سپاٹ فکسنگ:تحقیقاتی ٹیم کے لیے تین نام تجویز

تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption بی سی سی آئی نے کمیٹی کے رکن کے طور پر روی شاستری کا نام بھی تجویز کیا ہے

بھارتی کرکٹ کنٹرول بورڈ نے انڈین پریمیئر لیگ میں سپاٹ فکسنگ کے الزامات کی تحقیقات کے لیے تین رکنی تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل کی سفارش کی ہے۔

خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق بی سی سی آئی نے اس سلسلے میں سابق کرکٹر روی شاستری، کولکتہ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس جےاین پٹیل اور سی بی آئی کے سابق ڈائریکٹر آر کے راگھون کے نام تجویز کیے ہیں۔

سپریم کورٹ آئی پی ایل میں سپاٹ فکسنگ کے الزامات کے معاملے کی سماعت کر رہی ہے۔

گزشتہ سال آئی پی ایل میں بدعنوانی کے معاملات میں سپریم کورٹ کی ہدایات پر عمل کرنے کے لیے اتوار کو بی سی سی آئی کی ورکنگ کمیٹی نے ممبئی میں منعقدہ اجلاس کے بعد تین رکنی تحقیقاتی ٹیم کی سفارش کی۔

اس سے پہلے سپریم کورٹ نے بھارتی کرکٹ بورڈ کے سابق صدر این سری نواسن کی اس درخواست کو خارج کر دیا تھا جس میں انہوں نے پھر سے بورڈ کے صدر کے عہدہ سنبھالنے کی اجازت مانگی تھی۔

سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں کہا تھا کہ جب تک یہ ثابت نہ ہو جائے کہ سری نواسن بدعنوانی میں ملوث نہیں، وہ بورڈ کے عہدیدار نہیں بن سکتے۔

آئی پی ایل بدعنوانی سکینڈل میں پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس جسٹس مدگل کی سربراہی میں بنائی جانے والی کمیٹی نے سپریم کورٹ کے سامنے جو رپورٹ پیش کی ہے اس میں کچھ ہندوستانی کرکٹروں اور بورڈ کے ارکان سمیت کل 13 لوگوں کے نام ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption سپاٹ فکسنگ معاملہ طول پکڑتا جا رہا ہے اور تحقیقاتی کمیٹی نے اس میں 13 لوگوں کا ذکر کیا ہے

سپریم کورٹ نے مدگل کمیٹی کی رپورٹ کی جانچ پڑتال کی ذمہ داری بی سی سی آئی کو سونپ دی تھی۔

16 اپریل کو سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ بی سی سی آئی کو این سری نواسن اور بارہ دیگر افراد پر لگے الزامات کی جانچ پڑتال کرنی چاہیے۔

عدالت نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ جسٹس مکل مدگل کی رپورٹ پر آنکھیں بند نہیں سکتی۔

اس سے قبل سپریم کورٹ نے ایک سماعت کے دوران این سری نواسن کو بی سی سی آئی کے صدر کا عہدہ چھوڑنے کا مشورہ دیا تھا جس کے بعد ان کی جگہ بھارتی ٹیم کے سابق کپتان سنیل گواسکر کو ایگزیکٹیو صدر بنایا گیا ہے۔

آئی پی ایل کی ٹیم چینّئی سپر کنگز کے مالک اور بی سی سی آئی کے سربراہ این سری نواسن کے داماد گروناتھ ميپّن ان تمام حکام، کھلاڑیوں اور سٹے بازوں میں شامل ہیں جن کے خلاف آئی پی ایل میں سپاٹ فکسنگ کے تحت دھوکہ دہی اور مجرمانہ سازش کے الزام ہیں اور تحقیقات جاری ہیں۔

گذشتہ برس آئی پی ایل کے دوران سپاٹ فکسنگ کا معاملہ اس وقت سامنے آیا تھا جب راجستھان رائلز کے تین کھلاڑیوں ایس شری سانت، انكت چوہان اور اجیت چنڈيلا کو دہلی پولیس نے گرفتار کیا تھا جس کے بعد ممبئی پولیس نے مزید گرفتاریاں بھی کی تھیں۔

اسی بارے میں