹ کی پاکستان کو میزبانی دیے جانے کے بارے میں مطلع کردیا ۔

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption پاکستان میں بڑے ٹورنامنٹس ہونے سے ملک میں سکواش کا کھیل پروان چڑھے گا

ایئر وائس مارشل رضی نواب نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس فیصلے کو پاکستان اور خاص کر پاکستانی سکواش کے لیے خوش خبری قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سکیورٹی کے خدشات کے پیش نظر پی ایس اے نے غیر ملکی کھلاڑیوں کو پاکستان آنے سے روک رکھا تھا جس کے نتیجے میں پاکستان کو بڑی مالیت کے مقابلے بھی نہیں مل رہے تھے۔

سکواش کی عالمی تنظیم نے پاکستان کو دس ہزار ڈالر کے چار ٹورنامنٹس دیے تھے لیکن چونکہ صف اول کے غیرملکی کھلاڑی پاکستان نہیں آتے تھے لہٰذا بڑا ٹورنامنٹ وہ پاکستان کو دینے کے لیے تیار نہیں تھی، تاہم اب پاکستان سکواش فیڈریشن اس سال اکتوبر میں 25 ہزار ڈالر کا ٹورنامنٹ اسلام آباد میں منعقد کرے گی۔

یاد رہے کہ نائن الیون کے واقعے نے پاکستان میں بین الاقوامی کھیلوں کے انعقاد کو بری طرح متاثر کیا تھا لیکن 2009 میں سری لنکن کرکٹ ٹیم پر دہشت گرد حملے کے بعد رہی سہی سرگرمیاں بھی ختم ہوگئیں۔

اسی بارے میں